رضاکارانہ طورپرتبدیلی مذہب یاشادی پر پابندی نہیں ہونی چاہیے،لوجہاد پرقانون سے پہلے نائب وزیراعلیٰ نے بی جے پی کی پریشانی بڑھائی

چنڈی گڑھ:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے زیر اقتدار ہریانہ کی منوہر لال کھٹر حکومت ریاست میں مبینہ تبدیلی مذہب کوروکنے کے لیے اسمبلی میں نیا ’لوجہاد‘ بل پیش کرنے جارہی ہے ، لیکن مرکزی حلیف ،جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی) اور ریاست کے نائب وزیراعلیٰ دوشینت چوٹالہ نے ’لوجہاد‘ کے لفظ پر اعتراض کیا ہے۔ چوٹالہ نے بتایاہے کہ وہ’لوجہاد‘ کی اصطلاح سے اتفاق نہیں کرتے ، جو دائیں بازوکے مسلمان مرد ہندو خواتین کے جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاہے کہ میں’لو جہاد‘کے لفظ سے اتفاق نہیں کرتا۔ جبری تبدیلی مذہب کی تحقیقات کے لیے ہم خاص طور پر ایک قانون ڈھونڈیں گے اور ہم اس کی حمایت کریں گے۔ اگر کوئی رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کرتا ہے یا کوئی اوراگر کسی کے ساتھی سے شادی کرلیتا ہے تو پھر اس پرکوئی پابندی نہیں ہے۔دشینت چوٹالہ کاتبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر بی جے پی کے موقف سے پہلے ہی جننائک جنتا پارٹی اور دشینت چوٹالہ ناخوش ہیں۔ چوٹالہ نے کسانوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ چوٹالہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کسانوں کی باتیں نہیں سنی گئیں تو وہ حکومت سے استعفیٰ دے دیں گے۔ادھر چوٹالہ نقصان پر قابو پانے کی کو شش میں ہیں۔انہوں نے چنڈی گڑھ میں مسلم رہنماؤں سے ایک اہم ملاقات کی۔ جے جے پی کے اقلیتی سیل کے سربراہ ، محسن چودھری نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے رہنما دوشینت چوٹالہ کے ساتھ میوات کے لوگوں کی ایک میٹنگ کی۔ انہوں نے اسمبلی میں پیش کیے جانے والے نئے قانون کے بارے میں ہمارے خدشات کو سنا اور اس پرمثبت اعتماددیا ہے۔معلومات کے حق کے تحت موصولہ اطلاعات کے مطابق ہریانہ میں گذشتہ تین سالوں میں بین المذاہبی تعلقات کی وجہ سے چار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے دو میں پولیس نے ایف آئی آر منسوخ کردی ہے ، جبکہ تیسرے میں عدالت نے ملزم کو بری کردیا ہے اور چوتھا تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ یہ آر ٹی آئی پانی پت کے رہائشی پی پی کپور نے دائر کی تھی۔ یہ تمام معاملے ریاست کے امبالا ، پانی پت اور نونہ اضلاع میں درج کیے گئے تھے۔