رسول اکرم ﷺبچوں کے درمیان ـ مولانا شاداب تقی قاسمی

آپﷺ یوں تو انسانیت کے ہر طبقہ سے محبت اور حسن سلوک کیا کرتے تھے ،لیکن خاص طور پر بچو ں کے ساتھ انتہائی پیار اور شفقت سے پیش آتے تھے، اپنی گوناگوں مصروفیات اور ان گنت ذمہ داریوں کے باوجود بچوں کے لئے وقت نکالا کرتے تھے ،کبھی ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے نظر آتے، تو کبھی ان کے کی دلجوئی کرتے ہوئے دکھائی دیتےاور کبھی ان کی تربیت کرتے ہوئے ہوتے۔آئیے ذیل میں دیکھتے ہیں کہ ر سول اکرم ﷺ بچوں کے درمیان کس طرح ،کس انداز سے رہاکرتے تھے:

اولاد واحفاد کے درمیان:
نبی ٔ رحمت ﷺاپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کے ساتھ بے انتہا محبت کیا کرتے تھے ،اپنی اولاد میں حضرت فاطمہؓ سے بہت والہانہ انداز سے پیش آتے تھے، جب حضرت فاطمہؓ حاضر ہوتیں تو آپ ان کے لیے کھڑے ہوتے ، ان کا ہاتھ تھامتے ، بوسہ دیتے ، انھیں اپنے دائیں طرف بیٹھاتے اور کبھی ان کے لئے اپنا کپڑا بچھادیتےrasule akram ، (کنز العمال : ۳۴۰۹) حضرت ابراہیمؓ جو آپﷺ کے فرزند ہیں ،جنہوں نے کم عمری میں وفات پائی تھی ،ان کےساتھ آپ ﷺکا اتنا گہرا تعلق تھا حضرت ابراہیمؓ کو جو خاتون دودھ پلاتی تھیں وہ مدینہ میں تین میل کے فاصلہ پر عوالی کے علاقہ میں تھیں ، آپ ﷺوہاں تشریف لے جاتے ، ان کا بوسہ لیتے اور ان کو سونگھتے ، پھر وہاں سے واپس ہوتے ۔(مسلم : ۲۳۱۶)حضرت ابراہیم ؓ ہی کا جب انتقال ہوا تو آپ ﷺنے ان کو مخاطب بناتے ہوئے فرمایا : اے ابراہیم ! اگر موت برحق بات نہیں ہوتی ، اللہ کا وعدہ سچا نہیں ہوتا ، اور ایک دن سب کو جمع کرنے والا نہیں ہوتا ، عمر محدود نہیں ہوتی اور وقت مقررہ طے نہیں ہوتا ، تو تمہاری جدائی پر مجھے اس سے بھی زیادہ غم ہوتا ، اے ابراہیم ! ہم غم زدہ ہیں ، آنکھیں آنسوبہاتی ہیں ، دل غمگین ہے ؛ لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہہ سکتے ، جو پروردگار کو ناراض کردے ۔پھر حضرت ابراہیم ؓکی وفات کے بعد آپ ﷺنے لوگوں سے کہا : جب تک میں اسے دیکھ نہ لوں ، کفن میں نہ لپیٹنا ، آپ تشریف لائے ، ان پر جھک گئے اور رونے لگے ، ( مسلم۲۳۱۵)آپ ﷺ جس طرح اپنے بچوں سے محبت کرتے تھے اسی طرح اپنےنواسوں سے بھی الفت رکھتے تھے ،نواسوں میں خصوصا حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ سے تو آپ کا تعلق انتہائی درجہ مشفقانہ اور مربنیانہ تھا،یہاں تک کہ دوران نماز بھی اگر کوئی آپ کی پشت مبارک پر بیٹھ جاتے تو آپﷺ سجدہ طویل فرماتے،چناں چہ حضرت شداد بن ہاد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ظہریا عصر میں سے کسی نماز کے لئے باہر تشریف لائے تو حضرت حسنؓ یا حضرت حسینؓ کو اٹھائے ہوئے تھے آگے بڑھ کر انہیں ایک طرف بٹھادیا اور نماز کے لئے تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی سجدے میں گئے تو اسے خوب طویل کیا میں نے درمیان میں سر اٹھا کر دیکھاتوبچہ نبی ﷺ کی پشت پر سوار تھا اور نبی ﷺ سجدے میں تھے میں یہ دیکھ کر دوبارہ سجدے میں چلا گیا نبی ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آج تو آپ نے اس نماز میں بہت لمبا سجدہ کیا ہم تو سمجھے کہ شاید کوئی حادثہ پیش آگیا ہے یا آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے نبی ﷺ نے فرمایا ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا البتہ میرا یہ بیٹا میرے اوپر سوار ہوگیا تھا میں نے اسے اپنی خواہش کی تکمیل سے پہلے جلدی میں مبتلا کرنا اچھا نہ سمجھا۔(مسند احمد:۱۵۴۵۹)اسی طرح کا ایک واقعہ آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کی لڑکی حضرت امامہ ؓ کے سلسلہ میں بھی ملتا ہے کہ آپ امامہ بنت زینبؓ کو (بعض اوقات)نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوئے ہوتے ،جب سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھالیتے۔(بخاری:۵۱۶)حضرت یعلیٰ بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین ؓ گلی میں کھیل رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ لوگوں سے آگے نکل گئے، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے، حسین ؓ بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے، اور نبی اکرم ﷺ ان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا، اور فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں۔

