رمضان کے اختتام پر کچھ گزارشات-محمد رضی الرحمن قاسمی

رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ختم ہونے کو ہے، ایسے وقت میں ہمیں ٹہر کے چند باتوں پر غور کرنا چاہئے اور کچھ امور کا اہتمام کرنا چاہئے:
پہلی بات تو یہ ہے کہ جو ایک دو دن باقی ہیں، ان کو غنیمت سمجھا جائے، روزہ، نماز ، تلاوت اور ذ کر و اذکار میں اس وقت کو صرف کیا جائے۔
دوسری بات یہ ہے کہ دعابھی کریں کہ اللہ عزوجل کی توفیق سے جو عبادتیں ہم نے کی ہیں، اللہ جل شانہ ان عبادتوں کو قبول فرمالے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اپنا محاسبہ بھی کریں کہ رمضان کی صورت میں جو قیمتی سوغات اور اللہ عزوجل کو خوش کرنے کا موقع ملا تھا، اس کی ہم نے کتنی قدر کی؟ جن لوگوں نے اس قیمتی نعمت کی قدر کی اور رمضان کے شب و روز کو مغفرت اور اللہ عزوجل کی خوشنودی کا ذریعہ بنالیا، وہ قابل مبارکباد ہیں، اور خدانخواستہ جن لوگوں نے اس قیمتی نعمت کو اپنی غفلت میں ضائع کیا، وہ بچے ہوئے وقت کی قدر کریں اور سچے دل سے توبہ بھی کریں اور اللہ عزوجل سے یہ مانگیں کہ اللہ انہیں اگلے رمضان تک پہنچائے اور اگلے آنے والے تمام رمضان کی قدر کرنے کی توفیق دے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم سب نفس کے فریب اور دنیا کی ظاہری چمک دمک میں اس طرح گھرے ہوئے ہیں کہ رمضان کی عبادتوں میں جو حضور قلب اور خشوع و خضوع ہونا تھا، وہ نہیں ہو سکا، اس پر سچے دل سے استغفار بھی کریں؛ تاکہ ہمارے ناقص اعمال اور کھوٹے سودے اللہ کے فضل سے اور استغفار کی برکت سے صحیح داموں پر اللہ کی بارگاہ میں نکل جائیں۔
پانچویں بات یہ ہے کہ رمضان نیکیوں کے لئے فصل بہار ہے؛ لیکن اللہ عزوجل کی عبادت اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم ہر دن بلکہ ہر پل کے لئے ہے؛ اس لئے رمضان کے ختم ہو جانے کے بعد بھی عبادتوں، تلاوت اور ذکر و اذکار کا اہتمام، خوش خلقی، اپنے اور پرائے سے حسن سلوک اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مزاج باقی رکھیں۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جنہوں نے رمضان کو اپنے لئے مغفرت اور اللہ عزوجل کی رحمتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بنالیا، اور بڑی ہی بد نصیبی ہے ان لوگوں کے لئے، جنہوں نے یہ قیمتی موقع گنوا دیا۔
اللہ جل شانہ ہماری زندگی میں بہت سارے رمضان لائے اور ان تمام رمضان کے ایک ایک پل کو غنیمت جاننے اور اللہ عزوجل کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*