رمضان

ڈاکٹر نصیر احمد عادل
کمہرولی،کمتول، دربھنگہ، بہار

ماہِ صیام پھر سے سایہ فگن ہوا ہے
پر نور سارا گلشن سارا چمن ہوا ہے
ہر سمت ہو گیا ہے رب کے کرم کا سایہ
گنجینہئ خدا کو دامن میں ساتھ لایا
روزے سے ہو گئے ہیں جتنے بھی ہیں مسلماں
لب پہ ہے ذکر یزداں بڑھنے لگا ہے ایماں
قرآن کی تلاوت ہونے لگی گھروں میں
بڑھنے لگی حرارت ایمان کی رگوں میں
ہر آن ہو رہی ہے اب رحمتوں کی بارش
جس جا بھی دیکھو ہر سو ہے برکتوں کی بارش
جی جس بشر کا چاہے رحمت سمیٹ لے وہ
اپنے گھروں میں رب کی برکت سمیٹ لے وہ
کرکے گنہ سے توبہ اب مغفرت کرا لے
خلد بریں کا خود کو حقدار اب بنا لے
خود کو بشر جہنم سے ہر طرح بچا لے
ہرمعصیت کو رب سے پھر معاف اب کرا لے
ہر لمحہ رب سے اپنے کرتا رہے دعائیں
سر سے وہ دور کر دے دنیا کی سب بلائیں
پھر کیا پتہ کہ پائیں ہملوگ یہ مہینہ
دامن میں آؤ بھر لیں ہاتھ آئے جو خزینہ
عادلؔ تو بھی غنیمت اس ماہ کو سمجھ لے
ایسا نہ ہو کہ تمکو افسوس آگے آئے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*