رامپور کو ضلع انتظامیہ نے جلادیا

 

انعم خان
رامپور میں جامعہ ملیہ پر پولیس کی کارروائی کے بعد سماجی کارکنان کی کال پرایک احتجاج ہواتھا، جو مکمل طور پر پر امن رہا؛ لیکن انتظامیہ نے ۵٠ لوگوں پر اور دو سو نامعلوم افراد پر مقدمہ قائم کیا،جن میں ایک خانقاہ کے سجادے اور ایک شیعہ عالم بھی تھے۔اس کے بعد علمائے رامپور کے ایک وفد نے ڈی۔ایم سے ملاقات کی اور احتجاجی جلسے کے لئے اجازت طلب کی ـ کچھ ہدایات کے ساتھ اجازت دے دی گئی ـ علما نے ٢١ دسمبر بروز ہفتہ صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے تک رامپور بند اور رامپور کے عیدگاہ میدان میں ایک احتجاجی جلسے کی کال دی۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں حکومت کی ایماپر انٹر نیٹ بند کر دیا گیا ،جبکہ شہر مکمل طور پر پر امن تھا۔جمعہ کے پورےدن پولیس نے شہر میں زبردست پٹرولنگ کی اور شام سے رات کے دو بجے تک دفعہ ١۴۴ کے نفاذ کا اعلان ہوتا رہا۔جس میں شہریوں کو دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں کہ اگر کسی کے گھر کے سامنے بھیڑ اکٹھا ہوئی یا کوئی جھگڑا ہوا تو اس گھر والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔ تمام شہری یقینی طور پراسکا خیال رکھیں کہ انکے گھر میں یا گھر کی چھت پر کوئی اینٹ، پتھر، شیشہ،بوتل، پٹرول ، ڈیزل،ایسڈ یا کیروسین نہ ہو ورنہ انکے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔تمام رات پولیس سڑکوں پر پٹرولنگ کرتی رہی اور تمام کال دینے والے علما کو رات سے ہی ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔رامپور میں زبردست ٹھنڈ کے مد نظر ڈی۔ایم نے پہلے ہی ٢٠ تاریخ تک اسکول کالج بند کر دئیے تھے۔مزید پولیس کی طرف سے پھیلائی گئی دہشت کی وجہ سے ہفتہ کے دن بھی سب کچھ بند تھا، اسکول،کالج، دفاتر، بینک، بازار سب ساتھ میں انٹر نیٹ بھی۔دن نکلتے ہی جگہ جگہ پولیس کی گاڑیاں اورپولیس تعینات تھی۔رکاوٹیں کھڑی کر کے عیدگاہ جانے والے راستے بند کر دیے تھے۔ پولیس نے رات میں ہی عیدگاہ میدان میں پانی بھر دیا تھا۔
دس بجے کے بعد عوام گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آگئی۔ تمام ہی مرد اس دن فری تھے،کسی کے پاس کوئی کام نہ تھا۔ پولیس نے ان کو روکنے کی اور گھروں میں واپس بھیجنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔عید گاہ کو دو راستے جاتے ہیں۔ایک راستے کی طرف عوام بڑھے،اسے بند پا کر دوسرے راستے کی طرف چلے گئے، کچھ گلیاں بھی اس طرف کھلتی ہیں، ان کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ہزاروں افراد کے جم غفیرنے، جسکا قائد کوئی نہیں تھا، ساڑھے بارہ بجےعیدگاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش میں پہلے پولیس کے ذریعے قد آدم کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو توڑا،پھر ٹکراؤہوا، جس کے نتیجے میں پتھر بازی،آگ زنی ہوئی ـ پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور ربر بلیٹ (یا اصلی) فائر کئے۔ ایک بائیس سالہ نوجوان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔کہا جا رہا ہےکہ آنسو گیس کا گولہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ایک موت کی خبر اور بھی ہے،مگر غیر مصدقہ۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بلیٹ گردن میں لگی۔پولیس زخمیوں اور مہلوک کو مرادآباد لے گئی۔مزید پولیس فورس طلب کی گئی۔دیر رات مہلوک کے علاقے میں کرفیولگا کر پولیس نے تدفین کرائی۔بازارکل یعنی اتوار کو بھی بند رہا،انٹر نیٹ بھی بند رہا۔احتجاج کے شرکاکی گرفتاریوں کا سلسلہ اور پولیس کے ساتھ علماو ذمے داران کی میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کا اصرار ہےکہ بازار کھولا جائے،جس کا دن بھر اناونس بھی کرایا گیا مگر علما کا مطالبہ ہے پہلے گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے۔
ہم نے اپنی زندگی میں رامپور میں اتنے خراب حالات کبھی نہیں دیکھے، حالانکہ مظاہرے بہت ہوئے۔بابری مسجد کے تالے کھلنے سے لیکر انہدام تک۔ ماضی قریب کے دو احتجاجی جلسے تو اچھی طرح ذہن میں ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے کے سلسلے میں احتجاج ہوا۔علمانے کال دی۔لوگ اسی عیدگاہ کے میدان میں آئے۔تقاریر ہوئیں لوگ واپس چلے گئے۔
دوسرا احتجاجی جلسہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہو رہے ظلم کے خلاف تھااسی عیدگاہ کے میدان میں۔وقت مقررہ پر لوگ آئے، تقاریر ہوئیں اور سب پر امن طریقے سے واپس ہو گئے۔اب بھی اگر انتظامیہ تعاون کرتی تو پر امن جلسہ ہو کر لوگ واپس ہو جاتے۔رامپور میں کبھی کوئی شورش نہیں ہوئی،اب بھی ہمیں پورا یقین تھا کہ ہمارا شہر پرامن رہےگا۔
١٩۴٧ میں رامپور میں گولی چلی تھی اور ایک نوجوان بحالت روزہ شہید ہوا تھا، اس کے بعد سے اب تک پولیس کی گولی کسی کو نہیں لگی۔
انتظامیہ کی زور زبردستی نے حالات خراب کئے یا پھر ان کی سوچی سمجھی سازش تھی۔
ہمارے مفتی شہر جنہوں نے احتجاج کی کال دی تھی تقریبا اسی پچاسی سال کے ہیں۔ عوام ان کا بے حد احترام کرتے ہیں،اگر وہ عوام کے درمیان ہوتے تو بھیڑ ہرگز بے قابو نہ ہوتی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*