رمضواُٹھائی گیرا( افسانہ ) – ڈاکٹر غلام شبیرر انا

 

سیاہی وال کے نواحی علاقے میں واقع کچی آبادی اُٹھان کھوٹ سے تعلق رکھنے والاپکا مجرم ،ٹھگ اور درِ سفلگی کا چوب دار رمضو اُٹھائی گیرابھی اپنی باری بھر کر سوئے عدم سدھار گیااور دھرتی کا بوجھ اُتر گیا۔عادی دروغ گو ،منشیات فروش اور پیشہ ور ٹھگ رمضو اُٹھائی گیرے کی باطنی خباثت،خست و خجالت اور کینہ پروری سے شہر نا پرساں کے بہت کم لوگ آگاہ ہیں۔ سوچتا ہوں اِس نا ہنجار کی عفونت زدہ کتاب زیست کے ناخواندہ اوراق پر ایک سر سری نگاہ ڈالوں ۔رمضواُٹھائی گیراطویل عرصے سے سیاہی وال ،کالا باغ ،کالا شاہ کاکو ،کالا بالی اور کالی کٹ کے گردو نواح میں واقع محنت کشوں کے پورے علاقے کے لیے نحوست،ذلت،تخریب ،بے غیرتی اوربے ضمیری کی علامت بن گیا تھا۔ رمضو اُٹھائی گیراکا سلسلہ نسب بہرام ٹھگ سے ملتاہے ۔اس کی بیوی قفسہ جو اپنے قحبہ خانے کی رذیل نائکہ تھی زہرہ کنجڑن کی نواسی تھی اور اپنے شوہر کی طر ح سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا تھی ۔ نو آبادیاتی دور میں قفسہ کی ماں امیرن بائی نے اپنے قحبہ خانے کو رقص ،نغمات ،جنس و جنوں اور واہیات قسم کی عیاشی اور فحاشی کے سب افسانوں کا مرکز بنا دیا۔ آخری عہدِ مغلیہ میں دہلی کے قحبہ خانوں کی رذیل طوائف لال کنورجو پہلے تومغل بادشاہ جہاں دار شاہ کی داشتہ تھی مگر اپنے مکر کی چالوں سے اِس نا اہل بادشاہ کی اہلیہ بھی بن گئی تھی وہ امیرن بائی کی پردادی تھی۔اپنے قحبہ خانے کی خرچی کی آمدنی کے نشے میںبھڑوا رمضوبہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتا۔رمضو اُٹھائی گیرے کے شریک جرم ساتھیوں میں تشفی کنجڑا،قفسہ ،امیرن ،مصبو ،شگن ،سمن،شعاع،پونم،صباحت اور شباہت جیسے رسوائے زمانہ بھڑوے اور طوائفیںشامل تھیں جنھیں اپنی بد اعمالیوںپربہت گھمنڈتھا۔ اجلاف و ارذال کا پروردہ رمضو اُٹھائی گیرا جس طرف جاتا مخلوق کی لعنت و ملامت اس گُرگ کا تعاقب کرتی تھی ۔اس درندے کو دیکھ کر لوگ لاحول پڑھتے اور فوراً اپناراستہ بدل لیتے تھے ۔ ضعیفی کے عالم میں بھی رمضو اُٹھائی گیرابے شرمی ،بے حیائی ،بے وقوفی اور بے حسی کی متعفن ردا اوڑھے قہقہے لگاتا ہوا باہر نکلتاتواس کے کریہہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اس کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی علامت بن جاتی ۔شہر کے لوگ جب اس متفنی کواِس کی ذِلت ،تخریب،نحوست ،بے توفیقی اور بے غیرتی کے بارے میں بتاتے تو یہ ہنہنانے لگتا اور اکثر جون ایلیا کا یہ شعر پڑھتا تھا:

بہت ہی خوش ہے دِل اپنے کیے پر

زمانے بھر میں خواری ہو رہی ہے

سیاہی وال کے مغرب میں جموں سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والا دریائے جہلم بہتا ہوا جنوب کی طرف جاتاہے ۔راستے میں ایک قدیم سڑک ہے جو شیر شاہ سوری( فریدخان ) کے حکم پر سال ۱۵۴۰ء میں بنائی گئی ۔گاوٗں بھون سے آگے نکلیں تو جنوبی سمت میں اس سڑک پر ایک قدیم اورشکستہ سا پُل ہے جسے مقامی لوگ’ بھاگو کراری والا پُل ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں ۔ کئی صدیاں پہلے اس پُل کے نیچے دریائی پانی کی گز ر گاہ کے لیے بنائے گئے درے بند کر کے ایک کوٹھڑی سی بنائی گئی تھی ۔ اس کو ٹھڑی میں دِن کی روشنی میں بھی شبِ تاریک کا سماں ہوتاہے ۔ اس تنگ وتاریک کال کوٹھڑی میں زمین پر ٹیکسلا کے کالے پتھرسے کسی ماہر سنگ تراش کا بنایا ہوا مگر مچھ کا ایک مجسمہ رکھا ہے ۔ اس مجسمے کی پُشت پر اِسی پتھر سے بنائی گئی ایک عورت کی مُورتی کھڑی ہے جس کی زبان لمبی ہے اور اس نے ہاتھ میں تلوار تھام رکھی ہے ۔اس مورتی کے گلے میں انسانی کھوپڑیوں سے تیار کی ہوئی ایک مالا لٹکی رہتی تھی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تباہیوں ،بر بادیوں ،جنسی جنون،تشدد اور ہلاکتوں کی علامت ’’ کالی دیوی ‘‘ کا مجسمہ ہے ۔ تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل پر نظر رکھنے والے محقق اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ صدیوں پہلے اس پُر اسرار پُل کے نیچے کسی آدم خور عفریت کا بسیرا تھا۔اس علاقے کے چرواہے اس پُل کے بارے میں سب حقائق سے آگا ہ ہیں ۔ایک ضعیف چرواہے کھالو نے اپنی سر گزشت اور چشم دید واقعات کے حوالے سے بتایا :

’’ یہ پُل طویل عرصہ تک کہرام ٹھگ ،رمضو ،تشفی ،ایازو ،رموں،رازو اور نازی جیسے خطرناک ڈاکووں کی پناہ گا ہ رہی ہے ۔یہ بے رحم قاتل مسافروں کو لُوٹ کر ان کو قتل کر دیتے اور اجل گرفتہ مسافروں کی ہڈیاں ہر طرف بکھر جاتی تھیں ۔رمضو اُٹھائی گیرا ایک خطرنا ک ڈاکو اور سفاک قاتل تھا جس نے سیاہی وال ،کالا باغ اورساجھووال کے علاقے میں دہشت کی فضا پیدا کر ر کھی تھی ۔اس کی بیٹیاں بھی اس کی شریکِ جرم ساتھی رہی ہیں ۔رمضو اُٹھائی گیر ااور اُس کے ساتھی سب کے سب اہلِ جور اور لٹیرے تھے جوزمین کا بوجھ بن گئے تھے۔اِن ظالموں نے کئی بار میری بھیڑیں ،بکریاں اور دُنبے چوری کیے اور پُل کے نیچے بیٹھ کر بُھون کر کھائے ۔ بھڑوا رمضو ، ایازو ،رازی ،نازی ،نائکہ قفسہ ،مصبو طوائف ،سموں ،شگن ،ساحرہ ، خاتمی اور جامنی ہی عفریت ، آسیب ، بُھوت ،چڑیلیں اور ڈائنیں ہیں ۔ ‘‘

