رام مندر ٹرسٹ میں گھپلا؟-حسام صدیقی

ایودھیا میں بھگوان رام کا عالیشان مندر بنانے کے لئے ذمہ دار شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ میں شامل کچھ لوگوں خصوصاً اس کے جنرل سکریٹری چمپت رائے پر زمین خریدنے میں گھوٹالوں کے الزام تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔زمین خرید معاملے میں گھپلاکیا گیا یا نہیں اس کے جو ثبوت الزام لگانے والوں یعنی عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجئے سنگھ اور سماج وادی پارٹی کے سابق وزیر تیج نارائن پانڈے نے پیش کئے اور الزامات کا جواب دینے میں آر ایس ایس، بی جے پی اور خود چمپت رائے نے جس طرح کی باتیں کی ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ ہماری بھی خواہش ہے کہ یہ الزام غلط ثابت ہوکیونکہ اگر بھگوان رام کے کام میں بھی بے ایمانی اور گھپلا ہوگیا تو پھر بچے گا کیا؟ ہم آج پوری دنیا کی قیادت کرنے اور وشو گرو بننے جیسے خواب دیکھ رہے ہیںاب اگر ہم بھگوان رام کے مندر کے چندے میںبھی گھپلا کرنے لگیں گے تو پھر کہاں وشو گرو اور کہاں عالمی قیادت؟ پھر تو یہ خواب چکنا چور ہی ہوجائے گا۔
سنجئے سنگھ اور تیج نارائن پانڈے کو دھمکیاں بھی خوب مل گئیں لیکن وہ دونوں ہی اپنے لگائے ہوئے الزامات واپس لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ الزام واپس لینا تو دور جب آر ایس ایس کی بچہ تنظیموں نے زیادہ ہنگامہ مچایا توسنجئے سنگھ نے ایک اور گھوٹالے کے کاغذات پیش کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ دو کروڑ کی زمین ٹرسٹ نے ساڑھے اٹھارہ کروڑ میں خریدی جس کا رقبہ بارہ ہزار پچاس اسکوائر میٹر ہے۔ اسی سے ملی ہوئی زمین گاٹا نمبر ۱۴۲ رقبہ دس ہزار تین سو ستر اسکوائر میٹر ٹرسٹ نے آٹھ کروڑ میں ہی خریدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے کے بھتیجے دیپ نارائن اپادھیائے نے سات جون کو مہیندر ناتھ مشرا سے ایک کروڑ نوّے لاکھ میں زمین خریدی ہے۔ اس کے بینک کھاتوں کی جانچ کی جائے کہ اتنا پیسہ دیپ نارائن اپادھیائے کے پاس کہاں سے آیا۔ سنجئے سنگھ کہتے ہیں کہ یوگی سرکار ان کے خلاف جو چاہے کاروائی کرے لیکن ٹرسٹ کے لوگ بھگوان رام کے نام پر اکٹھاکئے گئے چندے میں چوری کرنا بند کریں۔
ٹرسٹ کے چندے میں چوری کے الزامات کے جواب میں ٹرسٹ کے عہدیدار خصوصاً چمپت رائے اور بی جے پی لیڈران جو بیان دے رہے ہیں ان کا کوئی جواز نہیں ہے اور انہیں سن کر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ کسی اہم سوال پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ مثلاً کہا گیا کہ چمپت رائے تو انتہائی ایماندار شخص ہیں ان کے نہ بیوی نہ بچے، ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ اس کا جواب یہ بھی تو ہے کہ اس سے پہلے چمپت رائے نے کبھی دس بیس لاکھ روپئے بھی نہیں دیکھے تھے اب چار ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم ان کے کنٹرول میںہے۔اتنے پیسوں پر کنٹرول تو دور انہوں نے نہ اتنی بڑی رقم کبھی دیکھی تھی نہ دیکھنے کا خیال ہی انہیں آیا ہوگا۔ اس لئے اگر اب ان کی نیت ڈول گئی ہو تو اس کا پورا امکان ہے۔ آر ایس ایس کے کئی لوگ اقتدار میں آنے سے پہلے کافی ایماندار ہوا کرتے تھے جیسا ہم نے شروع میں ہی لکھا کہ بھگوان نہ کرے رام مندر کے پیسوں میں بھی چوری کی گئی ہو لیکن جس طرح سےچند لوگوں کا ایک گینگ ہی ٹرسٹ کے لئے زمینیں خریدنے کا کام کررہا ہے اس سے شک تو پیدا ہی ہوتا ہے۔ چندے میں کمیشن کھانے کے الزامات کے جواب میں اصل بات سے الگ ہٹ کر بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے لوگ جس قسم کی ٹالنے والی باتیں کررہے ہیں وہ بھی چوری کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔ مثلاً سوال یہ ہےکہ زمین خرید میں چمپت رائے نے گھوٹالے کئے جواب یہ ہے کہ جو لوگ رام مندر بنتے نہیں دیکھنا چاہتے وہی ایسی باتیں کرتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ مندر کے مخالفین ہی چندے میں گھوٹالے کی بات کررہے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹرسٹ کی چندہ چوری کی بات کرنا بھگوان رام اور ان کے مندر کی مخالفت کیسے ہوگئی۔
اس چوری اور گھوٹالے کے لئے ملک کی ہندو تنظیمیں اور سبھی سیاسی پارٹیاں خصوصاً کانگریس بھی ذمہ دار قرار دی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے بھارت سرکار کو آرڈر دیا تھا کہ مندر تعمیر کے لئے ایک ٹرسٹ بنایا جائےیہ تو نہیں کہاتھا کہ ٹرسٹ میں صرف آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ ہوں گے۔ جب مودی سرکار نے ایسا کیا تو اسی وقت ہندو تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کوسپریم کورٹ جا کر کہنا چاہئے تھا کہ ٹرسٹ میں ملک کے چاروں شنکراچاریوں اور تمام بڑی ہندو تنظیموں اور کانگریس پارٹی کو بھی نمائندگی دی جانی چاہئے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی نے تو مندر کے نام پر صرف دنگا فساد کرایا اصل کام توکانگریس نے کیا سب سے پہلے ۱۹۸۹ میں کانگریس نے مندر کا شیلانیاس کرایا پھر راجیو گاندھی نے ایودھیا سے ہی اسی سال ہونے والے لوک سبھا الیکشن کی شروعات کی۔ ۱۹۹۲ میں کانگریس کی پی وی نرسمہا راؤ سرکار نے مسجد کو شہید کرادیا۔ اگر مسجد کی عمارت کھڑی ہوتی تو سپریم کورٹ کے لئے مندر کے حق میں فیصلہ دے پانا آسان نہ ہوتا۔ اس لئے ٹرسٹ میں نمائندگی کا کانگریس کا دعویٰ سب سے زیادہ مضبوط بنتا تھا۔
ٹرسٹ بننے کے بعد سبھی سیاسی پارٹیاں، چاروں شنکر اچاریہ اور ہندو تنظیمیں خاموش رہیں۔ نتیجہ یہ کہ وزیراعظم مودی کو موقع مل گیا اور وہ ٹرسٹ میں صرف اور صرف آر ایس ایس کے لوگوں کو بھر سکیں، انہوںنے بھربھی دیا۔ اب ایک ہی تنظیم کے لوگوں کا ٹرسٹ پر قبضہ ہوگیا تو جو چاہیں سیاہ سفید کرتے رہیں انہیں چیک کرنے والا کوئی ہے ہی نہیں۔ کسی بھی اتنے بڑے اور اہم ٹرسٹ میں زمین، سامان یا جائیدادیں خریدنے کا فیصلہ کرنے کے لئے باقاعدہ ایک پرچیز کمیٹی ہوتی ہے ر ام مندر ٹرسٹ میں کوئی کمیٹی نہیں سب کچھ چمپت رائے ہی ہے۔ بنارس میں بھی جو مندر کاریڈور بن رہا ہے اس کے لئے کوئی بھی خرید کے لئے باقاعدہ ایک پرچیز کمیٹی بنی ہوئی ہے۔ ایودھیا میں کمیٹی کیوں نہیں پورے معاملے پر غور کرنے سے بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ چمپت رائے نے ایک ٹرسٹی انل مشرا اور ایودھیا کے آر ایس ایس کے میئر رشی کیش اپادھیائے جیسوں کا ایک کاکس بنا کر زمین خریدنے کے نام پر مندر کے لئے اکٹھا کئے گئے چندے میں گھوٹالا کررہے ہیں۔