رسیدی ٹکٹ:ایک ناولانہ آپ بیتی-ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

خوشونت سنگھ نےایک بار امرتا سےکہا تھا: ” تمہاری سوانح کا کیا ہے، بس ایک حادثہ !لکھنے بیٹھو تو رسیدی ٹکٹ کی پشت پر درج ہو جائے ”(ص : 7) ”رسیدی ٹکٹ” پنجابی زبان کی عالمگیر شہرت یافتہ شاعرہ اورناول نگارامرتا پریتم کی خود نوشت سوانح ہے۔ یہ ناولانہ طرز کی ایک مختصر آپ بیتی ہے۔ اس میں حالات کم اور مشاہدات زیادہ ہیں ۔کیوں کہ ” جو کچھ بیتا تھا ، دل کی تہوں میں بیتا تھا اور وہ سب کچھ نظموں اور ناولوں کے حوالے ہوگیا ، پھر باقی کیا رہا ؟ پھر بھی کچھ سطور لکھ رہی ہوں ” امرتا نے بڑے والہانہ انداز میں اپنی روداد ِ زندگی اورداستان ِ عشق رقم کی ہے اور زندگی کی حقیقت اور سراب کو بڑا خوبصورت تحریری پیراہن عطاکیا ہے۔
کسی ملک کا بٹوارا ایک خطے کے محض دو ٹکڑوں کا نام نہیں؛ دراصل ایک جسم کا دو ٹکڑے ہوجانا ،ایک دماغ کا دو حصوں میں بنٹ جانا اور ایک دل کا دو لخت ہوجانابھی ہے۔بالفاظ ِ دیگر تقسیم ِ ہندکا مطلب بیس لاکھ سے زائد انسانی جانوں کا تلف اور اسی قدر خاندانوں کی شکست و ریخت ہے ۔آگ کے اس دریا سے گزرنے والوں میں ایک نام امرتا کا بھی ہے ۔ امرتا نے اپنی آپ بیتی کا آغاز ہی ” قیامت کا دن "سے کیا ہے ۔ گرچہ اس نے اس میں اپنی پیدائش کے محرکات بیان کیے ہیں۔
امرتا 1919میں پیدا ہوئی ، گیارہ سال کی عمر میں ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا ،نانی نے پالا پوسا اور سولہ کے سن میں پریتم سنگھ سے بیاہ دی گئی حالاں کہ امرتا کو اس شادی اور سیاں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ان ہی ایام میں اس کے اندر کا باغی آنکھیں کھولنے لگتاہے۔ اس کی ایک جھلک امرتا یوں بیان کرتی ہے : ” رسوئی میں نانی کی حکومت ہوتی تھی ۔ سب سے پہلی بغاوت میں نے اس کی حکومت میں کی تھی ۔ دیکھتی تھی باورچی خانہ کی ایک پرچھتی پر تین گلاس ، باقی برتنوں سے الگ تھلگ ، ہمیشہ ایک کونے میں رہتے تھے ۔ یہ گلاس صرف اس موقع پر زیریں چھت سے اتارے جاتے تھے جب والد کے مسلمان دوست آتے تھے اور ان کو لسی چائے پلانا ہوتی اور اس کے بعد مانجھ دھوکرپھر وہیں رکھ دیے جاتے تھے ۔ سو تین گلاسوں کے ساتھ میں بھی چوتھے گلاس کی طرح شامل ہو گئی اور ہم چاروں نانی کے ساتھ لڑ پڑے ۔ وہ گلاس بھی باقی برتنوں کو نہیں چھو سکتے تھے ، میں نے بھی ضد پکڑ لی کہ میں کسی دوسرے برتن میں نہ پانی پیوں گی ، نہ دودھ چائے ۔ نانی ان گلاسوں کو الگ رکھ سکتی تھی مگر مجھ کو بھوکا پیاسا نہ رکھ سکتی تھی ، اس لیے بات والد تک پہنچ گئی ۔ والد کو ا س سے قبل معلوم نہ تھا کہ کوئی گلاس اس طرح علیحدہ رکھے جاتے ہیں ۔ ان کو پتہ چلا تو میری بغاوت کامیاب ہوگئی ۔ پھر نہ کوئی برتن ہندو رہا نہ مسلم ۔ اس گھڑی نہ نانی کو معلوم تھا نہ مجھ کوکہ بڑی ہوکر زندگی کے کئی سال جس کے مونہہ کو عشق کروں گی ، وہ اسی مذہب کا ہوگا جس مذہب کے لوگوں کے لیے گھر کے برتن بھی اچھوت بنا دیے گئے تھے ” (ص: 7-8)
