راجستھان: کانگریس حکومت کی اردو دشمنی – محمدقمرانجم فیضی

 

رابطہ:6393021704

یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں جو نئی تعلیمی پالیسی آئی ہے اس میں سہ لسانی فارمولے کی بات کی گئی ہے،جس کی وجہ سے کئی ہزار سرکاری اسکولوں میں اردو، سندھی پنجابی زبان کی تعلیم بندہوجائےگی۔

 

اس کے تحت راجستھان کے تعلیمی آفیسر سوربھ سوامی نے فرمان بھی جاری کردیاہے، جس کے تحت اب اسکولوں میں سہ لسانی فارمولے کے تحت ہندی انگریزی کے ساتھ صرف سنسکرت زبان میں تعلیم دی جائے گی اور جن اسکولوں میں سنسکرت کے ساتھ اردو کی بھی تعلیم ہورہی تھی وہاں پر اردوکے ٹیچروں کے عہدے کو ختم کردیاجائے گا، ایسے میں اردو یا سندھی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے ان زبانوں میں تعلیم حاصل نہیں کرپائیں گے،فرمان کے مطابق (اسٹافنگ پیٹرن) 28 مئی 2019 قانون کے تحت ہر ایک سرکاری اسکول میں سہ لسانی فارمولے کے تحت صرف ایک ہی زبان رکھی جاسکتی ہےاور اس میں صرف ایک ہی استاذ کے رکھنے کا قانون ہے۔ تعلیمی امور کے آفیسر کا یہ فرمان آمرانہ ہے جو حقیقت کو مٹانے اور جمہوری حق کو پامال کرنے جیساہے، کیونکہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا ہم کو مکمل اختیار حاصل ہے،راجستھان میں اردو زبان زوال پذیر ہے،ریاست کی تشکیل کے بعد سے ہی اردو زبان و ادب کی ترقی کے تئیں کبھی بھی کوئی حکومت سنجیدہ نہیں رہی ہے۔ ریاست کے اردو اسکولوں کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو اسکولوں میں معقول تعداد میں نہ تو اردو اساتذہ ہیں اور نہ ہی انگریزی کو چھوڑ کر اردو مضمون کے علاوہ دیگر مضامین کی کتابیں اردو زبان میں دستیاب ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو کے طلبا ہندی زبان کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کئی اردو اسکولوں میں اردو کے استادہی نہیں ہیں۔ ایسے حالات میں کئی اردو اسکولوں کا ہندی اسکولوں میں انضمام ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاست کی تشکیل کے تقریباً آٹھ سال بعد طویل زمانے کے منظور شدہ چار ہزار چار سو ایک اردو پرائمری اساتذہ کی بحالی کا عمل شروع بھی ہوا تو کئی اڑچنیں پیدا ہو گئیں ۔ محکمۂ تعلیم نے ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لئے راجستھان پبلک سروس کمیشن کو فائل بھیجے لیکن کمیشن سے محکمۂ تعلیم کو دو بار فائل واپس کئے گئے ۔ خدا خدا کرکے امتحان کا انعقاد کیا گیا لیکن اردو ٹیچر کی تقرری میں علاقائی زبانوں کے مضمون میں لازمی طور پر کامیاب ہونے کی شرط کی وجہ سے چند درجن ہی امیدوار کامیاب ہو سکے۔ جب کہ راجستھان کے کئی ایم ایل ایز نے اردو زبان، اردو اسکول اور اردو اساتذہ کے تئیں غیرسنجیدہ رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور حکومت کو مکتوب ارسال کرکے اس طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔

 

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سال 2008 میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے تعلق سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا لیکن اب تک اس کا عملی نفاذ نہیں ہوا ہے۔

 

اردو کی بقاو تحفظ کےلئےمختلف ملی تنظیموں کے ذمے داران و سیاسی جماعتوں کے عہدیداران نےریاست کی کانگریس حکومت کو مکتوب ارسال کرکے اس طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے،جس میں انھوں نے کہاہے کہ اردو کے خلاف حکومت راجستھان کی سازش اور متعصبانہ رویہ آئین ہند کے خلاف ہے؛ لہذا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اردو کو دسویں جماعت میں پہلے کی طرح لازمی مضمون کے طور پر رکھے اور اردو کی ترقی کے لیے محبین اردو کے تمام تر مطالبات پورے کیے جائیں۔

 

