راشٹرواد کو لے کر بھرم اور اس کا ازالہ ـ عبد الحمید نعمانی

 

مشترکہ آبادی میں مشترکہ بنیادوں پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوسکتی ہے ،بھارت جیسے مشترکہ آبادی اور مختلف مذاہب و نظریات والے ملک میں اس کے تمام باشندوں کے لیے ، وطن اور اس کا جمہوری غیر جانب داری پر مبنی منصفانہ آئین مشترکہ بنیاد ہیں ، بھارت کسی ایک مذہب یا کمیونٹی کا ملک نہیں ہے ، وہ تمام مذاہب اور کمیونٹیز کا ہے ، اس لیے یہاں پر صرف وہی راشٹرواد صحیح اور بھارت کی روایت کے موافق ہوگا جو وطن اور تمام باشندوں کے جذبۂ حب الوطنی اور مثبت انسانی تعلقات پر مبنی ہو ، اس میں دیگر سے نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ، جس راشٹرواد میں دوسرے کے لیے نفرت و عداوت ہو اور انسانی تعلقات کے لیے رکاوٹ ہو وہ راشٹر واد بہ قول منشی پریم چند ،سماج کا کوڑھ ہے ،سنگھ اور ہندو مہاسبھا کا ہندو کمیونٹی پر مبنی راشٹر واد کے لیے بھارت اور اس کے آئین میں کوئی جگہ اور گنجائش نہیں ہے اس راشٹر واد کا کوئی مطلب نہیں ہے جس میں تمام باشندوں کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص کمیونٹی کو راشٹرواد کے ہم معنی اور بنیاد بناکر وطن کی تعمیر و تشکیل کی بات کی جائے ، اس تصور کے ساتھ وشو گرو (عالمی معلم )کی بات بالکل بے معنی ہے۔ اس میں جب دوسروں کے لیے جگہ نہیں ہے تو عالمی معلم اور بین الاقوامی تعلقات کو بہتر طور سے بنائے رکھنے کی بنیاد کی تلاش نہیں کی جاسکتی لیکن گزشتہ ایک عرصے سے اسی بے بنیاد نظریے پر نئے بھارت کی تشکیل کی مہم وسعی کی جارہی ہے ، جناح اور ان کے کچھ رفقاء و حامیوں کے مذہبی تصور قومیت کے پیش نظر آزاد بھارت کے مسلمانوں کے متعلق وطن مخالفت سوچ کا حامل قرار دینا سراسر ایک جارحانہ ونفرت انگیز عمل ہے ، اس سے وطن کی ترقی و تعمیر میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور باہمی فرقہ وارانہ نفرت بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ گرو گولولکر کی کتاب Bunch of thought 1966 میں شائع ہوئی تھی ۔ اس کا ہندی اڈیشن ،وچار نونیت کے نام سے شائع ہونے کے بعد سے باہمی فرقہ وارانہ نفرت و بے اعتمادی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا اور وسیع ہوتا جارہا ہے ، دوسری طرف ایشوز کے بجائے ملت کے نام پر سیاست کرنے سے فرقہ پرست عناصرکو نفرت و غلط فہمی پھیلانے کا موقع و سہارا مل جاتا ہے ،لیکن اس سلسلے کی بنیاد گرو گولولکر وغیرہ جیسے جارحانہ ہندوتووادیوں رہ نماﺅں کے بیانوں و تحریروں میں بہت پہلے سے موجود ہے ، گرو گولولکر نے مذکورہ کتاب میں لکھا ہے ‘‘پاکستان بن جانے سے مسلمانوں کا خطرہ سیکڑوں گنا بڑھ گیا ہے،وہ مستقبل میں ہمارے خلاف منصوبہ بندی کے لیے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں ، (مذکورہ کتاب صفحہ 178)ظاہر ہے کہ اس طرح کے جارحانہ فرقہ وارانہ نفرت انگیز تنقید و تبصرہ سے فرقہ وارانہ سطح پر ایک دوسرے کے متعلق بے اعتمادی پیدا ہوگی اور یہ ایک مستحکم و معتمد سماج اور وطن کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ ہے ، حالاں کہ یہ سب جانتے ہیں کہ یہ پورا برصغیرہند ہندوﺅں ،مسلمانوں کے علاوہ مختلف مذاہب کے لوگوں کا مقام سکونت و رہائشی رہا ہے ۔ مختلف فرقوں کے درمیان کچھ باتوں کو لے کر تھوڑی بہت کشیدگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ،لیکن آزاد بھارت کے گزشتہ کچھ وقت سے جس طرح کا تصادم نظر آرہا ہے ایسا قومی سطح پر ہندو ﺅں ،مسلمانوں کے درمیان کبھی نظر نہیں آیا تھا ، بین چند ر اور رومیلا تھاپر کا یہ تجزیہ حقیقت پر مبنی ہے‘‘جدید بھارت سے پہلے کے دور میں ہندوﺅں مسلمانوں نے اگر ایک قوم تشکیل نہیں دی تو انھوں نے ایک ہی جات ،مذہب پرمبنی سماج بھی نہیں بنائے’’۔
ایسا بعد کے دنوں میں یاتو ساورکر ،گروگولولکرنے کیا یا جناح اور ان کے حامی لوگوں نے ،یہ دونوں طرح کے عناصر اپنے نظریے کے مطابق بہتر نمونے کے سماج کی تشکیل میں بری طرح اور پوری طرح ناکام رہے ہیں ، اس سلسلے میں مولانا مودودی کا نام لیا جاتا ہے،لیکن یہ صحیح نہیں ہے ،وہ تو ساورکر اور جناح و لیگ دونوں کے بر خلاف کہتے رہے ہیں ، نہ وہ ہندوتو مبنی قومیت کو تسلیم کرتے تھے ۔ نہ مسلم کمیونٹی کے مذہب پر مبنی قومیت کو ، وہ تحریک آزادی اور تقسیم وطن کے مطالبے کے تناظر میں مسلمانوں پر قوم کے اطلاق کے ہی خلاف تھے ،مسئلہ قومیت اور مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم میں اس کی تفصیل ہے ، لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ وہ بھی امت مسلمہ اور مسلمانوں پر قوم کے اطلاق کرنے لگے تھے ، کہ وقت کے ساتھ معنی کی تفہیم کے لیے اس کے تقریبی الفاظ کا استعمال ،ایک ضرورت بن جاتا ہے اور اسے غلط بھی نہیں کہا جاسکتا ہے ، ڈاکٹر اسرار احمد نے اس طرح کی باتوں کو لے کر اپنی کتاب‘‘ تحریک جماعت اسلامی ،ایک تحقیقی مطالعہ’’(مطبوعہ تنظیم اسلامی لاہور 2008)میں تنقید و تبصرہ کیا ہے کہ جماعت نے اپنے دور ثانی میں جو طرز عمل اختیار کیا اس نے اس کی ہیت اور نوعیت ہی کو سرے سے بدل کر رکھ دیا ، جب کہ مولانا مودودی نے اسے تحریک کا مرحلہ ثانی و توسیع و عملی اقدام قرار دیا،سوال یہ ہے کہ آدمی جہاں رہتا ہے وہ زمین کا جغرافیائی خطہ وطن ہی ہوتا ہے وہاں کی آبادی کو نظر انداز کر کے کسی نظریے کے حوالے سے بات کیسے کی جاسکتی ہے ، مولانا مودودی نے 1948ءکے ترجمان القرآن کے ماہ اگست تا دسمبرکے شماروں میں درجنوں بار’ مسلمانوں کو بحیثیت قوم’مخاطب کیا ہے ،جب کہ پہلے ان پر قوم کے اطلاق کو صحیح نہیں سمجھتے تھے ، خود محمد علی جناح اور لیگ کے دیگر لیڈر پاکستان میں موجود تمام مذاہب والوں کو بحیثیت قوم پاکستانی قرارد یا ہے، اس کی پاکستان کی کسی بھی تنظیم اور جماعت نے مخالفت نہیں کی ، اس کا مطلب صاف ہے کہ جناح اور لیگ والوں کے دعوے پر مبنی تصور قومیت ناکام