رام مندرٹرسٹ کی تشکیل غیرآئینی،سنتوں کودوررکھنے کے لیے قصداََتاریخ رکھی گئی

اجودھیا:اجودھیامیں 5 اگست کو رام مندرکا’’ بھومی پوجن ‘‘ لیکن کچھ سنت حکومت کے فیصلوں سے ناراض بھی ہیں۔ سپریم کورٹ میں آل انڈیاشری رام جنم بھومی بحالی کمیٹی کی جانب سے فریق میں شامل سوامی ایوموکتیشورانندسرسوتی نے کہاہے کہ ٹرسٹ حکومت کے ایک روپیہ سے تشکیل دیاگیاہے۔ ٹرسٹ سرکاری رقم سے نہیں بنناچاہیے تھا۔ یہ مذہبی کام پر ہے۔ اس سے حکومت سے ایک روپیہ بھی نہیں لیناچاہیے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں متعدد جگہوں پر سوامی ایوموکتیشورانند کاذکر ہے۔انھوںنے کہاہے کہ ٹرسٹ کی طرف سے کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا ہے۔ اس وقت نہ ہی جاسکیں گے۔ ابھی چترماس جاری ہے۔ اگرچترماس نہ ہوتا تو ہم دعوت نامے کے بغیر جا چکے ہوتے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ شاید چترماس میں ہی کرانے کی ضدہے تاکہ بہت سارے بڑے سنتوں کو شامل نہ کیا جائے۔انھوں نے کہاہے کہ اس سلسلے میں ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔ جب کہ ہم نے رام مندرکے لیے شروع سے ہی کوشش کی ہے۔ جگت گورو شنکراچاریہ سوامی روپانند سرسوتی کی تنظیم اے بی شری رام جنم بھومی بحالی کمیٹی نے اس کے لیے مستقل کوشش کی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ہم نے اس معاملے میں فریق کا کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے لڑنے والے لوگوں نے بھی ہم سے ملاقات کی۔ہم بھی معاہدوں میں شامل رہے ہیں۔ تاہم ہمیں کبھی بھی مندر کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیاگیا۔سوا ل کیاگیاہے کہ کیاکبھی بھی ٹرسٹ میں شامل ہونے کی تجویزپیش کی گئی تھی؟انھوں نے جواب دیانہیں ۔ ہمیں کبھی ایسی کوئی تجویز نہیں ملی۔انھوں نے کہاہے کہ جس دن مندر کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے ، اس دن کوئی ’’مہورت‘‘ نہیں ہے۔ جگت گروشنکراچاریہ نے بھی یہی کہا ہے۔ اس میں تنازعہ کی کوئی بات نہیں ہے۔اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رام کے لیے ’’مہورت‘‘کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، پھر کیوں ’’مہورت‘‘ بنائے گئے ہیں۔ تمام مندر بنانے میںیہ دیکھاجاتاہے۔آج کل ہر شخص اپنے اپنے ذہن سے منطق پیدا کرتاہے۔