ماہرین تعلیم کا کہناہے کہ آئین ہند کی دفعہ 350 اے کے مطابق ریاستی سرکار کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر کسی کو اس کی مادری زبان میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے؛ لیکن حکومت راجستھان اردو کے تعلق سے جس طرح کے منصوبے بنارہی ہے وہ اردو کا گلا گھونٹنے کی ناپاک سازش ہے، کانگریس سرکار اردو کی قاتل ہے اور ملک کی کسی زبان سے غداری ملک سے غداری کے مترادف ہے۔اردو ہماری مادری زبان ہونے کے ساتھ ساتھ آزادی ہند میں اہم کردار ادا کرنے والے مجاہدین آزادی کی تحریک کا حصہ رہی ہے؛ لہذا اردو کے خلاف حکومت کی کوئی بھی پالیسی قابلِ قبول نہیں ہو گی۔اردو کی کوکھ سے جنم لے کر ہندی زبان پلی بڑھی ہے؛ لہذا اصولی بات یہ ہے کہ ہندی زبان کی بقا کے لیے اردو کی بقا لازمی اور ضروری ہونی چاہیے۔ اسٹافنگ پیٹرن سے پورے راجستھان میں اردو کا صفایا ہوا ہے، پچھلی حکومت نے اردو کے ساتھ سوتیلا برتاؤکرکے ایسا حال کیاتھا۔ آج 2سال بعد کانگریس بھی اسی حکومت کے نقش قدم پر چل رہی ہے، لہذا اسٹافنگ پیٹرن اردو کا بہت بڑا دشمن ہے،جب کہ قانون کہتاہےکہ مادری زبان کی تعلیم حاصل کرواؤ، سہ لسانی فارمولے کے تحت تعلیم دلواؤ، لیکن راجستھان حکومت میں اردو، سندھی، پنجابی پر روک کیوں؟ اردو زبان پر ہورہے لگاتار حملے اردو کو ختم کرنے کی بہت بڑی سازش ہے ۔ نشانہ اردوہے ٹیچر نہیں ۔ راجستھان حکومت اس پر خصوصی توجہ دے ۔اس اسٹافنگ پیٹرن کو ختم کرے۔

 

محترمہ زاہدہ خان ایم ایل اے بھرت پور راجستھان نے اپنے مکتوب میں کہاہے کہ جاری فرمان کے مطابق جہاں پر تیسری زبان کی تعلیم کے تحت سنسکرت کے ساتھ اردو سندھی پنجابی پڑھائی جارہی ہے اب وہاں ایک ہی زبان کی تعلیم ہوگی، ایک اسکول میں ایک ہی زبان کی تعلیم ہوسکتی ہے جوکہ تعلیم کے حقوق کے بالکل منافی ہے۔

 

جن اسکولوں میں کم تعداد میں مسلمان طلبا پڑھتے ہیں وہاں پر اردو، سندھی، پنجابی کی جگہ پر سنسکرت پڑھنے کو مجبور ہوں گے، ایسی حالت میں بہت سارے مسلم بچے اردو پڑھنے سے رہ جائیں گے، ایسی حالت میں جاری کردہ فرمان کو منسوخ کروا کر پہلے کی طرح درجہ 6 تا 8 میں کسی بھی ایک کلاس میں 10 طلبا ہونےپر دوسری زبان سنسکرت کے علاوہ اردو، پنجابی سندھی، کے ٹیچر کے عہدے کو بحال کیاجائے اور اس کوہی نافذ رہنے دیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹرعزیزالدین آزاد سکریٹری راجستھان کانگریس کمیٹی وسابق (ایم ایل اے)سوائی مادھوپور، واجب علی (ایم ایل اے) سیکری تہہ نگر ضلع بھرت پور راجستھان، نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اردو اور پنجابی و سندھی زبان میں تعلیم کو برقرار رکھا جائے اور نئے اساتذہ کی بھرتی کی جائے۔ ابھی فی الحال جو اساتذہ پڑھا رہے ہیں ان کو عہدےپر بحال

 

کیا جائے، اردو کی چاشنی اور مٹھاس سےمتاثر ہوکر آج پوری دنیا اردو کی گرویدہ ہے اور مختلف ملکوں کے زبان دان اردو ادب کا شوق رکھتے ہیں؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو کے مادروطن میں ہی اس کے ساتھ تعصب کا برتاؤ کیا جارہا ہے۔ ہم اردو کے چاہنے والے لوگ کانگریس سرکار کی اردو مخالف سازشوں کو ناکام بناکر رہیں گے۔اسکولوں سے اردو کو لازمی مضمون سے خارج کرکے اختیاری مضمون کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے، جو اردو کے خلاف ایک گہری سازش ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر ہی رکھا جائے۔ اردو ہماری مادری زبان ہے، اس سے ہماری تہذیب زندہ ہے، اس سے ہماری شناخت قائم ہے؛ لہذا ہم اردو کے خلاف حکومت کی ہر سازش کے خلاف ہیں اور اردو کی بقا و تحفظ کے لیے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)