دریائے جہلم میدانی علاقے میں بہتا ہوا سیاہی وال کے جنوب میں واقع گاؤں ساجھوال پہنچتاہے جہاں اس دریا کے مشرقی کنارے پر تین مربع میل کے رقبے پر پھیلا ہوا ایک گھنا قدرتی جنگل ہے ۔اس جنگل میں انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں ،خاردا جھاڑیاں ،سر بہ فلک درخت ،کریریں اورپیلوں کے درخت کثرت سے اُگے ہیں ۔یہ جنگل جو گزشتہ صدیوں کی تاریخ کا ایک ورق اور زمانے کے نشیب و فراز کے بارے میں عبرت کا ایک سبق ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس گھنے جنگل میں بہت بڑی تعداد میں حشرات الارض ،جنگلی درندے ،دیو ،بھوت ،چڑیلیں،ڈائنیں اور آدم خور پائے جاتے ہیں ۔جنگل کے گرد و نواح میں بھیڑیے ،جنگلی سور ،لومڑیاں ،خرگوش ،بِجو ،خار پُشت ،کنڈیالے چوہے ،سانپ ،اژدہا اور تیندوے کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ صدیوں پرانا ساجھوال کا گھنا جنگل یہ واضح کرتاہے کہ جنگل کا قانون ہر دور میں اپنے وجود کا اثبات کرتاہے ۔ساجھوال کے جنگل میں دریا ئے جہلم کے کنارے مشرقی سمت میں برگد کا ایک بڑا درخت ہے اور اس کے ساتھ پیپل کا ایک بہت ہی بڑا درخت ہے ۔ان درختوں کے ارد گرد خاردار جھاڑیوں کا جھنڈ ہے جہاں ایک جگہ پر چمگادڑوں ،چھپکلیوں اور ابابیلوں کے ضماد سے زمین پر ایک کھڑنجا سا بن گیاہے ۔ یہاں رمضواُٹھائی گیرے کے جرائم پیشہ ساتھی اور اُس کے قحبہ خانے کی طوائفیں منشیات فروشی کے ذریعے دولت اکٹھی کرتے تھے ۔حُسن و رومان اور جنس و جنوں کا پھندہ لگا کر رمضو اُٹھائی گیرایہاں اپنا قبیح دھندا جاری رکھتاتھا۔اس پُر اسرار جگہ کے ِارد گردانسانوں اور جانوروں کی کھوپڑیاں بکھری ہوئی تھیں ۔ایسا محسوس ہوتاتھا کہ کوئی آدم خور ،بھوت ،آسیب ،ڈائن یا چڑیل یہاں رُوپوش ہے ۔دریائے جہلم کے کنارے رہنے والے ماہی گیروں ،جُھگیوں میں مقیم بھکاریوں اور خانہ بدوش مزدورو ں نے اس مقام کے بارے میں کئی سر بستہ رازو ںسے پردہ اُٹھایا ۔ایک معمر ماہی گیر رُلدو اناڑی نے سر کُھجاتے ہوئے اِس آسیب زدہ مقام کے بارے میں کہا:

’’ میں تو یہی کہوں گاکہ یہ جگہ رمضواُٹھائی گیرے کی پناہ گاہ ہے ۔رات کی تاریکی میںقتل و غارت ،لُوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کے بعد رمضواُٹھائی گیرا یہاں پہنچتاہے اور اپنے ساتھیوں میں لُوٹا ہوا زرو مال تقسیم کرتاہے ۔حیران کُن بات یہ ہے کہ جنگلی درندے ،حشرات اور اژدہا بھی اس جگہ کا رُخ نہیں کرتے ۔رمضو اُٹھائی گیرے نے ڈاکہ زنی سے جتنازر و مال اکٹھا کیا ہے وہ سب اسی جگہ کہیں چُھپا دیا گیا ہے ۔پرانے بزرگوں سے سُنا ہے کہ خزانے کا سانپ رمضو اُٹھائی گیرے کے زرومال کی حفاظت کرتاہے ۔رمضو اُٹھائی گیرے کی اس پناہ گاہ میں ماضی کے واقعات سے تعلق رکھنے والے جو پُر اسرار لوگ دیکھے گئے ہیں اُن میں میر جعفر ،میر صادق ،بہرام ٹھگ ،راسپوٹین ،نعمت خان کلانونت،لال کنور،ادھم بائی،بیلے سٹار ،شارلٹ کورڈے ، تسانیہ الیکزنڈرا ، میرے صورت ،اینے بونی ، مول کٹ پرس، بونی پارکراورزہرہ کنجڑن شامل ہیں ۔کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ رمضو اُٹھائی گیرے کے ساتھ اس کی نائکہ بیوی قفسہ ،بیٹیا ںمصبو ،سمن ،شگن اور ساحرہ بھی یہاں آ جاتی ہیں ۔روس سے تعلق رکھنے والے رسوائے زمانہ جنسی جنونی راسپوٹین کی طرح رمضو اُٹھائی گیرے کی آ نکھ میں بھی خنزیر کا بال ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی حسین عورت اِس نا ہنجار کی ہوس سے بچ نہیں سکتی ۔ راسپوٹین کو دیکھ کر مصبو اُس کے ساتھ اظہار ِمحبت کرنے کی خاطر اُس سے لپٹ جاتی ہے ۔ ‘‘

اپنے آبا و اجداد کے بارے میں رمضو اُٹھائی گیرسب معلومات اکٹھی کر چکا تھا۔اپنی خود نوشت ’’ رموزِ رمضو ‘‘میں اُس نے اپنے خاندان کے سب سفہاکے بارے میں اپنے تاثرات لکھے ہیں ۔ اپنی جوانی کے زمانے میں یہ مسخراجن ننگ انسانیت لوگوں کی قبروں پر پہنچااُن میں میر جعفر ،بہرام ٹھگ ،میر صادق ،لال کنور ،زہر کنجڑن ،ادھم بائی اور نعمت خان کلانونت قابل ذکر ہیں ۔اپنے خاندان کے مورث بہرام ٹھگ کی قبر پر پہنچا تو وہاں مگر مچھ کے آ نسو بہانے لگااوراپنے تاثرات اپنی خود نوشت میں لکھے :

’’ میرے دِل میں ایک عرصے سے یہ خواہش تھی کہ اپنے خاندان کے مورث اور ٹھگو ںکے بادشاہ بہرا م ٹھگ( ۱۷۶۵۔۱۸۴۰) کی قبر پر حاضری دوں ۔اودھ اور قرب و جوار کے ایک ہزار افراد کو بہرام ٹھگ نے ٹھکانے لگا دیا۔میں جبل پور میں جب اس سفاک ٹھگ کی قبر پر کھڑا تھا تو سوچنے لگاکہ اب دنیا میں ایسے لوگ کہاں ہیں ؟ بہرام ٹھگ کو پچھتر سال کی عمر میں دار پر کھنچوانے والوں پر میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ صرف اکیلے بہرام ٹھگ کو پھانسی دے کر یہ مت خیال کرنا کہ ٹھگی کا سلسلہ رُک جائے گا ۔زرد رنگ کا رُومال لہرا کر موت کا پیغام دینے والا بہرام ٹھگ آج بھی رُوپ بدل کر سامنے آجاتاہے اور اپنے خاص لفظ ’’ راموس ‘‘ کا اعلان کر کے مغرور دولت مندلوگوں کے خون کی ہولی کھیلتاہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے خاندان کی آنے والی نسلیں سفاکی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مکر و فریب ،دغا و دُزدی اور لُوٹ مار میں میرا بھی کوئی ثانی نہیں مگر جہاں تک قتل و غار ت کا تعلق ہے کوئی بھی بہرا م ٹھگ کی گرد کو بھی نہیں پہنچ اُس کی لوحِ مزار دیکھ کر میں دنگ رہ گیا اور چشم ِ تصور سے میں نے دیکھا کہ بہرا م ٹھگ میرے سامنے موجود تھا۔میں نے ایک نظر لوح ِ مزار پر ڈالی اور دوسری نظر اپنے خاندان کے مورث کو دیکھا ۔رفتگاں کی یاد نے فریاد کی صورت اختیار کر لی اور میں نے بہرام ٹھگ سے ہم کلام ہو کر پوچھا کہ یہ لوحِ مزار تو میری ہے پھر اِس پہ تمھارا نام کیوں نوشتہ ہے ؟‘‘

بہرام ٹھگ نے جب میری باتیں سنیں تو وہ ہنہناتے ہوئے مجھے سے ہم کلام ہوا :

