رام نام کی لوٹ ہے، لوٹ سکے تو لوٹ-حسام صدیقی

اودھ میں پرانی کہاوت ہے’رام نام کی لوٹ ہے لوٹ سکے تو لوٹ‘۔ اس کہاوت کا اصل فائدہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی دو بچہ پارٹیاں جم کر اٹھا رہی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی رام کے نام پر ووٹوں کی لوٹ مچائے ہوئے ہے تو وشو ہندو پریشد پر مندر کے لیے اکٹھا چندے میں گھپلوں کے الزامات لگ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ۱۹۸۸ سے ۱۹۹۰ تک وشو ہندو پریشد نے مندر کے لیے ایک اینٹ اورکچھ روپیوں کی مہم گاؤں گاؤں چلائی تھی۔ بعد میںبتایا گیا تھا کہ چندے کی شکل میں وی ایچ پی نے آٹھ کروڑ روپئے اکٹھا کیے لیکن ان پیسوں کا کیا حساب کتاب ہے کوئی نہیں جانتا ہے۔ اب بھگوان رام کے عالیشان مندر کی تعمیر کے لیے پورے ملک سے ہزاروں کروڑ روپے اکٹھا کیے گئے تو وشو ہندو پریشد کے لیڈر اور مندر ٹرسٹ کے ایک اہم ذمہ دار چمپت رائے پر کروڑوں روپے کے گھپلوں کے الزام لگ رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سابق وزیر تیج نارائن پانڈے نے فیض آباد میں تو عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجئے سنگھ نے لکھنؤ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کے لیے زمین گاٹا نمبر۲۴۳، ۲۴۴ اور ۲۴۶ جس پر امرود کا باغ لگا ہوا ہے اسے ساڑھے اٹھارہ کروڑ روپیوں میں خریدا ہے۔ یہی زمین صرف پانچ منٹ قبل سلطان انصاری اور روی موہن تیواری نے ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک سے دو کروڑ میں خریدی تھی۔ دونوں ہی سودوں میں ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے اور رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ٹرسٹی انل مشرا گواہ ہیں۔ زمین خریدنے کے لیے ٹرسٹ کی میٹنگ میں اپروول بھی نہیں لیا گیا۔ گھپلا ہوا ہے اس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ سلطان انصاری اور روی موہن تیواری نے زمین کی رجسٹری کے لیے ضروری اسٹامپ پیپر شام کو پانچ بج کر بائیس منٹ پر خریدا لیکن مندر ٹرسٹ نے سلطان اور روی موہن سے زمین خریدنے کے لیے اسی دن شام کو پانچ بج کر گیارہ منٹ پر ہی اسٹامپ خرید لیے تھے۔وی ایچ پی کے چمپت رائے نے بڑی ہٹ دھرمی کے ساتھ میڈیا سے کہا کہ ایسے الزامات کی وہ پروا نہیں کرتے ان پر تو گاندھی کے قتل کا بھی الزام لگ چکا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ آپ لوگ اپنا کام کیجئے۔ اس مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے پوری خاموشی اختیار کررکھی ہے اور وی ایچ پی ہٹ دھرمی پر اتری ہوئی ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک کے کروڑوں لوگوں نے اپنی محنت کی کمائی میں سے اپنے خرچ کم کرکے مندر تعمیر کے لیے چندہ دیا اس چندے میں گھپلا کرکے دراصل کروڑوں لوگوں کی آستھا کی توہین کی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ کے آرڈر پر ایودھیا میں بھگوان رام کے مندر کی تعمیر ہورہی ہے اس لیے اب چندے کی رقم میں گھپلوں کی تحقیقات بھی سپریم کورٹ کو اپنی نگرانی میں ہی سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ(ای ڈی) سے کرانی چاہیے۔ پارٹی ترجمان نےکہا کہ یہ صرف پیسوں کی ہی نہیں آستھا اور یقین کی بھی لوٹ ہے۔