ہوچکا ہے ، بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد عملی ثبوت بھی فراہم ہوگیا ہے اور پاکستان میں 1971ءکے بعد سے مسلسل پانچ قومیتوں کا مطالبہ و تذکرہ ہورہا ہے ، جب کہ اگر وطن اور آئین کو مثبت وطنیت کے لیے پیش نظر رکھا جاتا تو ایک متحدہ قومیت تک ہی بات محدود رہتی ، راقم سطورکی کتاب ‘‘ہندوتو اور راشٹرواد’’جب شائع ہوکر منظر عام آئی تھی تو مولانا مفتی رفیع احمد عثمانی کی کتاب،دو قومی نظریہ ،جس پر پاکستان بنا ،ایک صاحب کے ذریعہ ہمیں موصول ہوئی تھی ،مفتی صاحب پوری کتاب میں حضرات شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ ،مولانا آزادؒ،مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمنؒ ،مولانا احمد دہلویؒ وغیرہم کے وطن پر مبنی متحدہ قومیت کو ایک دلیل سے بھی غلط اور غیر اسلامی ثابت نہیں کرسکے ہیں اور مومن و کافر کے فرق کو قومیت کی تفریق کی بنیاد قرار دیا ہے ، ملت میں نظریہ و عقیدہ کی شمولیت ہوتی ہے ، جب کہ قوم اور قومیت کی بات بالکل جدا معاملہ ہے ، انھوں نے اپنی کتاب میں (صفحہ 18)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین مکہ کے لیے دعائے ہدایت جو نقل کی ہے رب اھد قومی اے میرے رب میری قوم کو ہدایت عطا فرما دے ، اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ قوم کی بنیاد مذہب نہیں ہے ، ڈاکٹر اسرار احمد نے پہلے وطنی قومیت پر تنقید کی تھی ، لیکن بعد کے دنوں میں انھوں نے بھی قومیت اور حب الوطنی کی ضرورت کو محسوس کیا ہے ،(استحکام پاکستان اور مسئلہ سندھ صفحہ 123تا124) اقبال کے صاحبزادے جاوید اقبال نے اقبالؒ و مدنیؒ کے تصور قومیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے اور جب ملک بن جائے تو اس کی شناخت جغرافیے سے ہوتی ہے ، (سنڈے میگزین 13اگست 2006)انھوں نے اپنی خود نوشت آپ بیتی ، اپنا گریباں چاک کے آخر باب ، خود کلامی کئی سوالات کرتے ہوئے مولانا مدنیؒ اور مولانا آزادؒ وغیرہ کے موقف و تصور کی واضح تائید کی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جناح ،لیگ اور اس کے حامیوں کا تصور قومیت ناکام ثابت ہوچکا ہے ۔ اسی طرح بھارت میں ساورکر ،گروگولولکر کا ہندو تو پر مبنی تہذیبی راشٹرواد بھی ناکام ہو چکا ہے یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ، وطنیت کا مطلب ہے تمام اہل وطن اور ملک کے باشندوں سے محبت ،اس کے برعکس راشٹر وادکے نام پر بھارت کے باشندوں میں وطنی لحاظ سے تفریق و نفرت ،راشٹر اورراشٹروادکی مخالفت ہے ، یہ وطن مخالف رویہ ہے جو ملک کے مفاد و ترقی کے منافی ہے ، جب کہ مسلم ملت کے لیے حب الوطنی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ اس میں نفرت و تفریق کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے ،یہ اس کے عالمگیر دین ،بین الاقوامیت اور مسلک انسانیت کے تصورات کے تحت آتی ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*