’’ اے رمضو اُٹھائی گیرے مجھے تو تم ڈاکو کے بجائے ماہی گیر معلو م ہوتے ہو۔تم اپنی بیٹیوں اور خاندان کی عورتوں کا جال لگاکر ساد ہ لوح لوگوں کو اِس جال میں پھانس لیتے ہو۔میں نے اپنی طاقت کے بل پر زر ومال لُوٹااور دولت مند فراعنہ کو اُن کی اوقات یاد دلا دی ۔تم زندگی کے تلخ حقائق سے آ نکھیں چُرانے کے عادی ہو اور خوابوں کی خیاباں سازیوں کے رسیا ہو۔ میں نے اپنی زندگی میں مغرور سر مایہ داروں ،ساہوکارو ںاور اُن کے ساتھ عقیدت رکھنے والے کے سامنے سپر انداز ہونے کے بجائے اُن کا کام تمام کرنے پر توجہ دی جب کہ تم نے کاسہ لیسی کو اپنا وتیرہ بنائے رکھا۔میں نے ظالموں کے قتل و غار ت کو اپنا پیشہ نہیں بنایا بل کہ ظلم اور لُوٹ مار کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے عزم نے مجھے یہ کام کرنے کے لیے چُن لیااور ایک ظالم و سفاک ڈاکوکی حیثیت سے میں نے نفرتوں اور حقارتوں کے طوفانوں میں بھی پُوری جرأت کے ساتھ یہ کام جاری ر کھا ۔جہاں تک تمھارا تعلق ہے تم چوری چُھپے اور بُزدلی کے ساتھ لُوٹ مار کے دھندے میں مصروف رہے ہو۔ تمھارے خاندان کی لڑکیوں نے اپنے حُسن کی آڑ میں جو مار دھاڑ کی ہے وہ فریب کاری کی بُزدلانہ مثال ہے ۔ تم کیسے اُٹھائی گیرے ہو جو گرگٹ کے مانند رنگ بدلنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔تم نے انسانی ہمدردی کا جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ تم جیسے فریب کار کو زیب نہیںدیتا۔میں پیشہ ور ڈاکوہوں اورتختۂ دار تک جانے کے وقت تک اپنے ڈاکو اور قاتل ہونے پر مجھے ناز رہا ۔‘ ‘

رمضو اُٹھائی گیرے کی مشکوک نسب کی بیٹیاں اپنے قحبہ خانے میں ہروقت نشے میں دھت رہتیں ۔ نائکہ قفسہ کی تربیت کے باعث منگنی ،نکاح ،شادی،رخصتی اور گھر داری کی وہ سرے سے قائل ہی نہ تھیں ۔رمضو اُٹھائی گیرے کی بیٹی مصبو اپنی ماں قفسہ اور باپ رمضو کی طرح عیاشی اور فحاشی میں گہری دلچسپی لیتی تھی ۔ جب بھی کوئی الم نصیب ٹھگوں کے اس گروہ کے ہتھے چڑھتا نائکہ قفسہ اپنے خاندان کے مورث بہرام ٹھگ کے گروہ کے افراد کے مانند گیدڑ کی آواز نکالتی اور باقی سب لوگ چوکس ہو جاتے ۔رذیل طوائف مصبو لومڑی کے انداز میں اپنے شکار پر جھپٹتی اوراُسے زیر ِ دام لانے کی خاطر عقیدت ،محبت ،خلوص اور وفا کی اداکار ی کرتی تھی ۔جب کوئی اس عیار طوائف سے اختلاف کرتا تووہ بات بات پر کاٹنے کو دوڑتی اور ہر وقت غراتی رہتی اورکہتی:

’’ جہاں تک لُوٹ مار کا تعلق ہے میں کسی چور ،اُچکے ،ٹھگ یا رہزن سے پیچھے نہیں۔ہمارے خاندان کے مورث بہرام ٹھگ نے پچھتر سال کی عمر میں ایک ہزار افراد کی زندگی کی شمع بجھا دی مگر میںنے بتیس سال کی عمر میںمحض ایک سو افراد کا کام تما م کیا ہے اور دو ہزار امیروں کے گھروں کا صفایا کیا ہے ۔زر پرستی ، عیاشی و فحاشی ،خست و خجالت ،جور و ستم میری فطرت میں شامل ہے ۔میں اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے زرومال جمع کرتی ہوں ۔ سیاہی وال اور کالاباغ سے آنے والے منشیات کے عادی عیاش امیرزادوں کی جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھنے سے پہلے میں سبز باغ دکھا کر اُن کی جیبوں کا صفایا کر دیتی ہوں ۔ میری ماں نائکہ قفسہ نے جب بیوگی کی چادر اوڑھی تو اُس نے اپنے قحبہ خانے کو’’ سہاگ پورہ ‘‘ کا نام دیا جس میں بیوہ طوائفوں اور بے سہارا جنسی کا رکنوں کے مفت قیام و طعام کا انتظام کیا گیاتھا۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ اگر تان سین کی طوائف پوتی اور معمولی رقاصہ لال کنور ملکہ ٔ ہند بن کر اپنے شوہرمغل بادشا ہ جہاں دار شاہ کی طرف سے امتیاز محل کا خطاب پا سکتی ہے تو مجھے میں کون سی کمی ہے۔وہ دِن دُور نہیں جب میں ملکہ بنوں گی اور میرے بھائی منصب دار ہوں گے ۔ ‘ ‘

پیشے کے اعتبار سے مصبو اور قفسہ طوائف تھیں مگر انھوں نے مِل کر لُوٹ مار کے نئے طریقے اختیار کیے ۔وہ اپنی چکنی چپڑی باتو ںسے سادہ لوح لوگو ںکے بے وقوف بناتیں اور اُن کے زندگی بھر کی متاع سے محروم کر دیتی تھیں ۔ نائکہ قفسہ کی ہدایت پر اس کے قحبہ خانے میںجنسی کارکن کی حیثیت سے کام کرنے والی نوجوان طوائفیں بن سنور کر نو جوان اور دولت مند لڑکوں کے سامنے آ تیں اورانھیں شادی کاجھانسہ دے کر لُوٹ لیتی تھیں۔ نائکہ قفسہ نے ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازموں کو اپنے جال میں پھنسانے کا نیا طریقہ تلاش کیا ۔ان ضعیف ملازمیں کوملنے والے جی پی فنڈ اور دیگر رقوم کووہ بڑی عیاری سے بٹور لیتی تھی ۔وہ کسی حسین نوجوان لڑکی کو بوڑھے ریٹائرڈ ملازم کی بہو قرار دیتی اور بوڑھے کے بیٹے کے ساتھ اپنی ماڈل بیٹی کی منگنی کا ڈھونگ رچا کر آن کی آن میں شادی بیاہ اور دیگر اخراجات کی آڑ میں لاکھوں روپے اُڑا لیتی تھی ۔بہوکی اداکاری میں مصبو کا کوئی ثانی نہ تھا جس کی بتیس سال کی عمر میںایک ہزار سے زائد منگیناں ہوئیں اور ہر منگنی کے بعدوہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم سے جی پی فنڈ سے ملنے والی رقم میں سے کم ازکم بیس لاکھ روپے بٹورنے میں کامیاب ہو گئی۔ بتیس سال کی عمر میں مصبو نے چوری اور ٹھگی کے ساتھ ساتھ ڈکیتی کی وارداتو ں کے ذریعے بھی دولت کی لُوٹ مار شروع کر دی ۔اُس نے نہایت سفاکی سے کئی نوجوانوں کوموت کے گھاٹ اُتار کر ضعیف والدین کے گھر بے چراغ کر دئیے ۔ اپنے باپ رمضو اُٹھائی گیرے کی طرح طوائف مصبو کوبر صغیر کی قدیم تاریخ خاص طور پرجرائم کے واقعات سے بہت دلچسپی تھی ۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران میں مصبو کا دادا اور دادی مغربی بنگال کے شہر مرشد آباد میں مقیم تھے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ڈائری ’’ نمک حرامیاں کیا کیا ‘‘میں عیار طوائف مصبو نے اپنی زندگی کے کئی واقعات پر روشنی ڈالی ہے ۔ اپنے بزرگوں سے سُنے ہوئے واقعات کی روشنی میںاپنی ڈائری میں مصبو نے لکھا ہے :