عام آدمی پارٹی کے سنجئے سنگھ اور سماج وادی پارٹی کے تیج نارائن پانڈے نے بھی اس پورے معاملے کی ای ڈی، انکم ٹیکس اور سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان دونوں کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر متعلقہ زمین کے دونوں سودوں میں ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائےاور مندر ٹرسٹ کے ٹرسٹی انل مشرا ہی گواہ کیوں ہیں۔ ان دونوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ آخر سلطان انصاری اور روی موہن تیواری سے ایسا کیا رشتہ ہے کہ یہ لوگ ان کے سودے میں گواہی دینے پہونچ گئے؟ سلطان انصاری اور روی موہن تیواری بھی کتنے بڑے پراپرٹی ڈیلر ہیں کہ انہوں نے دو کروڑ روپیوں میں جو بارہ ہزار اسّی مربع میٹر زمین ہریش اور کسم پاٹھک سے خریدی اس زمین کو ٹھیک پانچ منٹ بعد ساڑھے اٹھارہ کروڑ میں مندر ٹرسٹ کو فروخت کردی۔
وزیراعظم مودی اور ان کی سرکار نے بڑی چالاکی کے ساتھ رام مندر تعمیر کا کام وشو ہندو پریشد اور سرکار کے بنائے ہوئے ٹرسٹ کو سونپ دیا۔ رام مندر سے تو ملک کے سو کروڑ سے بھی  زیادہ لوگوں کی آستھا جڑی ہے۔ اس ٹرسٹ میں ہر طبقہ اور ہر پارٹی کے ہندوؤں کی شمولیت ہونی چاہیے تھی لیکن مودی سرکار نے اس کا ٹرسٹ آر ایس ایس والوں اور اپنے کچھ نزدیکی افسران کو ملا کر بنا دیا اسی لیے اس میں گھپلوں اور گھوٹالوں کی گنجائش میں اور بھی زیادہ اضافہ ہوگیا۔ یہ تو ایک معاملہ ہے جو منظر عام پر آگیا اگر کام کا ایمانداری سے آڈٹ ہوجائے تو شائد اور بھی کئی گھپلے اور گھوٹالے سامنے آسکتے ہیں۔ مندر کے لیے ویسے تو سرکار نے اونے پونے معاوضہ پر ہی کئی زمینیں اکوائر کرلیں پھر اس زمین کو پرائیویٹ پراپرٹی ڈیلر سے کیوں خریدا گیا۔ اگر وہ زمین مندر کے لیے ضروری تھی تو سرکار کو ہی اسے اکوائر کرکے مندر کو دینی چاہیے تھی لیکن اس صورت میں کروڑوں کے گھپلوں اور گھوٹالوں کی گنجائش نہیں رہتی۔
جیسا کہ ہر معاملے میں ہوتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی غلام میڈیا نے گھوٹالےکے اس معاملے کو شری رام جنم تیرتھ چھیتر ٹرسٹ اور اس کے جنرل سکریٹری چمپت رائے سے ہٹا کر سیدھے رام مندر سے جوڑ دیا ہے۔بی جے پی ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ جو لوگ بھگوان رام کا مندر بننے میں رکاوٹ ڈالنا چاہتےہیں وہی اس قسم کے اناپ شناپ الزام لگا رہے ہیں۔سنبت پاترا کے اس بیان کے بعد غلام میڈیا بھی اسی لائن پر چل پڑا اور گھوٹالے کےالزام لگانے والوں کو رام مندر کا مخالف قرار دیا۔
پتہ چلا ہےکہ گھوٹالے کاالزام لگنے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رپورٹ طلب کی تھی جواسی دن ان کے پاس آگئی اور انہوں نے چمپت رائے کو کلین چٹ بھی دے دی۔ چمپت رائے کی جانب سے آر ایس ایس کو بھی رپورٹ بھیجی گئی۔ مرکزی ہوم منسٹری نے بھی رپورٹ طلب کی تھی۔ خبر لکھے جانے تک یہ پتہ نہیں چل سکا تھا کہ آر ایس ایس اور ہوم منسٹری نے اس رپورٹ پر کیا کارروائی کی۔
پربھو شری رام کے نام پر اتنی بڑی بے ایمانی کہ دو کروڑ میں بعیہ نامہ ، دس منٹ میں ساڑھے اٹھارہ کروڑ میں ہوا ایگریمنٹ۔ جنم بھومی تیرتھ چھیترٹرسٹ پر یہ سنگین الزام، وزیراعظم سے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے ذریعہ دس منٹ پہلے خریدی گئی دو کروڑ کی زمین کا رجسٹرڈ ایگریمنٹ ساڑھے اٹھارہ کروڑ میں کرا لیا گیا۔ ایک ہی دن میں ہوئے بعیہ نامہ اور ایگریمنٹ میں ٹرسٹی انل مشرا اور میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ رہے۔ یہ الزام الگ الگ پریس کانفرنس کرکے عام آدمی پارٹی(عاپ) سے راجیہ سبھا ممبر اور پارٹی کے قومی ترجمان سنجئے سنگھ اور سماج وادی پارٹی کے سابق وزیر تیج نارائن پانڈے، کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ترجمانوں نے شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ پر لگاتے ہوئے بی جے پی کو گھیرا۔ تیج نارائن پانڈے نے سول لائن واقع ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس میں وزیراعظم سے معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے اور ذمہ داروں پر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس درمیان عام آدمی پارٹی(عاپ) کے راجیہ سبھا ممبر سنجئے سنگھ نے ایودھیا میں ر ام مندر کی تعمیر کرا رہے شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ پر بے ایمانی کے سنگین الزام لگاتے ہوئے اس کی جانچ سی بی آئی اور ای ڈی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کانفرنس میں سنسنی خیز الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے ٹرسٹ کے ایک ٹرسٹی انل مشرا کی مدد سے دو کروڑ روپے قیمت کی زمین ساڑھے اٹھارہ کروڑ روپے میں خریدی۔ یہ سیدھے سیدھے منی لانڈرنگ کا معاملہ ہے۔ سرکا ر اس کی سی بی آئی اور ای ڈی سے جانچ کرائے۔ تیج نارائن پانڈے کے ذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ پر زمین خریدنے میں گھوٹالے کے الزام پر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے کہا کہ ہم پر الزام لگتے ہی رہتے ہیں۔ سو سال سے الزام دیکھ رہے ہیں۔ ہم پر مہاتما گاندھی کے قتل کا الزام لگا ہے۔ تیج نارائن پانڈے نے کہا کہ ایودھیا کے باغ بجیسور میں واقع بارہ ہزار اسّی مربع میٹر ایک زمین کا بعیہ نامہ اٹھارہ مارچ شام سات بج کر پانچ منٹ پر بابا ہریش اور کسم پاٹھک نے کاروباری سلطان انصاری اور روی موہن تیواری کو دو کروڑ روپے میں کیا تھا۔ اس میں گواہ کے طور پر شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے ٹرسٹی انل مشرا اور میئر رشی کیش اپادھیائے موجود رہے۔ کہا کہ اسی دن سات بج کر پندرہ منٹ کے قریب اسی زمین کا رجسٹرڈ ایگریمنٹ سلطان انصاری اور روی موہن تیواری سے شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ نے ساڑھے اٹھارہ کروڑ روپئے میں کرا لیا۔ کہا کہ خاص بات رہی کہ ایگریمنٹ میں بھی ٹرسٹی انل مشرا اور میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ کے طور پر موجود رہے۔ ٹرسٹ نے سترہ کروڑ روپئے سلطان انصاری اور روی موہن تیواری کے کھاتے میں آرٹی جی ایس کے ذریعہ ٹرانسفر کیا ہے۔ پانڈے نے سوال کیا کہ جب پہلے سے اس زمین کا ریٹ ٹرسٹی اور میئر کو معلوم تھا تو ایسے کون سے حالات پیدا ہوگئے، اس زمین نے ایسا کون سا سونا اگل دیا کہ دو کروڑ میںبعیہ نامہ کرائی گئی زمین کو دس منٹ بعد ہی ساڑھے اٹھارہ کروڑ میں خریدنا پڑا۔ کہا کہ ملک کے لوگوں نے بھگوان شری رام کے مندر تعمیر کے لیے اپنے خون پسینے کی کمائی میں سے چندہ دیا،اس کا ٹرسٹ کے ذریعہ بندر بانٹ اور رام بھکتوں کو ٹھگنے کا کام کیا جارہا ہے۔ کروڑوں رام بھکتوں کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ پربھو شری رام کے نام پر اتنی بڑی بے ایمانی ہورہی ہے۔ ٹرسٹ کی بے ایمانی کا اس سے بڑا ثبوت نہیں ہوسکتا ہے۔ بعیہ نامہ اور ایگریمنٹ میں ٹرسٹی اور میئر ہی گواہ ہیں، اس سے ظاہر ہے کہ سارا کھیل میئر اور ٹرسٹی کی جانکاری میں ہوا ہے۔ سابق وزیر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ زمین کے نام پر جو لوٹ کی گئی ہے، اس کی سی بی آئی جانچ کرکے بے ایمانوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی ٹرانسفر کئے گئے سترہ کروڑ روپے کی بھی جانچ کرائی جائے کہ یہ پیسہ کن کن لوگوں کے کھاتوں میں گیا، اس کا کہاں استعمال کیا گیا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)