آر سی پی سنگھ کے وزارت میں شمولیت کے بعد نئے پارٹی صدر کے حوالے سے قیاس آرائیاں

پٹنہ:مرکز ی وزارت میں جے ڈی یوکے سربراہ آر سی پی سنگھ کی حلف برداری اوروزارت و عہدہ سنبھالنے کے بعد بہار کی سیاست گرما گئی ہے۔ اس عہدے کے لیے جو اہم نام سامنے آر رہے ہیں ان میں جے ڈی یو پارلیمانی امور کے چیئر مین اور ایوان بالا بہار قانون ساز کونسل کے رکن سابق مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا کا نام سرفہرست ہے ، اس کے علاوہ مونگیر کے رکن پارلیامنٹ راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کا نام بھی زیر بحث ہے۔لیکن اگر کشواہا قومی صدر بن جاتے ہیں تو پھر تنظیم میں اوپر سے نیچے تک بہت سی تبدیلیاں لانا پڑسکتی ہیں۔مرکزی وزارت کی دوڑ میں للن سنگھ بھی تھے اور ان کے بارے میں تقریباً طے تھا لیکن عین وقت پر وزیراعظم کی طرف سے محض ایک کو وزارت میں شامل کرنے کی بات کہی گئی۔25ماہ قبل جب مودی حکومت دوبارہ عہدہ سنبھال رہی تھی تواس بار بھی جے ڈی یو کو محض ایک سیٹ دی جارہی تھی جس پر وزیراعلیٰ نتیش کمار راضی نہیں ہوئے تھے لیکن اس بار حالات بدلے ہوئے ہیں۔ بہار اسمبلی میں این ڈی اے میں بڑے بھائی کا رول بی جے پی ادا کررہی ہے۔ اس کے 73ارکان ہیں جبکہ جے ڈی یو کے محض 42ارکان ہیں۔ اس لئے اس بار مجبوری ہے۔ آر سی پی سنگھ کو وزارت بھی بہت اہم نہیں دی گئی ہے۔اوپیندر کشواہا جو نئے قومی صدر کے دوڑ میں آگے چل رہے ہیں وہ کوئری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اوپیندر کشواہا کو نتیش کمار نے پہلے ہی جے ڈی یو پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین بنا دیا ہے۔