’’ میرے دادا ،دادی،نانا ،نانی اورباپ کو نمک حرامی سے ہمیشہ گہری دلچسپی رہی ہے ۔ ایک جاروب کش کی حیثیت سے میر ے داد ا کہرام ٹھگ نے ماہی پور لال باغ مرشد آباد کے نواح میں جعفر گنج کے شہر خموشاں میں واقع ’’ نمک حرام ڈیوڑھی ‘‘میں چھے ماہ قیام کیااور وہاں اس قدر تپسیا کی کہ محسن کُشی اور نمک حرامی کا گیان حاصل کر لیا۔میرے دادا نے مجھے بتایا کہ نمک حرا م ڈیوڑھی وہ جگہ ہے جہاں ایسٹ انڈیاکے لارڈ کلائیو اورکمپنی کے عہدے دار ولیم واٹس کے ایما پر جھوٹی قسمیں کھانے والے بروٹس قماش کے درندوں میرجعفر ، اُس کے بیٹے میرن کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے محمدی بیگ نے دو جولائی ۱۷۵۷ء کو نیم کے ایک درخت کے سائے میں نواب سراج الدولہ کے خون میں ہاتھ رنگے اور اس خطے کی تاریخ کے اوراق میں نمک حرامی کا شرم ناک باب رقم کیا۔ اپنے دادا ،دادی،ماں اور باپ کی طرح میں نے میر جعفر کی نمک حرام ڈیوڑھی سے جھوٹی قسمیں کھانا ،پیمان شکنی اور محسن کُشی کے انداز سیکھے ہیں۔محمدی بیگ کی پرورش میری پر دادی نے کی تھی ۔ سیاہی وال کے نواح میں واقع گاؤںاُٹھا ن کوٹ میں میرے باپ رمضو اُٹھائی گیرے نے اپنے عیاش ،گستاخ اور نمک حرا م بیٹے گنوار انتھک کے لیے ایک ڈیوڑھی تعمیر کرائی ہے جس پر کسی نے جلی حروف میں لکھ دیاہے ’’ نمک حرام ڈیوڑھی ‘‘۔دنیا بھر کے نمک حرام سفہا اور وضیع ٹھگوں سے ہمارا قلبی تعلق ہے اس لیے نمک حرام ڈیوڑھی میں قیام ہمارے لیے سکون کا وسیلہ ثابت ہواہے ۔‘‘

نیم عریاں لباس پہن کر جب مصبو رقص کرتی تو اُس کے سراپا کی ایک جھلک دیکھ کر عیاش امیر زادے زرو مال تو کیا دِل و جاں بھی اُس کے ناز و انداز پر قربان کر نے پر تُل جاتے۔ مصبو ایسی جسم فروش رذیل طوائف تھی جس کے قدو قامت ،دست و پا اور لب و رخسار کو مشاطہ بڑی مہارت سے نکھارتی اور پھر اُسے میدان میں اُتارتی۔ اپنے زمانے کی رذیل طوائفوں امیرن بائی ،قفسہ اور بختو نے مصبو کو نیم عریاں رقص کی تربیت دی تھی ۔ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پُورے خریداروں کے جُھرمٹ میںشراب کے نشے میں مست ہو کر شرم و حیااور عزت نفس سے عاری مصبو جب لباس کے تکلف سے بے نیا زہو کر قحبہ خانے میں اپنے پرستاروں کے سامنے رقص کرتی توہوس کی تپش سے جنسی جنونی عیاش امرا پسینہ پسینہ ہو جاتے رقصِ مے اور ساز کی لے کی تیزی کے تمنائی نوجوان لڑکوں کو میر تقی میرؔ کا یہ شعر یاد آ جاتا:

مر مر گئے نظر کر اُس کے برہنہ تن میں

کپڑے اُتارے اُن نے سر کھینچاہم کفن میں

عقرب کے مانند اپنے ہرمخلص محسن پر نیش زنی کرنا رمضو اُٹھائی گیرے کا وتیرہ تھا۔ طوائفوں،ٹکہائیوں اور کسبیوں کے بھڑوے زمین کے بوجھ رمضو اُٹھائی گیرے کا بحرِ جور و ستم ہمہ وقت اوج و موج و تلاطم کا منظر پیش کرتاتھا۔ نو آبادیاتی دور میں برطانوی شہرشور ڈِچ (Shoreditch) سے متاثر ہونے والی فیشن زدہ رذیل رنڈیاں اوراُن کی اولاد اس کی زندگی کا محور تھیں ۔شہر بھر کے لوگ اس موذی و مکار

درندے کی سادیت پسندی کا شکار تھے اور یہ چکنا گھڑا اپنے مظالم کا خمیازہ کش تھا اور مظلوم انسانوں کی نفرتوں اور حقارتوں نے سدا اس کا تعاقب کیا ۔ اِس موذی کے بارے میں سیاہی وال کے اکثر لوگ یہ کہتے تھے کہ گُرگ آشتی کا دیوانہ یہ خضاب آلودہ بھیڑیاہر وقت اسی تاک میں رہتاہے کہ کسی نہ کسی فربہ میمنے پر کوئی فرضی اور من گھڑت الزام لگا کر اُس کی شہ رگ کا خون پی لے اور اس کے گوشت سے اپنے پیٹ کا دوزخ بھر لے ۔رمضو اُٹھائی گیرے کی جنسی سفاکی اور ہوس کی ہو لناکی کا یہ حال تھا کہ اس نے اپنے بہنوں ،بیٹیوں ،بھتیجیوں اور بھانجیوں کو بھی اپنے شرم ناک جنسی جنون کی بھینٹ چڑھا دیا۔اپنے سر پر بارِ ذلت اُٹھائے یہ خضاب آلود کھوسٹ زندگی بھر یہی سمجھتارہا کہ کہ اُس کی حرص و ہوس کے سب افسانے اور عبرت کے سب تازیانے اس کی نائکہ بیوی قفسہ اور بیٹی مصبو کے سر جائیں گی ۔ نائکہ قفسہ کے ہاتھ کی پکی ہوئی مسور کی دال رمضو اُٹھائی گیرے کو بہت پسند تھی ۔رمضو کے بد وضع چہر ے کو دیکھ کر سب لوگ اس پر تین حرف بھیجتے تھے ۔رمضوجب بھی اپنی نائکہ بیوی قفسہ سے مسور کی دال کی فرمائش کرتاتووہ حقارت سے اُسے دھتکارتی اور کفن پھاڑ کر کہتی کہ یہ منھ اور مسور کی دال ۔جب کبھی قفسہ مسور کی دال بگھار کر رمضو کے لیے بھیجتی تورمضو کے منھ میںجھاگ اور پانی بھر آتا اور وہ غراکر کہتا:

بھجوائی ہے جو میرے لیے قفسہ نے دال

ہے سب حرفِ حکایت ِ نائکہ پہ دال

رمضواُٹھائی گیرالُوٹ مار کے کئی طریقے اپنا تاتھا۔وہ چور ی ، ٹھگی اور ڈکیتی کے ذریعے زرومال لُوٹ سے اپنی تجوری بھرتاتھا۔اپنے پروردہ جرائم پیشہ درندوں کوساتھ لے کر رمضواُٹھائی گیرا جب واردات کے لیے نکلتا تو بالعموم چوری چُھپے زرومال لُوٹ لیتا تھا۔سال ۱۹۷۳ء میں اگست کے وسط میں دریائے چناب میں جو قیامت خیز سیلاب آیا اس نے جھنگ شہرکی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ جھنگ کو دریائے چناب کی طغیانی سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تیس کلو میٹر لمبا، ساٹھ فٹ اونچا اورتیس فٹ چوڑا مٹی کا بند سیلابی پانی کے دس فٹ بلند ریلے میںکئی مقامات سے بہہ گیا۔حفاظتی بند میں پڑنے والے شگافوں سے جو پانی شہر میں داخل ہواوہ اِس قدر بلند تھاکہ کئی مکانوں کی چھتوں سے گزر گیا اور نشیبی علاقوں کے سب مکان ملبے کا ڈھیر بن گئے ۔جھنگ شہر کے متعدد پختہ مکانات کھنڈربن گئے اور پورا شہر سنسان ہو گیا۔شہر کے سیلاب زدگان اپنی جان بچانے کی غرض سے اپنے بچوں کو لے کر گوجرہ روڈ کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ۔اس اثنا میں بے حسی اور بے غیرتی کے طوفان میں غرق رمضو اُٹھائی گیرا اپنے تیراک ساتھیوں،لٹیرو ں،چوروں اور ٹھگوں سمیت سیلاب زدہ بستیوں میں پہنچااور سامان کی لُوٹ مار شروع کر دی ۔ڈاکہ زنی اور چوری کی ان وارداتوں میں رمضو اُٹھائی گیرے کے گروہ نے زرومال کی لُوٹ مار پر توجہ مرکوز رکھی ۔ دریائے چناب میں آنے والے سیلاب کے بعد رمضو کے بیٹے گنوار انتھک نے بھی اس لُوٹ مارمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس سیلاب کے بعدرمضو اُٹھائی گیرے کے دِن بدل گئے اور اُس نے ملک کے کئی بڑے شہروں کے نواح میں زرعی زمین اور وسیع فارم ہاؤس خرید لیے ۔رمضو اُٹھائی گیرے نے ایک بڑی کار خرید لی جس میں وہ اپنی نائکہ بیوی قفسہ ،بیٹی مصبو اور اپنے قحبہ خانے میں کام کرنے والی جنسی کار کنوںسموں اورشگن کو بٹھا کر شہر کی سڑکوں پر گھومتا پھرتا تھا ۔ کھوکھے والے سے پکوڑے خریدنے والا رمضو اُٹھائی گیرا اب شہر کے مہنگے ہوٹلوں میں جا کر کھانا کھاتا تھا۔سیلاب کے بعد رمضو اُٹھائی گیرے کی عیاشی اور گُل چھرے اُڑانے کے حالات کو دیکھ کر ایک مقامی شاعر نے طنزاً کہا:

موٹر پہ اُڑ رہا ہے وہ رمضو عیار دیکھ

ہے سوچنے کی بات اِسے بار بار دیکھ

یہ موذی و مکار درندہ صرف زرومال کی لُوٹ مار پر اکتفا نہیں کرتاتھا بل کہ کم زور لوگوں کی عزت و آبرو بھی اس کی غارت گری سے محفوظ نہ تھی ۔ چوری سے آگے نکلا تو رمضو اُٹھائی گیرے نے ٹھگی کو وتیرہ بنایا ۔ اس کا نشانہ بننے والے کسی الم نصیب کی طرف سے جب مزاحمت ہوئی اور اس کسی مصیبت زدہ نے رمضو اُٹھائی گیرے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تو اس گُرگ نے سفاکی سے کام لیتے ہوئے ڈاکو کا رُوپ دھا لیا اور بڑی بے دردی سے خاک نشینوں کا خون بہایا۔ شہر اور مضافات میں واقع جنگلوں اور دریا کے کنارے بیلے میں رہنے والے خانہ بدوش بھانڈ ،بھڑوے،ڈوم ،ڈھاڑی، مسخرے ، بھگتے ،لُچے ،شہدے ،تلنگے ،رجلے ،خجلے ،وضیع ،اُچکے اورجیب کترے سب کے سب رمضواُٹھائی گیرے کے قبیلے کے فرد تھے ۔ اپنی روح کی سنگین ظلمتوں اور قلب کی تباہ کن سفاکی پر نادم ہونے کے بجائے اُسے اپنے جنسی جنون کی شوریدہ سری پربہت گھمنڈتھا۔ اپنے مسلح ساتھیوں سمیت رمضو اُٹھائی گیرا کسی دولت مند گھرانے میں واردات کے لیے داخل ہوتاتو سب سے پہلے اس گھر میں موجود مردوں کو ایک کمرے میں بند کر دیتاتھا ۔اس کے بعد گھر میں موجود عورتوں کے زیورات اور نقدی لُوٹ لیتا اور انھیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتا۔گھر کی کوئی خوب صورت نوجوان عورت اگر اِس درندے کے من کو بھا جاتی تویہ جلاد منش ڈاکو اُسے بھی ساتھ لے جاتااور اپنے آبائی قحبہ خانے میں بٹھا دیتا۔اس کے بد معاش ساتھی گھر کی بے بس عورتوں کے ساتھ بد سلوکی کرتے تھے ۔ اپنے قبیح کردار اور کریہہ چہرے پر ابدی لعنت کا طومار دیکھ کر اپنی بو الہوسی کے بارے میںرمضواُٹھائی گیرایہ بات نہایت ڈھٹائی سے کہتا تھا:

’’ جنسی جنون اورحرص و ہوس کی بے شمار داستانیں مجھ سے جُڑی ہوئی ہیں ۔میں نے اپنی زندگی اس تمنا میں گزاری ہے کہ شکم اور دِل میں خوابیدہ تمناؤں کے آ ہنگ اور جذبوں کی ترنگ سے پُھوٹنے والے کیف آور نغمات سے بے خود ہو کر ہنستا مسکراتا طوفانِ حوادث سے گزر جاؤں ۔ وصل کے لمحات میں مجھے فراق گورکھ پوری کا یہ شعر بہت یاد آتاہے :

مِلے دیر تک ساتھ سو بھی چُکے

بہت وقت ہے آؤ باتیں کریں ‘‘

کالی دیوی اور بھوانی دیوی کی متوالی نائکہ قفسہ کی زندگی جرائم کی لرزہ خیز داستان تھی ۔وہ اکثر اس بات پر زور دیتی کہ دولت مندوں نے گدھ کی طرح مجھے اور میری بیٹیوں کو نوچاہے ۔اس قسم کے ماحول میں ہمارے پاس چوری ،ٹھگی اورڈکیتی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔نائکہ قفسہ اپنی بد وضع اور کالی دیوی جیسی لمبی زبان باہر نکال کر اپنی بیٹیوں ،بیٹوں ،شوہر اور خاندان کے دوسرے افراد کے بارے میں کہتی تھی:

’’ ہم لوگ پیشہ ورچور ،ٹھگ اور ڈاکو ہیںاس لیے ہم بڑی احتیاط سے واردات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ہمارا مقصد قتل عام ہر گزنہیں بل کہ ہم تو صرف لُوٹ مار کرتے ہیں اس لیے ہمارا شکار زندہ درگور ہو جاتاہے ۔ہم اپنے شکار کی نشانی بر قرار رکھتے ہیں اور وہ جب تک جیتاہے ہمیں یاد کر کے کُڑھتا رہتاہے ۔نو آبادیاتی دور میں بھارت میں مقیم میواتیوں کے ساتھ ہماری رشتہ داریاں رہی ہیں اور ہم آج تک اِس عہدِ وفا کو گردش لیل و نہار کا علاج سمجھتے ہوئے اِسے استوار رکھے ہوئے ہیں ۔ ہمارے خاندان کی حسین لڑکیاں میواتی اُٹھا کر لے جاتے اور وہاں ان سے جنسی کارکن کا کام لیتے تھے مگر ہم اُن سے ٹکر لینے کے قابل نہ تھے ۔ہمار ے ہاتھ بہت لمبے ہیںاور جرائم پیشہ گروہوں سے ہمارے قریبی تعلقات ہیں ۔ہمارے گروہ کے لوگ اس لیے اپنے شکار کا خون نہیں بہاتے کہ ہلاک ہونے والے کے خون سے کوئی عفریت جنم نہ لے سکے ۔ہمارا شکار سسک سسک کرمرتاہے اورجب سمے کے سم کے ثمر سے اُس کی سانس رُک جاتی ہے تو وہ دم توڑدیتاہے ۔اپنے آبا و اجدادساگارتی اور بہرام ٹھگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ میں نے دیوی پارا وتی سے قوت حاصل کی ہے ۔ شیر ہو یا سینگوں والا بڑا بیل سب میرے تابع رہتے ہیں ۔‘ ‘

خطر ناک ڈاکورمضواُٹھائی گیرا پورے علاقے میں دہشت کی علامت بن گیا تھا۔اس سفاک ڈاکو نے اپنے خاندانی پس منظرکے بارے میں اپنی بیٹی مصبو کو بتایا:

’’ہم نے اپنے شکار کو گلا گھونٹ کرہلاک کرنے کے بجائے اس پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا طریقہ اپنایا ۔ذہنی اذیت دے کر اپنے شکار کوجیتے جی مارڈالناہمارا آزمودہ حربہ رہا ہے ۔حسین لڑکیوں کے حُسن وجمال سے ہم نے وہ کام لیا ہے جو آج تک کوئی نہیں لے سکا ۔ہم جس کا نمک کھاتے ہیں اُسی کا جینادشوار کر دیتے ہیں۔ہماری مثال ایک بھیڑیے کی سی ہے اگر کوئی بھیڑیا اپنے شکارکے ساتھ خلوص،مروّت اور پیار بھر ا سلوک کرنے کا عاد ی ہو جائے تو اُس بھیڑیے کی یہ حماقت اُسے فاقہ کشی کی جانب لے جائے گی اور رفتہ رفتہ وہ بھیڑیا اس قدرلاغرہو جائے گا کہ موت کے منھ میں چلا جائے گا۔میں نے اپنے شکار کے ساتھ کبھی نرمی نہیں کی۔‘‘

اپنے حُسن و رومان کے عہد و پیمان پر مصبوکو بہت گھمنڈ تھا۔ بھڑوے رمضو اور نائکہ قفسہ نے اپنی طوائف بیٹی مصبو کو قحبہ خانے کے سب حربے سکھا دئیے تھے ۔جب بھی کوئی دولت مند اور عیاش نو جوان ان ٹھگوں کے قحبہ خانے میں آتا تو مصبو شرم و حیا کو بارہ پتھر کر دیتی اور نو وارد نو جوان کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اپنی طوائف نانی امیرن بائی سے سُنا ہوا داغ دہلوی کا یہ شعرپڑھتی تھی :

