راجیہ سبھا رکن مسٹرگوگوئی سے ملیے!(اداریہ روزنامہ انڈین ایکسپریس)

ترجمہ:نایاب حسن

اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق چیف جسٹس آف انڈیارنجن گوگوئی کا راجیہ سبھا میں پایاجانا خاص ہوگا،ان کا تجربہ،ان کی حکمت و دانش اور انھیں ملک کے اعلیٰ دستوری ادارے کی سربراہی سے حاصل ہونے والے مقام و مرتبے سے ایوان کی کارروائیوں کوچارچاند لگے گا،مگر ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ جسٹس گوگوئی نے جس ادارے میں اپنی خدمات انجام دی ہیں، وہ اب گہری تاریکیوں سے دوچار ہے۔ہاں یہ تو ہے کہ مسٹر گوگوئی ریٹائر منٹ کے بعد مشتبہ طورپرحکومت سے فائدہ حاصل کرنے والے پہلے جج نہیں ہیں۔ان سے پہلے جسٹس رنگناتھ مشرا1991میں چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے،اس کے بعد انھیں نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا چیئرمین اور کچھ سالوں کے بعد کانگریس کے ذریعے راجیہ سبھاایم پی بنایاگیاتھا۔ماضی بعید کی طرف اگر نظر دوڑاتے ہیں، تو ہمیں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم سی چھاگلہ نظر آتے ہیں،جنھیں نہروکے دور میں امریکی سفیر اور برطانیہ کاہائی کمشنر بنایاگیاتھا۔مودی نے بھی اپنے پہلے دورِ حکومت میں سابق چیف جسٹس پی سدا سیوم کو کیرالہ کا گورنربنایاتھا۔ایسی مزید مثالیں مل سکتی ہیں،مگر ان کے باوجود اگر حالیہ واقعے کے بعد جسٹس لوکر نے یہ کہاہے کہ”آخری ستون بھی گرگیا“توان کی اس بات کی کچھ خاص وجوہات ہیں؛کیوں کہ اگر ماضی میں ایسی متعدد غلطیاں کی گئی ہیں،توان کی وجہ سے اِس غلطی کو درست نہیں قراردیاجاسکتا۔اپنے پہلے ردِ عمل میں جسٹس گوگوئی نے کہاکہ”مقننہ اورعدلیہ دونوں کو بعض اوقات ساتھ مل کر تعمیرِ قوم کے لیے کام کرنا چاہیے“۔یہ ایک ایسے شخص کی طرف سے پیش کردہ تشویشناک فارمولاہے جسے اس سے بہتر کا علم ہونا چاہیے تھا؛کیوں کہ اس کی ٹائمنگ(گوگوئی محض چار ماہ قبل اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں)اور سیٹنگ ہی ایسی ہے۔ ایسے وقت میں جب عدلیہ کی آزادی کو مشکلات کاسامناہے؛بلکہ خود ان کے دور میں بھی ایساتھا اور ایسے وقت میں جبکہ انتظامیہ اپنی بڑی اکثریت و قوت کو ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے،ایسے میں یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت نے گوگوئی کو راجیہ سبھا کی رکنیت پیش کی اور انھوں نے قبول کرلیا،جوکہ شکست خوردگی اور عار کی بات ہے۔
جسٹس گوگوئی ان چار نہایت سینئر ججز میں سے ایک تھے،جنھوں نے جنوری2018میں ایک تاریخی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشراکے طریقۂ کارپر سوالات اٹھائے تھے۔ انھوں نے وضاحت وصراحت کے ساتھ عدلیہ کے تحفظ و سالمیت اور اسے تقویت پہنچانے کی بات کی تھی اور کہا تھاکہ اسی صورت میں عدلیہ کی آزادی باقی رہ سکتی ہے۔جولائی2018میں رام ناتھ گوئنکا میموریل لیکچر دیتے ہوئے انھوں نے حکومت کے منھ پر سچ بولنے کی آزادی اور”صاف شفاف“، ”آزاد“، ”بیباک“عدلیہ کی ضرورت کے بارے میں بات کی تھی؛”تاکہ اس کا اخلاقی و دستوری اثرورسوخ باقی رہے“۔انھوں نے”آزادصحافت اور بسااوقات سخت ججوں کی ضرورت“کے بارے میں بات کی تھی۔انھوں نے الیگزینڈرہیملٹن کے حوالے سے کہاتھا”شہری آزادی سے متعلق ہرچیز بشمول اس کی دودوسری شاخ انتظامیہ و مقننہ کو عدالتی وفاق سے ڈرتے رہنا چاہیے“۔
گوگوئی نے سیاسی سطح پر حساس ایشوز(جن میں حکومت بھی ایک فریق تھی جیسے آسام میں این آرسی،سبری مالا،ایودھیا،رافیل،سی بی آئی) سے متعلق کیسزکی سربراہی کرنے کے بعد راجیہ سبھا کی نامزدگی کو قبول کرنے کے بعد کچھ نہایت سنجیدہ سوالات کوجنم دے دیاہے،نہ صرف اپنے اوپر؛بلکہ اختیارات کی علیحدگی کے ادارہ جاتی عمل پر بھی۔عدلیہ کا اعتبارواستنادصرف اس میں نہیں ہے کہ لوگوں کو انصاف فراہم کیاجائے؛بلکہ ایسا لگنا بھی چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سپریم کورٹ ایک جج سے بہت بڑا ہے،مگر حکومت کی پیش کش کو”ہاں“بول کر جسٹس گوگوئی اس ادارے اوراس کی شبیہ کو پیش آنے والے نقصان کاحصہ بن گئے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*