رام نام کی لوٹ ہے-معصوم مرادآبادی

رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم گزشتہ 27فروری کو اختتام پذیر ہوگئی۔اس دوران 2100 کروڑ روپے کا چندہ جمع ہوا، جو مندر تعمیر کے تخمینے سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔رام جنم بھومی ٹرسٹ نے گزشتہ سال دسمبر میں پورے رام مندر کمپلیکس کی تعمیر میں گیارہ سو کروڑ کی لاگت کا تخمینہ پیش کیا تھا جس میں صرف رام مندر کی تعمیر پر چارسو کروڑ کی لاگت کا تخمینہ تھا۔اس تخمینے کے مطابق ٹرسٹ کو ایک ہزار کروڑ کی زائد رقم موصول ہوئی ہے۔رام مندر ٹرسٹ کے ممبر انل مشرا کا کہنا ہے کہ چندہ جمع کرنے کے کام میں ڈیڑھ لاکھ ٹولیاں سرگرم تھیں۔اس دوران سنگھ پریوار کی تنظیموں نے چندہ جمع کرنے کے لیے جو شرانگیزیاں کیں، ان کی تفصیلات آپ اخبارات میں پڑھ چکے ہیں۔ اس مہم کا قابل غور پہلو یہ ہے کہ اس کی آڑ میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے اور انھیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی گئیں وہیں بعض عناصر نے اس موقع کا استعمال اندھی عقیدت کا شکار لوگوں کی جیبیں صاف کرنے اور انھیں ٹھگنے کے لیے بھی خوب کیا۔ غور سے دیکھا جائے تو چندے کی یہ مہم ایک گورکھ دھندہ بن کر رہ گئی اور یوں محسوس ہوا کہ اس کا مقصدرام مندر کی آڑ میں دہشت پھیلانا اور دولت بٹورنا تھا۔ اس کام میں جہاں سنگھ پریوار کی مختلف جارحیت پسند تنظیمیں سرگرم تھیں، وہیں بی جے پی نے اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف صوبوں میں اپنے اقتدار کابھی خوب فائدہ اٹھایا اور زیادہ سے زیادہ چندہ جمع کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔ اس دوران کچھ ایسی تنظیموں اور افراد نے بھی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جن کے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہ سیکولر ہیں اور ایک ایسے مندر کی تعمیر میں ہاتھ نہیں بٹائیں گے جو تاریخی بابری مسجد کو مسمار کرکے اس کی زمین پر بنایا جارہا ہے۔ایک طرف جہاں سماجوادی پارٹی کے بانی اور ایودھیا تنازعہ کے چمپئن رہ چکے ملائم سنگھ یادو کی بہو نے گیارہ لاکھ روپے دے کررام مندر کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کیا تو وہیں راجستھان میں کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی نے رام مندر کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم دوہفتہ تک چلائی اور اس مہم کو ’ایک روپیہ رام کے نام‘ کا عنوا ن دیا۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بعض نام نہاد مسلمانوں نے بھی رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ دیا۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ رام مندر کے لیے چندہ جمع کرنے کی اس مہم کے دوران مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔مدھیہ پردیش میں اس سلسلہ کی یاترائیں مسلم علاقوں سے گزاری گئیں اور وہاں تصادم کی بھی نوبت آئی۔دہشت اس حد تک پھیلائی گئی کہ کئی جگہوں پر مسلمان خوف ودہشت میں نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے۔بی جے پی اقتدار والی ریاست کرناٹک میں ان لوگوں کے گھروں پر ایک خاص قسم کے نشان لگائے گئے جنھوں نے چندہ دینے سے انکار کیا۔اس سلسلے میں کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے باقاعدہ ٹوئٹ کرکے کہا کہ”ایسا لگتا ہے کہ رام مندر بنانے کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے والے لوگ رقم دینے اور نہیں دینے والے لوگوں کے گھروں پر الگ الگ نشان لگارہے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسا جرمنی میں نازیوں نے ہٹلر کے زمانے میں کیا تھاجب لاکھوں لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔“
