کانگریس کا فیصلہ: راجیہ سبھا کے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں اتاراجائے گا اپوزیشن کامشترکہ امیدوار

 

نئی دہلی:کانگریس نے منگل کے روز فیصلہ کیا ہے کہ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لئے اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ امیدوار کھڑا کیا جائے گا اور تمام ہم خیال جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کی سربراہی میں اسٹریٹجک گروپ کی ڈیجیٹل میٹنگ نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے یوپی اے کی ہم خیال جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوں گی۔ دوسری جماعتوں کو لینے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے بقول اتحادیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لئے کس پارٹی سے امیدوار ہوگا اور کون ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ ایوان بالا میں جے ڈی یو راجیہ سبھا ممبر ہریونش کی میعاد ختم ہونے کے بعد یہ عہدہ خالی ہوگیا ہے۔ ہریونش ایک بار پھر راجیہ سبھا کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔ کانگریس کے اجلاس میں پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد، ڈپٹی لیڈر آنند شرما، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری، دونوں ایوانوں کے چیف وہپ، سابق مرکزی وزیر منیش تیواری اور کچھ دیگر لیڈران شریک تھے۔آزاد، شرما اور تیواری ان 23 لیڈران میں شامل ہیں جنہوں نے سونیا گاندھی کو ایک خط لکھ کر کانگریس میں جامع تنظیمی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد خطوط لکھنے والے یہ لیڈران پارٹی قیادت کے سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اسٹرٹیجک گروپ کے ڈیجیٹل اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے حکومت کی طرف سے لائے جانے والے کچھ آرڈیننس کی مخالفت کرے گی۔ ان آرڈیننس میں انشورنس اور دیوالیہ پن معذوری کوڈ (آئی بی سی) میں ترمیم اور وزیر اعظم کیئرز فنڈ میں گرانٹ پر انکم ٹیکس میں 100 فیصد کمی سے متعلق آرڈیننس ہیں۔