راجیہ سبھا کے 68 سال کی مدت میں اپوزیشن کی اکثریت رہی لیکن قانون بنانے پر اثر نہیں پڑا:نائیڈو

نئی دہلی:راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے بدھ کو کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے 68 سال کی مدت کار میں 39 سال اپوزیشن کے ارکان کی تعداد زیادہ رہی ہے لیکن اس کا قانون بنانے پر منفی اثر نہیں پڑا۔انہوں نے راجیہ سبھا کی پہلی میٹنگ کی 68 ویں سالگرہ پر فیس بک پر لکھے پوسٹ میں ایوان بالا کا سفر یاد کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔نائیڈو نے کہاکہ راجیہ سبھا کا الیکشن اور مدت لوک سبھا سے مختلف ہوتی ہے۔اس سے کسی حکومت کے لئے ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے کہ اس کے پاس لوک سبھا میں ضروری اکثریت ہو لیکن راجیہ سبھا میں نہ ہو۔گزشتہ چند سالوں میں یہی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پہلی بار 1968-70 کے دوران ہوا تھا اور گزشتہ 31 سالوں سے اسی طرح کی صورتحال بنی رہی ۔نائب صدر نے کہا کہ راجیہ سبھا کے اس سال کے بجٹ سیشن تک 5472 میٹنگیں ہوئیں اور اس نے 3857 بل منظور کئے ۔انہوںنے 1961، 1978 اور 2002 میں تین سیشن کا بھی ذکر کیا جب راجیہ سبھا نے بالترتیب جہیز ممنوع بل 1959، بینکاری سروس کمیشن (نرسن) بل 1977 اور دہشت گردی کی روک تھام بل 2002 کو ناقابل قبول کر دیا تھا۔1959 میں اس وقت کی حکومت کے پاس ایوان بالا میں اکثریت تھی۔سال 1970 میں بھی راجیہ سبھا کا لوک سبھا سے الگ موقف تھا۔اس وقت راجیہ سبھا نے 24 ویں آئینی ترمیم بل کو مسترد کر دیا تھا جس میں اس وقت کے حکمرانوں کی ریاستوں کو ختم کرنے کی شق تھی۔ایسے ہی دو اور آئین ترمیم بل تھے جن میںپنچایتوں اور نگر پالیکائوں کو مضبوطی فراہم کرنے کی بات کہی گئی تھی،انہیں بھی راجیہ سبھا نے مسترد کر دیا تھا جو بعد میں جاکر پارلیمانی قانون بنے۔نائیڈو نے موجودہ حکومت کے پاس کافی تعداد نہ ہونے کے باوجود جی ایس ٹی، تین طلاق، جموں کشمیر تنظیم نو، شہریت ترمیم جیسے بہت اہم بل کو منظور کئے جانے کو بھی یاد کیا۔