چندے کی اس مہم کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کام کے لیے کئی ایسی فرضی تنظیمیں اور افراد بھی سرگرم تھے جو رام مندر کی تعمیر کے نام پر بھولے بھالے ہندوؤں کو بے وقوف بناکر اپنی تجوریاں بھررہے تھے۔اس حقیقت کا اعتراف خود رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ انھوں نے ہندی روزنامہ ’دینک بھاسکر‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ بات بالکل درست ہے کہ کچھ لوگوں نے ٹرسٹ جیسی ہی رسیدیں چھپوالی ہیں اور ملتے جلتے نام سے ویب سائٹ بھی بنالی ہے اور اکاؤنٹ بھی کھول لیے ہیں۔ ایودھیا میں انھوں نے خود اب تک چارپانچ ایف آئی آر درج کروائی ہیں۔ مجموعی طورپر اس سلسلے میں آٹھ دس ایف آئی آر درج کرائی جاچکی ہیں۔ کچھ کارکنوں نے مقامی سطح پر بھی پولیس سے شکایت کی ہے۔“چمپت رائے کے اس بیان سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بھولے بھالے ہندوؤں کو رام مندر کے نام پر لوٹنے کا کام بھی بڑے پیمانے پر کیا گیا۔شاید اس لیے کہ رام کے نام پر اس ملک میں سب کچھ جائز قرار دے دیا گیا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ رام مندر کے چندے کے معاملے میں گورکھ دھندہ چل رہا ہے۔ یہ معاملہ جہاں ایک طرف لوگوں کی مصنوعی عقیدت کا ہے تو وہیں شروع سے اس میں کچھ لوگ دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ جب 90 کی دہائی میں وشوہندوپریشد نے رام جنم بھومی مکتی آندولن شروع کیا تھاتو اس کے ساتھ ہی ملک وبیرون ملک سے چندہ جمع کرنے کی مہم بھی شروع کی تھی۔جب اس تحریک کے لیے چندہ جمع کیا جانے لگا تواس دوران انکم ٹیکس محکمے نے اس کا حساب کتاب بھی طلب کیا کیونکہ یہ چندہ غیر ممالک سے بغیر کسی ضابطے کی کارروائی کے جمع کیا جارہا تھا۔جب اس معاملے میں وی ایچ پی کو نوٹس جاری کیا گیا تو نوٹس جاری کرنے والے افسر کا ہی تبادلہ کرادیا گیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب مرکز میں وی پی سنگھ کی سرکار تھی اور اسے بی جے پی باہر سے حمایت دے رہی تھی۔ اب تو مرکز اور بیشتر صوبوں میں بی جے پی کی سرکاریں ہیں اور رام مندر کی تعمیر ان کا سب سے اہم موضوع ہے۔آپ کو یاد ہوگاکہ گزشتہ26جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر نئی دہلی کے راج پتھ پر مختلف صوبوں کی جو ترقیاتی جھانکیاں نکالی گئیں تو ان میں جہاں مختلف صوبوں نے اپنی اپنی جھانکیوں میں اپنے ہاں ہورہی تعلیمی اور معاشی ترقی کی جھلکیاں پیش کی تھیں تو وہیں اترپردیش کی جھانکی میں رام مندر کا ماڈل رکھا ہوا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ اترپردیش کی یوگی حکومت کے لیے رام مندر ہی ترقی کا معیار ہے۔ اسے اپنے صوبے میں تعلیم،کاروبار، بے روزگاری اور نظم ونسق سے کوئی سروکار نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ جب یوپی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا تو صوبائی گورنر آنندی بین پٹیل نے اپنے خطبہ میں رام مندر کی تعمیر کے کام کو اپنی حکومت کی بڑی حصولیابی کے طور پر بیان کیا۔ جبکہ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ مندر، مسجد، گردوارہ یا چرچ بنانا حکومت کا کام نہیں ہے کیونکہ ہمارے سیکولر دستور میں مذہب لوگوں کا نجی سروکار ہے اور اسٹیٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی کے اقتدار کی سب سے بڑی حصولیابی یہ ہے کہ اس نے ہندو مذہب کو سرکاری مذہب کے طورپر پیش کردیا ہے اور ہر سرکاری کام کاج کا آغاز اسی طرح ہورہا ہے جس طرح وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں رام مندر کا شلانیاس کیا تھا۔ پچھلے دنوں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے سنگ بنیاد کی تقریب کے دوران بھی وزیراعظم نے ایسے ہی بھومی پوجن کیا تھا جیسا کہ رام مندر کے شلانیاس کے موقع پر کیا گیا تھا۔