دیگر بچوں کے درمیان:
ٓٓآپ ﷺ اپنی اولاد کی علاوہ دوسرے بچوں کے ساتھ بھی رحم دلی اور شفقت کا معاملہ فرماتے،ان کی پیدائش پر تحنیک فرماتے،اور ہر وقت ان کا خیال کرتے ،یہی وجہ تھی کہ بچوں کو بھی آپ سے گہرا لگاؤ تھااور وہ بھی خدمت اقدس میں حاضر ہونے کو سعادت مندی سجھا کرتے تھے۔حضرات صحابہؓ کی عادت تھی کہ جب بھی ا ن کے یہاں اولاد ہوتی تو آپﷺ کے پاس لے آتے ،آپ بڑی محبت سے بچے کو لیتے،اسے چومتے،ان کی تحنیک فرماتے ،درست نام رکھتےاور برکت کی دعا فرماتے۔چناں چہ حضرت ابوموسی اشعریؓ فرماتے ہیں کہ:میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،نبی ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھااور کھجور کو اپنے دندان مبارک سے نرم کرکے اسے چٹایااور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔(بخاری:۵۴۶۷)حضرت اُم خالدؓ ہمیشہ اپنے ایک واقعہ کا ذکر کرتی تھیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے زرد رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی ، آپ ﷺنے فرمایا : ’’ سَنَہْ سَنَہْ ‘‘ یعنی : اچھا ہے ، اچھا ہے ، میں آپ کی مہر نبوت (جو دونوں مونڈھوں کے درمیان تھیں ) سے کھیلنے لگی ، میرے والد نے مجھے منع کیا ، آپ ﷺنے فرمایا : چھوڑ دو ، پھر آپ ﷺنے مجھے تین دفعہ دُعاء دی :’’ پرانا اور بوسیدہ کرو ‘‘ یعنی یہ کپڑا بہت دنوں تک تمہارے کام آئے ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۳۰۷۱) بعض مرتبہ تو ایسا بھی ہوتا کہ بچوں کو آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا اور وہ آپﷺ کی گود میں ہی پیشاب کردیتے،لیکن آپ ﷺ کبھی اس پر ناگواری کا اظہار نہیں فرماتے بلکہ پانی طلب فرماکر اسے صاف کردیتے۔بچوں کے ساتھ رعایت کا حال یہ تھا کہ دوران نماز جب بچوں کے رونے کی آواز آپ ﷺ کے کانوں میں پڑتی تو آپ ﷺ نماز جیسی عبادت کو تک مختصر فرمادیتے ۔چناں چہ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کردیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہوگی ۔(ابن ماجہ:۹۸۹)

بچوں کے ساتھ خوش طبعی:
ٓآپ ﷺ کبھی کبھی بچوں کے ساتھ خوش طبعی بھی فرمایا کرتے تھے،دل لگی کے لیے کبھی کوئی ایسی بات یا کام کرتے کہ جس سے بچوں میں آپ ﷺ سے تعلق میں تکلف ختم ہوجاتا۔چناں چہ حضرت انس ؓفرماتےہیں کہ: نبی کریم ﷺ ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر سے (مزاحاً ) فرماتے ’’ يا أبا عمير ما فعل النغير ‘‘اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟ (بخاری:۶۱۲۹) حضرت محمود بن الربیع بیان کرتے ہیں کہ:مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈول سے منھ میں پانی لے کر میرے چہرے پر کلی فرمائی،اور میں اس وقت پانچ سال کا تھا۔(بخاری:۷۷)

تربیت کا نرالا انداز:
ٓآپ ﷺ جہاں بچوں سے ٹوٹ کر محبت کیا کرتے تھے وہیں ان کی دینی تربیت کا بھی خاص خیال رکھا کرتے تھے،جہاں ٹوکنا ہوتا وہاں ضرور تنبیہ فرماتے اور جہاں سمجھانا ہوتا وہاں دبے الفاظ میں سمجھادیتے،چناں چہ حضرت عمر بن ابی سلمہؓ اپنی والدہ اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ کے ساتھ رسول اللہ ﷺکی پرورش میں تھے ، ایک بار آپ ﷺکے ساتھ کھانا کھارہے تھے اور بچوں کی عادت کے مطابق کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے لقمہ اُٹھاتے تھے ، آپ ﷺنے نرمی کے ساتھ ان کو کھانا کھانے کا طریقہ بتایا : اے بچے ! بسم اللہ کہو ، داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھایا کرو۔ (بخاری : ۵۰۶۱) (ایک مرتبہ) حضرت حسن اور حسین ؓ ایسی ہی کھجوروں سے کھیل رہے تھے کہ ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی۔ رسول اللہ ﷺنے جونہی دیکھا تو ان کے منہ سے وہ کھجور نکال لی۔ اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد ﷺ کی اولاد زکوٰۃ کا مال نہیں کھا سکتی۔(بخاری:۱۴۸۵)

الغرض رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں اور بھی بہت سےایسےواقعات ملتے ہیں کہ جس میں آپ ﷺ کا بچوںکے ساتھ مشفقانہ رویہ اور ہمدردانہ کردار نظر آتاہے۔اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سیرت کے ا س پہلو پر نظر رکھتے ہوئے بچوں سے محبت کرنے والے بنیں ،ان کی ضروریات کا خیال رکھیں ،ان کے ساتھ وقت گزاریں،ان کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں،ان کے جذبات کا بھرپور لحاظ رکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی دینی تربیت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*