تقسیم ہند کے دریائے آتش سے امرتا کو بھی گزرنا پڑا تھا ، اپنی آنکھوں سے انسان کو بے انسان ہوتے ہوئے دیکھا تھا ، خود آدم کے بیٹوں نے اپنی بہنوں کی بے آبروئی کاجو تماشا کیا تھا ، اس آتش فشاں منظر کی بھی وہ گواہ تھی ۔دونوں ملکوں کے مہاجرین اپنے اپنے ساتھ ایک روگ لے کر اِدھر سے اُدھر گئے یا اُدھر سے ادھر آئے لیکن امرتا اُدھر سے ادھر دو دو روگ لے کر آئی تھی ۔ ایک ہجرت کا روگ دوسرا عشق کا روگ ۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے یہ دونوں اس کے لیے بجائے مرض کے جسم و دماغ کی صحت کا ضامن بن گئے۔ اس لیے کہ امرتا کو ہجرت کے کرب نے نہ تو انسان سے بے انسان کیا اور نہ عشق نے مجذوب ۔ امرتا کے طلوع ِ عشق کا منظر دیکھیے : ” دل کی تہوں میں سب سے پہلا درد جس کے چہرے کی تابانی میں دیکھا ، وہ اس مذہب کا تھا جس مذہب کے لوگوں کے لیے گھر کے برتن بھی اچھوت قرار دیے جاتے تھے ؛یہی چہرہ تھا جو میرے اندر کے انسان کو اتنا فراخ بنا گیا کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ، تقسیم کے ہاتھوں تباہ ہوکر بھی دونوں مذاہب کے ظلم بنا کسی رعایت یا جانبداری کے تحریر کرسکی ۔ یہ چہرہ نہ دیکھا ہوتا تو ” پنجر ” ناول کی تقدیر جانے کیا ہوتی "۔(ص : 20-21)
پنجابی ادب میں پہلی خاتوں کو جب ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تو وہ امرتا ہی تھی ۔ امرتا نے یہ نظم اپنے عشق کے لیے لکھی تھی ۔ پریس والے انٹرویو کے لیے آئے لیکن امرتا پر عشق کی ساحری کا یہ عالم تھا کہ وہ سامنے میز پر پڑے کاغذ پر بجائے ضروری بات لکھنے کے ساحر ساحر ہی لکھتی رہی اور پریس والے واپس چلے گئے ۔ (ص : 21)ساحر جیسی سحر انگیز شخصیت کا سحر امرتا کے کئی ناول اور نظموں میں محسوس کیا جاسکتا ہے ۔اس نےاپنے ناول ‘ اشو ‘ ، ‘ایک سی انیتا ‘اور ‘دلی دیاں گلیاں ‘ ، اور نظم ‘ سنیہرے ‘میں بطور خاص ساحر کا ذکر کیا ہے ۔
امرتا کے اعصاب پر ہمیشہ عورت کی بجائے ادیب چھایا رہتا تھا لیکن تین مواقع ایسے ہیں کہ اس کی عورت ادیب کو پچھاڑ دیتی ہے ۔ پہلی بار ماں بننے کے وقت ماں بننے کا خوشگوار تصور کرکے ، دوسری بار ساحر کی تیمارداری کے وقت اسے چھو کر اور تیسری دفعہ جب امروز اپنے برش سے امرتا کی پیشانی پر لال بندیا لگا دیتا ہے۔
امرتا کہتی ہے میری زندگی کے تین پڑاؤ ہیں ۔ پہلا لاشعور ، دوسرا شعور ، تیسرا دلیری اور چوتھا تنہائی ۔اس فنکار کی زندگی بڑی پیچیدہ واقع ہوئی ہے ، ہر دوچار قدم پہ گہری کھائیوں سے اسے گزرنا پڑا ہے ، بچپن بھی بچپن کا سا نہیں گزرا ، شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی شادی کی بندھن سے بندھ گئی ، بندھن اس لیے بھی کہ شادی مرضی کے خلاف تھی اور پورے 23 برس کے اس مجاہدے سے گزرکر 1960 میں اس سے مکت ہوئی لیکن کس کے لیے ؟ اس کے لیے جس کی تصویر اپنے بیٹے کے چہرے میں دیکھ رہی تھی یا جس کے جھوٹھے سگرٹ کے لمس کو اسی کا لمس محسوس کرتی تھی ؟؟ جی ہاں اسی کو پانے کے لیے امرتا نے اتنی بڑی قربانی دی تھی لیکن دوسرے ہی لمحے معلوم ہوا کہ اس ہستی کو کسی تیسرے کی نظر لگ گئی ۔ پھر امرتا نے کافی دنوں تک تپسیا کیا اور بہت سوچ سمجھ کر ایک ایسی راہ اختیار کی جو عشق اور شادی کے بیچ کی راہ تھی یعنی اپنے سے ساڑھے چھ سال چھوٹی عمر کے اندرجیت امروز کے ساتھ زندگی بتانے کا فیصلہ کیا ، اس البیلے دوستانےکا رشتہ زندگی کے آخری لمحے(2005)تک برقرار و خوشگوار رہا ۔ یہ سچ ہے کہ امرتا کی پہلی اور آخری محبت ساحر ہی رہا ۔ شوہر کے بارے میں اس نے کہا : "اس کی چھاؤں میں نے غدر کے مال کی طرح چرائی ہوئی ہے ، یہ واپس کرنی ہے ، واپس کرنی ہے "(31)اس لیے اس نے واپس کردی ۔یہ بھی سچ ہے کہ امروز کو امرتا سے عشق تھا ۔ امروز نے ” ایک بار ہنس کر کہا تھا :ایمو! اگر تجھے ساحر مل جاتا ، پھر تم نے نہیں ملنا تھا !۔۔۔اور وہ مجھے ، مجھ سے بھی آگے اپنا کر کہنے لگا ۔۔۔ ” میں نے تو ضرور ملنا تھا ، چاہے تمہیں ۔۔۔ساحر کے گھر نماز پڑھتی کو جا ڈھونڈتا ! ” (ص : 85)امروز کو وہ اپنی دوسری جوانی بھی کہتی تاہم وہ ساحر کے علاوہ کسی سے عشق نہ کر سکی۔ 1960 کے بعد امرتا نے کہا تھا : "المیہ یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنے عشق کے ٹھٹھرتے بدن کے لیے ساری عمر گیتوں کے پیراہن سیتے رہیں ؛ المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان پیراہنوں کو سینے کے لیے آپ کے پاس خیالوں کا دھاگا ختم ہوجائے اور آپ کی قلمی سوئی کی نوک ٹوٹ جائے "۔ (38)
امرتا نے اپنی اس آپ بیتی میں اپنے بہت سے حاسدین اور دوست نما دشمنوں کا بھی ذکر کیا ہے لیکن یہ سخت جان ہر ٹھوکر کے بعد مزید مضبوط ہوجاتی ہے گویا یہ اس کے لیے ٹھوکر نہیں ؛ ٹانک ہو ۔ اس نے بحیثیت ِ شاعر و ادیب دنیا بھر کی سیر کی ۔ وہاں کی محبتیں اور وہاں کے مشاہدات بھی شئیر کیے ہیں ۔امرتا نے اپنی کہانیوں کے بہت سے کردار کو خود سے ہم رشتہ کرکے بھی دکھایا ہے ۔ اپنی واحد دوست اوتار کا ذکر بھی بڑی محبت سے کیا ہے اور اسے اپنی زندگی کی تسلی قرار دیا ہے ۔ امرتا کے نزدیک آزادی کا مطلب وہ نظام ہے ‘جو عام معمولی لوگوں کو بھی زندگی کے معنیٰ دے لیکن جس میں کسی کی انفرادیت نہ گم ہو ‘ (61)ایک قیمتی بات اس نے یہ بھی کہی: ” جس ملک میں جاتی ہوں وہاں کی کم سے کم دس عمدہ نظموں اور کچھ کہانیوں کا ترجمہ ضرور کرتی ہوں ۔ اس لیے ان ملکوں کے ادیبوں کے بارے میں مجھے کچھ واقفیت حاصل ہوجاتی ہے ” ۔ (59)ایک بار ٹیلی ویژن انٹرویو میں ریوتی سرن شرما نے امرتا سے ایک سوال کیا : ” امرتا ! تمہارے ناولوں کی لڑکیاں اپنے سچ کی تلاش میں بنے ہوئے گھر مسمار کردیتی ہیں ۔ کیا یہ سماج کے لیے نقصان دہ نہیں ؟ ۔۔۔بےساختہ زبان پر جواب آیا تھا” ریوتی جی ! آج تک جتنے گھر ٹوٹتے رہے ہیں جھوٹ کے ہاتھوں ٹوٹتے رہے ہیں ۔ اب کچھ سچ کے ہاتھوں بھی ٹوٹ لینے دیجیے ” ۔ (80)
اخبارات نے بھی جھوٹ پھیلانے اور امرتا کو اذیت پہنچانے میں بڑی سخاوت کا مظاہرہ کیا تھا ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہی جھوٹے اخبار امرتا کی موت کے بعد اس کا جھوٹا ماتم کریں ۔ ” میری مٹی کو صرف میرے بچوں کے اور امروز کے ہاتھ کافی ہیں۔۔۔چاہتی ہوں !امروز میری مٹی کے پاس میرا قلم رکھ دے "۔ (ص : 134)
1980 میں ساحر کا انتقال ہوگیا ۔ امرتا اس سے عشق کی ساحری میں تاعمر مبتلا رہی اور اپنی ہر نظم اور ہر ناول کے ذریعے محبت و انسانیت کی خوشبو بکھیرتی رہی ۔ ان ہی تجربات و احساسات کا ایک خوبصورت البم یہ کتاب ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*