راجیہ سبھا نے وزرا اور ممبران پارلیمنٹ کے الاؤنس اور تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق بلوں کو منظوری دی

نئی دہلی:راجیہ سبھا نے جمعہ کے روز وزراء کی تنخواہوں اور الاؤنس سے متعلق ترمیمی بل اور ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں ایک سال کے لئے 30 فیصد کمی کرنے کی فراہمی سے متعلق منظوری دیدی۔ اس رقم کوویڈ 19 وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ایوان بالا میں ایک مختصر بحث و مباحثے کے بعد وزراء کی تنخواہ اور الاؤنس سے متعلق ترمیمی بل 2020 اور ممبر پارلیمنٹ تنخواہ، الاؤنسز اور پنشن ترمیمی بل 2020 کو آواز کے ذریعہ منظور کرلیا گیا۔ یہ بل اس سے متعلق آرڈیننس کی جگہ لایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن ایکٹ 1954 اور ممبران کی تنخواہوں اور الاؤنسز ایکٹ 1952 میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 30 فیصد کمی کی گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں ان بلوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے، حزب اختلاف کے بیشتر ارکان نے کہا کہ انہیں ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ میں کمی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ رکن پارلیمنٹ کے فنڈز کی معطلی پر دوبارہ غور کریں۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے اس مباحثے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کووڈ 19 کے سبب پیدا ہونے والی غیرمعمولی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے متعدد اہم اقدامات اٹھائے ہیں، یہ اقدام ان میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان دوستی گھر سے شروع ہوتی ہے لہذا ممبران پارلیمنٹ یہ حصہ ڈال رہے ہیں اور یہ چھوٹی یا بڑی رقم کا نہیں بلکہ جذبات کا سوال ہے۔