کُھل کھیلیے کُھل جائیے دِل کھول کے ملیے

کب تک گرہ بند قبا کو کوئی دیکھے

اپنی خود نوشت میںرمضو اُٹھائی گیراکئی تاریخی سانحات پر اپنی رائے ظاہر کرتاہے ۔اپنے دادا کہرام ٹھگ کی بیان کی ہوئی حکایات کے حوالے سے اُس نے لکھا ہے :

’’ نو آبادیاتی دور میںمیرا دادا کہرام ٹھگ سر نگاپٹم میں بھی مقیم رہا۔یہاں وہ ایک گنبد میں چلہ کشی کرتا رہا جو سال ۱۷۹۰ء میں ٹیپو سلطان کے وزیر ِ داخلہ غلام علی نے تعمیر کرایا تھا۔اس گنبد کی چھت پر

اُگے ہوئے پیپل اور بر گد کے پودوں کو مشکیں بھر بھر کر پانی دیتااور بے مہریٔ عالم پر آنسو بہاتا تھا۔غلام علی اور میر صادق کو میرا داد اپنا ہیر و قرار دیتاتھا۔میرجعفر اور میر صادق کے خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات بڑے پرانے ہیں ۔پیمان شکنی ،غداری ،محسن کُشی اور بے وفائی ہماری گُھٹی میں پڑی ہے ۔میری بتیس سالہ نو جوان بیٹی مصبونے ڈکیتی کے ذریعے جودولت کمائی ہے وہ ہمارے لیے قابل فخرہے ۔‘‘

اپنے آبائی پیشے کے بارے میں مصبو نے بہت تحقیق کی ہے ۔اس کا خیال ہے کہ ڈاکو جہاں بھی ہو گا وہ دوسرے ڈاکو سے تصادم خطرہ ہر گز مول نہ لے گا۔چوری اور نقب زنی کو وہ بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے ۔مصبوبہت بڑی نئی کار میں سفرکرتی اور بڑی دیدہ دلیری سے ڈاکے ڈالتی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی ۔اپنی خود نوشت ’’ نمک حرامیاں کیا کیا ‘‘ میں مصبو نے لکھاہے :

’’کالی دیوی کی ہدایت پر میں نے اور میرے گروہ میں شامل ڈاکوطوائفوں نے ہمیشہ سرمایہ داروں کے عیاش نوجوان بیٹوں کو جی بھرکے لُوٹاہے ۔میرا بڑھتا ہوا جنسی جنون بھی کالی دیوی کاعطیہ ہے یہی وجہ ہے کہ میں نے مخالف جنس سے کبھی ہار نہیں مانی ۔مجھے عصمت چغتائی کااسلوب بہت پسند ہے اور میں بھی افسانہ ’’ لحاف ‘‘کے تصور کی حامی ہوں ۔اپنی ہم عمر سہیلیوں،بزرگ عورتوں،اپنی بہنوں اور ماں کے ساتھ میں بھی لحاف اوڑھ کر سوتی ہوںاور اپنی تنہا راتوںکی کہانی کواس قدر سہانی بناتی ہوں کہ میرے ساتھ لحاف اوڑھ کر سونے والوں پر بے خودی طار ی ہوجاتی ہے ۔محافوں میں چُھپے چاند چہروں کی اصلیت صرف لحافوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ہمارے قحبہ خانے میں وہی لوگ آتے ہیں جن کاکردار کالا اور کالا دھن ہی ان کے غرور کا سبب بنتاہے ۔میری ماں قفسہ اور میں نے کالی دیوی سے گیان حاصل کیا ہے اور ہم کالی دیوی کی اطاعت کرتے ہیں ۔ہم نے سیال کوٹ میں پورن بھگت کے کنویں پر حاضری دی اورہم سب نے وہاں نہا کر اولاد کی دعا کی ۔میرے باپ رمضو نے سیکڑوں لوگوں کو لُوٹ کر اُنھیں زندہ در گور کر دیامگر اُس کی آ نکھ کبھی نم نہ ہوئی ۔میری ہزاروں منگنیاں ہوئیں اور میرے موہوم سسرال والوں کی طرف سے مجھے دس کلو کے قریب سونے کے زیورات پہنائے گئے کروڑوں روپے مجھ پر نچھاور ہوئے مگر شادی کی نوبت کبھی نہ آئی ۔ مجھے حاصل کرنے کی تمنامیں کئی فریب خوردہ شاہین ہم جیسے کر گسوں میں گِھر گئے مگر وہ سب کچھ لُٹوا کر بے نیلِ مرام اپنے گھروں کو لوٹے ۔ کالی دیوی دولت مند اور عیاش نوجوانوں کو گھیر کر ہمارے پاس لاتی ہے اور وہ بد نصیب نوجوان اپنی خوشی اور مرضی سے اپنا زرومال ہمارے قدموں میں ڈھیر کر دیتے ہیں ۔‘‘

رمضواُٹھائی گیرے کی ڈکیتی سے مظلوموں پر جو کوہِ ستم ٹُوٹاسیاہی وال کے ہر گھر سے اُس کی آہ و فغاں سنائی دیتی تھی ۔ طبیب جلال اس خاندان کی لُوٹ مار کے سب احوال سے آگاہ تھا۔اُس کا بڑا بیٹا بھی قفسہ کے پھینکے ہوئی مصبو کے ساتھ منگنی کے جال میں پھنس کر لاکھوں روپے سے ہاتھ دھو بیٹھاتھا۔ اُ س نے رمضواُٹھائی گیرے ، نائکہ قفسہ اُن کی بیٹیوں مصبو ،سموں اور شگن کے بارے میں بتایا :

’’ رمضو اُٹھائی گیرا زندگی بھر اپنی برائیوں پر ناز کرتارہا۔اس کی اولاد بھی اپنے باپ کی پیروی کرتی رہی اور سب نے مظلوم انسانوں کی زندگی بے ثمر کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی ۔ ان ظالموں نے بے بس انسانوں کی زندگی کو آرام و سکون سے محروم کر دیا ،صبر و قرار چھین لیااور اُن کی نیندیں اُڑا دیں ۔ زندگی کی اقدار عالیہ اور درخشا ںروایات سے نا آشنا ایسے جعل ساز اور نشہ آور لوگوں سے میل جول رکھنا اپنے پاؤں پرکلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ۔‘‘

رمضو اُٹھائی گیرا اپنی عمر کی اڑسٹھ خزائیں دیکھ چکا تھا۔اُس نے منشیات ،قحبہ خانے ، ڈکیتی ،لُوٹ مار اور ٹھگی سے کروڑوں روپے کمائے مگر اُس کے کالے دھن کے بارے میں کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوئی ۔اُس نے رازداری سے اپنی جمع پُونجی کہیں چُھپا رکھی تھی ۔یہ بات نائکہ قفسہ کو معلوم تھی کہ ساجھوال کے جنگل میں پیپل اور بر گد کے درخت کی کھوہ میں کئی من سونا رمضو اُٹھائی گیرے نے چُھپا رکھا ہے۔خزانے کا سانپ اس سونے کی حفاظت کر رہاہے ۔ قفسہ نے کئی بار اپنے شوہر رمضوسے خزانے کے بارے میں پوچھا مگر رمضو اُٹھائی گیرا ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتاتھا اور اپنے خزانے کا کوئی اتا پتا ہر گز نہ بتاتا۔ ایک دِ ن طوائف مصبونے پیچ و تاب کھاتے ہوئے اپنے باپ رمضو اُٹھائی گیرے سے کہا :

’’ عمربڑھنے کے ساتھ ساتھ تمھاری صحت بھی اب ٹھیک نہیں رہتی۔زندگی کا کیا اعتبار یہاں تو سب احباب کمر باندھے ہوئے سُوئے عدم چلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔اس سے پہلے کہ تم ساتواں درکھول کر یہاں سے روانہ ہو جاؤ ہمیں خزانے کے سب راز بتادو۔ تمھارے خزانے کی حفاظت کے لیے جو اژدہا جنگل میں موجود ہے اُسے کیسے ٹھکانے لگایا جاسکتاہے ؟‘‘

