رام مندر کی تعمیر میں دیے گئے چندہ میں غبن سے عام ہندوؤں کی ’آستھا‘ متزلزل : اشوک گہلوت

جے پور: رام مندر کی اراضی کی خریداری میں گھوٹالوں کے کیس کے حوالے سے سی ایم اشوک گہلوت بھی حملہ آور ہو گئے۔ وزیر اعلی گہلوت نے ٹوئٹ کرکے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے کہا کہ ریاستی عوام نے رام مندر کی تعمیر کےلیے عقیدت و آستھا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کیا ہے ، لیکن چندہ کے غبن کی خبر نے عام آدمی کے اعتماد اور ’آستھا ‘کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔واضح ہوکہ رام مندر ٹرسٹ پر مندر اراضی کی خریداری میں بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد ہیں، اوراس سلسلے میں سیاسی ابال بھی پیداہوگیا ہے ۔ کانگریس اس معاملہ پر بی جے پی اور مرکزکی مودی سرکار پر حملہ کررہی ہے۔اسی تناظر میں وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ کوئی یقین نہیں کرسکتا ہے کہ زمین کی قیمت منٹوں میں کس طرح زمین کی قیمت دوکر وڑ روپے سے 18 کروڑ کی ہوگئی ۔اشوک گہلوت نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست میں بنشی پہاڑ پور سے غیر قانونی کان کنی کے بعد گلابی پتھر رام مندر کےلیے بھجوایا جارہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ غیر قانونی طور سے لیے گئے پتھر کو اس ’’مقدس عمل ‘‘ میں استعمال نہ کیا جائے ، اس لیے ہم نے حکومت ہند سے غیر قانونی کان کنی کو قانونی حیثیت دلانے کی کوشش کی ۔خیال رہے کہ بھرت پور ضلع کا بنشی پہاڑ پور گلابی پتھر کے لیے مشہور ہے، اور اس پتھر کو رام مندر سمیت کئی اہم عمارتوں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا ہے۔اشوک گہلوت نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر جیسے ’مقدس کام‘ پر اعتماد کے بعد مالی ہیرا پھیری کی غیر اخلاقی سرگرمیوں سے ملک بھر کے ہزاروں ہندو عقیدت مندوں کو شدیدذہنی کوفت ہوئی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت کو اس معاملے کی بلا تاخیر تفتیش کرنی چاہیے ، تاکہ لوگوں کا اعتماد اور’آستھا‘برقرار رہے۔