اجودھیا میں رام کے نام پر مہابھارت ـ مولانا عبدالحمید نعمانی

کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد سے خیال یہ تھا کہ رام کے نام پر کمائی اور سیاست کرنے والے کشمیر کا رخ کریں گے، پلاٹس خریدنے کے لیے، لیکن رام مندر کی تعمیر کے نام پر چندہ اور آمدنی سے ہندوتو وادیوں کو لگا کہ اجودھیا زیادہ مفید ہے، ایودھیا کا مطلب ہے، جہاں یدھ نہ ہو، لیکن ایودھیا کے نام پر بھارت میں سب سے زیادہ مہا بھارت ہو رہی ہے، پہلے سیکڑوں کروڑ روپے کا حساب کتاب نہیں ہے لیکن نئے چندے کے پیسے کو ٹھکانے لگانے کے لیے کھیل شروع ہو گیا، مزعومہ جنم بھومی پر مندر بنانے کے بجائے مزید زمین کی خریداری کا معاملہ کیا ہے؟ ہم نے رام چندر کے بارے میں اچھا خاصا پڑھا ہے، ایک درجن سے زائد تو ہمارے پاس رامائن ہیں ، بھارت میں تقریباً تین سو رامائن لکھی گئی ہیں، الگ الگ علاقے میں اور ملک سے باہر بھی، انڈونیشیا اڈیشن رامائن کا بھی مطالعہ کیا اور یہ ہمارے پاس ہے، سب میں کچھ نہ کچھ فرق اور کمی بیشی ہے، والمیکی کی مکروہ صورت والی راون کی بہن شوروپنکھا، کمبن کے یہاں آکر انتہائی خوب صورت ہو جاتی ہے، رامائن سیریل میں بھی وہ خوب صورت دکھائی گئی ہے، قرآن کی طرح تواتر سے رامائن منتقل نہیں ہوئی ہے، ہم نے بہت سی باتوں کا مطالعہ کیا ہے، 1980 کے بعد رامائن اور اس کے متعلقات پر بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے، لیکن یہ آج تک کوئی اطمینان بخش طریقے پر نہیں بتا سکا ہے کہ والمیکی کا عہد اور زمانہ کون سا ہے؟ ہم جب کتب حدیث، خصوصاً بخاری شریف اور اس کی شرح فتح الباری اور عمدۃ القاری اور ابن جریر طبری کی تاریخ و تفسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک الگ احساس سے گزرتے ہیں، واقعہ اور قول کا سلسلہ سند ہے، تدوین قرآن و حدیث کی باقاعدہ تاریخ ہے، لیکن رامائن ،مہابھارت اور دیگر گرنتھوں کی تدوین کی باقاعدہ کوئی تاریخ نہیں ہے، بس کچھ اندازے لگائے گئے ہیں ـ
اس سلسلے میں راقم سطور دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں شامل "ہندو ازم: تعارف و مطالعہ” میں حوالے دیے ہیں، جب ابہام ہوتا ہے تو کوئی بھی کچھ بھی کہہ اور لکھ سکتا ہے، اس میں بہت سے لوگوں نے اپنی اپنی ذہینت اور ذہانت سے کام لے کر کرداروں کو اپنے اپنے حساب سے پیش کر دیا ہے، تاہم پہلے سے منتقل روایات میں اصل باتیں بھی محفوظ ہیں، جن سے حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے اور اسلام کے متون میں اصلی حالت میں محفوظ نظر آتی ہے ، مثلاً تمام دیوی دیوتا مدد کے لیے اوپر کی طرف دیکھتے ہیں اور اوپر والے بھی اوپر دیکھتے نظر آتے ہیں، برہما، وشنو، مہیش (شیو) بھی اپنے سے اعلی ترین طاقت کا حوالہ دیتے ہیں کہ اس کے فیصلے کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے، پرانوں، عوامی روایات، رامائن، مہابھارت کو کیمرا پر اتار دیا گیا ہے، یوٹیوب پر سیکڑوں سیریز ہیں، ان کو غور سے دیکھنے سننے سے کئی باتیں سمجھ میں آتی ہیں، رامائن سے بھی بہت کچھ سمجھ میں آتا ہے اور مہا بھارت سے بھی، رام چندر کو سماج میں ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ صبر و تحمل اور روایات کا احترام کرتے نظر آتے ہیں، لیکن ہندوتو وادی سماج میں رام کے بجائے راکششوں کے زیادہ اثرات نظر آتے ہیں، نہتے اور اکیلے پر حملہ، قتل، رام کے مسلک و روایت اور کشتری دھرم کے خلاف ہے، عورت پر حملہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے، راون جب بے ہتھیار ہو گیا تو رام نے جنگ روک دی اور حملہ نہیں کیا ، قریب المرگ راون سےـ اس کے پاس موجود علوم کو حاصل کرنے کے لیے لکشمن سے کہتے ہیں ان کی طرف سے ٹال مٹول کے بعد خود پہنچ جاتے ہیں، وہ جنگل میں بھی بیوی کے ساتھ ہیں ، سر پر خوب صورت بال ہیں، باتوں میں نرمی اور مٹھاس ہے لیکن رام کے نام پر سیاست کرنے والے، رام سے دور نظر آتے ہیں، سر پر بال نہیں، وحشت کا منظرہے، سیتا کو الگ کر کے جے شری رام کا نعرہ لگایا جاتا ہے، سیتا کے بغیر رام، ادھورے ہیں، یوگی میں رام کی کوئی بات نظر نہیں آتی ہے، مودی بھی رام کے ساتھ کھڑے نہیں دکھائی دیتے ہیں، پھر رام راجیہ کی بات کا مطلب کیا ہے،؟ رام نے اپنے نام پر مندر بنانے کا کام نہیں کیا تھا، متنازعہ مندر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے، رام کے نام سے سیاست اور تنازعات چپک کر رہ گئے ہیں، پہلے ایودھیا سے نکال کر راون سے جنگ اور ایودھیا واپسی کے ساتھ سیتا جلا وطن ہو گئیں ، یہ کیا ہے؟ وہ بھارت کی منتھرا اور دھوبی لوگ کون ہیں جو رام، سیتا دونوں کو ایودھیا سے نکالنے کا راستہ ہموار کرنے کا کام کرتے رہتے ہیں؟ رام کا چرچا بہت ہے، لیکن رام کہاں ہیں؟ وہ لنکا فتح کرنے کے بعد وہاں کی کرسی اقتدار پر نہیں بیٹھے، لیکن یہاں قبضہ جمانے کے لیے کیا کچھ ہو رہا ہے؟اقتدار پر قبضہ کے کھیل نے ہی تو رام کو اجودھیا سے نکالا تھا، دیس واسیوں کو سیتا کو بنانے کا کھیل کب تک چلے گاکہ کبھی بنواس میں، کبھی راکشش کی قید میں یا جلا وطنی کی حالت میں ـ