قفسہ نے اپنے شوہر رمضو اُٹھائی گیرے کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا:

’’ اب تو تمھارے سب اعضا مضمحل ہو چُکے ہیں اور عناصر کا اعتدال بھی طویل عرصے سے رخصت ہو چکاہے ۔اپنے خزانے کے بارے میں ہمیں سب کچھ بتادو ۔تم نے کئی من سونا ساجھوال کے جنگل میں چُھپا رکھا ہے ۔تم نے اپنے خزانے کی حفاظت کے لیے جو خطرناک اور زہریلا اژدہا اُس پر بٹھا رکھا ہے اُسے کُچلنے کا کوئی طریقہ ہمیں بتاؤ ۔اب بہتر یہی ہے کہ وہ سونا خود ہی ہمارے حوالے کر دو ورنہ ہم سب راز اُگلوا لیں گے ۔‘‘

’’ میں فالج کے حملے کے باعث چلنے پھرنے سے معذورہوں ۔اس لیے میں ساجھوال کے جنگل میں نہیں جا سکتا ۔‘‘ رمضو اُٹھائی گیرے نے آہ بھرکر کہا’’تم نے جو بات سُنی ہے وہ بالکل صحیح ہے مگر میں نے جادو کے زور سے خزانے کی ملکیت میں اپنی ساری اولاد اور پس ماندگان کے بجائے صرف مستحق افراد کو شامل کیا ہے اور میرے خاندان کے وہ احسان فراموش افراد جنھوںنے مجھے اذیت میں مبتلا رکھا اُنھیں میں نے اپنی میراث سے محروم کر دیا ہے ۔ میرے مرنے کے بعد پیپل کے درخت کی کھوہ یا برگد کے درخت کے بجائے کسی خاص قاصد کے ذریعے میری وصیت تم لوگوں کو مِل جائے گی جس پر چار گواہوں کے دستخط ہوں گے اوراُس کے ساتھ میرا اصل شناختی کارڈبھی لف ہوگا۔ میری وصیّت کو دیکھ کر خزانے کا سانپ کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔‘‘

رمضو اُٹھائی گیرے کا نا خلف بیٹاگنوار انتھک چُھپ کر یہ باتیں سُن رہاتھا۔اُس نے اپنے قریب المرگ باپ کو حقار ت سے دیکھا اور غرایا :

’’ ا ب ذرا جلدی سے بتاؤ کہ وہ کون ہے جسے تم نے اپنی ساری جائیداد دینے کا تہیہ کر لیا ہے اور وہ مظلوم کون ہیں جنھیں تم نے اپنی جائیدادسے محروم کر نے کا فیصلہ کیاہے ؟ ‘‘

مصبو نے دانت پیستے ہوئے کہا ’’ کیا تم نے اپنی اولاد ،بیوی اور باقی رشتہ داروں کو اپنی میراث سے محروم کر دیا ہے ؟ ہمارے ساتھ ٹکراؤ گے تو منھ کی کھاؤ گے ۔تمھارا خزانہ صرف اور صرف میری ملکیت ہے کیو نکہ ڈکیتی کی اکثر وارداتوں میں میری وجہ سے کامیابی ہوئی ۔بہو کی اداکاری کر کے میں نے پتھروں میں جونک لگائی اور رشتے کے خواہش مند ضعیف والدین سے لاکھوں روپے بٹور لیے ۔ ‘‘

’’ میں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور بے شمار ڈاکے ڈالے ۔‘‘ رمضو اُٹھائی گیرے نے غیظ و غضب کے عالم میں کہا’’ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ سب بونے باون گزے بن کر اپنے تئیں اوج بن عنق خیال کرنے لگے ہیں۔ مصبو تم بھی کان کھول کر سُن لو تمھارے ایما پرسب سے خطرناک ڈاکہ میں نے اپنے ایک محسن اُستاد کے گھر ڈالا جس میں دسویں جنریشن کے دو لیپ ٹاپ ،ایپل کے دو موبائل فون ،قیمتی گھڑیاں، تین ڈیجیٹل کیمرے، امانت رکھا ہوا ایک کلو سونا اوردو لاکھ روپے کے انعامی بانڈ ہمارے ہاتھ لگے ۔ اِن لیپ ٹاپس میں فاضل محقق ڈاکٹر رانا کا لکھا ہوا تمھاری تحقیقی ضروریات کے لیے درکار مواد موجود تھا۔ وہ ڈاکہ میری زندگی کاسب سے لرزہ خیز اور اعصاب شکن ڈاکہ تھا۔‘‘

’’ بیماری اور ضعیفی میں تمھاری سوچ کے زاویے محدود ہو گئے ہیں اورمیں تمھاری بے ربط گفتگو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔دکنی اور موجودہ اُردو زبان کے افعال کا تقابلی جائزہ کے موضوع پر میرے ایم ۔فل اردو ( ۲۰۱۵تا ۲۰۱۷)کے لیے میرا مطلوبہ تحقیقی مواد مجھے مہ لقا بائی چندا نے عالمِ خواب میں فراہم کر دیاتھا۔اس کے علاوہ ولیؔ دکنی بھی مجھ سے خواب میں کئی بار مِل چُکاہے اور دکنی ادب کے کئی مخطوطات مجھے فراہم کر چکاہے ۔قلی قطب شاہ تو میرا گرویدہ ہو گیااور مجھے چار مینار لے گیاجہاں ہم نے مِل کر کھانا کھایا اور اچھا وقت گزارا۔میں نے ما بعد الطبیعات ،پیرا سائیکالوجی،کالے جادو اور چڑیلوں کے ذریعے اپنی تحقیق کے لیے مطلوبہ مواد حاصل کیا ہے ۔ اب یہ بے سروپا باتیں بند کرو اور مجھ پر ناحق احسان مت جتاؤَ ۔‘‘مصبو نے کھسیانی بلی کی طر ح کھمبا نوچتے ہوئے اور اپنی ماں قفسہ کی طرف معنی خیزنگاہوں سے دیکھتے ہوئے اپنے باپ رمضو اُٹھائی گیرے سے کہا’’اس وقت ہم نے تم سے پوشیدہ خزانہ اور اس کا ٹھکانہ بتانے کی بات کی ہے مگر تم آئیں بائیں شائیں کرنے لگے ہو۔ تم درمیان میںبے وقت کی راگنی الاپ رہے ہو۔وہ بات جس کا سارے فسانے میں کہیں ذکر تک نہیں تم نے اُسی کی رٹ لگارکھی ہے میں تو ڈاکٹر رانا کو جانتی تک نہیں ۔ ‘‘

ساتھ والے کمرے میں بیٹھا طبیب جلا ل یہ باتیں سُن کر وہاں چلاآیا اوربولا :

’’ قلعۂ فراموشی میں اسیر بے نام دیاروں کے مسافروں کو اپنے محسنوں اور اُن کے افراد خانہ کا حال کیسے معلوم ہو سکتاہے ؟میر بڑا بیٹا جب سرگودھا میں ملازم تھاتو وہ بھی تمھارے سبز باغوں کے سرابوں کے عذابوں کو بُھگت چُکاہے۔وہ ہر وقت ایک ورق سامنے رکھتا ہے اور آنسو بہاتاہے ۔اس ورق پر جو تحریرہے اس کی وضاحت بھی نہیں کرتا۔طبیب جلال نے ایک ورق کھولا جس پر لکھا تھا:

’’ دکنی اور موجودہ اُردو زبان کے افعال کاتقابلی جائزہ :PURSO-15E05)

سیاہی وال میںہونے والی منگنیاں اپنے انجام کو پہنچیں اور ہوس پرستوں نے خلوص کے رشتوں میں مینگنیاں ڈال دیں ۔مہ لقا بائی چندا(۱۷۶۸تا ۱۸۲۴)کا تمھارے گھر آکر دکنی ادبیات کے بارے میں تمھارے تمام مطلوبہ مآخذ فراہم کرنا عجیب معما ہے جو نہ تو سمجھاجا سکتاہے اور نہ ہی یہ کسی کو سمجھایاجا سکتاہے ۔یہ دیوانے کا خواب اور مجذوب کے بڑا کے سوا کچھ بھی نہیں۔ محسن کُش بروٹس کو کیا معلوم کہ سیزر نے اُس کے لیے کیا خواب دیکھے تھے ؟ڈاکٹر رانا کی مثال سرِ راہ اُگے ایک نخلِ سایہ دار ہے جو خود تو دُھوپ میں جلتا ہے مگر زیست کے صحرا میںکڑی دُھوپ میںچلنے والے آبلہ پا مسافرو ںکو خنک چھاؤں فراہم کرتاہے ۔ وہ ایک عزم اور ولولے کا نام ہے جس کی نصف صدی پر محیط خدمات کو یادد رکھنا ہر اُس باضمیرانسان کے لیے ضروری ہے جس نے اس شمع فروزاں سے علم کی روشنی حاصل کی ہے ۔ اپنے بل بوتے پر کھڑا اور اپنی انا میں سر مست سر اُٹھاکر کھڑے اس فیض رساں شجر کی شاخیں کسی جامد وساکت بلند پہاڑ یا سنگلا خ چٹان کے سامنے نہیں جھکتیں ۔وہ تم جیسی چمگادڑوں ،زاغ و زغن ،کرگس اور چغد کو بھی اپنی شاخوں پر آشیاں بنانے سے نہیں روکتا۔‘‘

’’ اونہہ ! شجر سایہ دار ۔‘‘نائکہ قفسہ نے کہا ’’ میں ڈاکٹر رانا کو خوب سمجھتی ہوں ۔ میرے اور میری بیٹیوں کے رومان کے قصوں میں وہ ہمیشہ کباب میں ہڈی ثابت ہوتاہے ۔اُسے لُوٹ کر ہم نے اچھاکیا ۔کوئی بھی شخص ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘

’’ اپنی زندگی کے آخر ی ایام میں مجھے جس اذیت اورعقوبت میں مبتلا رکھا گیا ہے اُس کے بارے میں کل ہی تمام حقائق سے میں متعلقہ اداروں کو آگا ہ کر دوں گا۔‘‘ تم لوگوں نے اپنے قحبہ خانے اور ،چنڈوخانے کو ایک ایسے عقوبت خانے میں بدل دیا ہے جہاں میرا دم گھٹتاہے رمضو اُٹھائی گیرے نے گلوگیر لہجے میں کہا ’’میں سب لوگوں کو بتا دو ںگا کہ میںنے یہاں سے بے شمار درد و غم سمیٹے ہیں،اب مجبوریٔ حالات پر آنسو بہا کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھار رہاہوں ۔ میرے گھر والے میرے خون کے پیاسے ہیں اس لیے میں ان سے سخت ناخوش و بیزار ہوں ۔‘‘

’’ ہم سب بھی تم سے تنگ اور عاجزآ چُکے ہیں ۔ہمارے بارے میں اب کسی کو کچھ بتانے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔کل صبح ہونے سے پہلے سب حقائق لو گوں کو معلوم ہو جائیں گے ۔‘‘گنوار انتھک نے اپنے ضعیف اور بیمارباپ کو قہر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’ تم ایک شقی القلب ڈاکو ہو اب تک ہم نے بہت صبر سے کام لیا ہے ۔اب تمھارا جانا ٹھہر گیا ہے اب تم صبح گئے کہ شام گئے ۔قزا ِ ق ِ اَجل کے پاس جو پروانہ ہے اس میں تمھارا نام بھی رقم ہے ۔‘‘

فطرت کی تعزیریں نہایت سخت ہیں وہاں دیر کا امکان تو ہے مگر اندھیر کا تصوربعید ازقیاس ہے ۔رمضو اُٹھائی گیرا بھی سال ۲۰۱۸ء میں گردشِ حالات کی زد میں آ گیا ۔مارچ کی پانچ تاریخ کو قفسہ اور مصبو نے رازداری کے ساتھ رمضو اُٹھائی گیرے کاگلا گھونٹ کر اُسے اپنی راہ سے ہٹا دیا ۔

اگلی صبح رمضوکے لواحقین سپیروں کے اپنے ساتھ لے کر ساجھوال کے جنگل میں پیپل اور بر گد کے درخت کے سائے میں کھڑے تھے ۔مصبو نے تحکمانہ لہجے میں سپیرے سے کہا :

’’ اے سپیرے! ذرا زور سے بین بجاؤ تاکہ خزانے کا سانپ جلد از جلد باہر نکلے اور ہم دس من سونا لے کر اپنے گھر جائیں ۔‘‘

نائکہ قفسہ نے اپنا بھاڑ جیس منھ کھول کر کہا’’ رمضو اُٹھائی گیرے کے خزانے میں صر ف سونا نہیںاس میں زیورات ، چاندی ،اشرفیاں ،ہیرے، جواہرات اور بیش بہاموتی بھی شامل ہیں ۔ میں تو زیورات ابھی پہنوں گی اور سب کو دکھاؤں گی ۔ہاں لڑکیو ! پریشان نہ ہونا کچھ زیورات میں تمھیں بھی پہناؤں گی ۔‘‘

مصبو کے تنور جیسے منھ میں عفونت زدہ پانی بھر آیااور غرائی :

’’ آدھاخزانہ تو میرا حصہ ہے کیونکہ میں نے ڈکیتی میں سب سے زیادہ مظالم ڈھائے ہیں ۔ ‘‘

سپیرے نے سریلی دُھن میں بین پر یہ گیت شروع کیا تو مصبو،قفسہ ،سموں ،ساحرہ اور شگن نے خزانہ ملنے کی توقع میں خوشی سے ناچناشروع کر دیا:

’’ میںتیری دُشمن ،دُشمن تُو میرا

میں ناگن تُو سپیرا

ویران جنگل میں رقص اور موسیقی کا یہ سلسلہ کچھ دیرتک جاری رہا مگر خزانے کا سانپ کہیںدکھائی نہ دیا۔اچانک پیپل کے درخت کی کھوہ سے ایک چوہا نکلا اور نزدیکی جھاڑیوں میں کہیں چُھپ گیا۔نائکہ قفسہاور طوائف مصبونے درختوں کی کھوہ اور ارد گرد کی جگہوں کا کونا کونا،پتّا پتّااور بُوٹا بُوٹا چھان مارامگر رمضو اُٹھائی گیرے کے خزانے کا کہیں سراغ نہ ملا ۔لُٹیروں کا یہ ٹولہ جب واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہا تھاتو فاریسٹ گارڈنے اُنھیں روکا اور رمضواُٹھائی گیرے کی وصیّت اُن کو دکھائی جس پر چار گواہوں کے دستخط اور اصل شناختی کارڈساتھ لف تھا۔رمضو اُٹھائی گیرے نے اپنی وصیّت میں لکھاتھا:

’’ ساجھوال کے جنگل میںدریائے جہلم کے کنارے برگد اور پیپل کے درختوں کے جنوب میں شیشم کا ایک قدیم درخت ہے اِس کے تنے کے قریب ایک بھاری پتھر پڑاہے ۔اس بھاری پتھر کو ہٹا کر تین انچ قطر کا ایک سوراخ دیکھا جا سکتاہے جس میں پلاسٹک کا ایک پائپ ہے جو چار فٹ گہرائی میں جاکر کچی مٹی کی ایک بڑی کلہوٹی میں کُھلتاہے ۔اِس بڑی کلہوٹی میں سونا ،چاندی ، زیورات،قیمی برتن ، موتی ،ہیرے، جواہرات اور اشرفیاں موجودہیں ۔ میرے گھر والے میری زندگی کی شمع بجھانے پر تُل گئے ہیں میرے مرنے کے بعدیہ خزانہ نکال کر دارالامان کو دے دیاجائے ۔‘‘

’’ یہ وصیّت تمھارے ہاتھ کیسے لگی ؟‘‘ مصبو نے غصے سے کہا ’’اب خزانہ کہاں ہے ؟‘‘

فاریسٹ گارڈ نے کہا’’ کل سہ پہر شہر سے پولیس کی گاڑی اور مزدور آئے تھے پولیس کے ذمہ دار افسران نے مجھے یہ وصیت دکھائی اور کھدائی کی اجازت طلب کی ۔جنگل میں کام کرنے والے لکڑہاروں اوردس گواہوں کی موجودگی میں خزانہ بر آمد ہوا جو وصیت کے مطابق دارالامان کے کھاتے میں بنک میں محفوظ کر لیاگیاہے ۔لالچی ،خود غرض اور محسن کُش لواحقین کا اس خزانے سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

بیوگی کی چادر اوڑھے نائکہ قفسہ اب سہاگ پورہ میں مگر مچھ کے آ نسو بہاتی ہے مگر اپنی رُو سیاہی کی داستان کسی کو نہیں سناتی ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*