مدھیہ پردیش:راجیہ سبھا انتخابات سے قبل کانگریس کو جھٹکا

بی ایس پی-ایس پی اور آزاد ایم ایل اے پہنچے بی جے پی دفتر
بھوپال:مدھیہ پردیش میں 19 جون کو راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے انتخابات سے قبل کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا کے ساتھ آج ایس پی، بی ایس پی اور آزاد ایم ایل اے بی جے پی کے دفتر پہنچے۔ پارٹی کے پاس پہلے ہی 107 ووٹ ہیں۔جمعرات 18 جون کو بی ایس پی کے ایم ایل اے رام بائی، سنجیو سنگھ کشواہا، ایس پی کے ایم ایل اے راجیش شکلا اور آزاد ایم ایل اے وکرم سنگھ رانا اور سریندر سنگھ شیرا بی جے پی ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ مانا جارہا ہے کہ یہ چاروں ایم ایل اے بی جے پی امیدواروں کی حمایت کریں گے۔حالانکہ بی جے پی کو اپنے دونوں امیدواروں کو جیتنے کے لئے صرف 104 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اس وقت ان کے پاس 107 ووٹ ہیں۔ ان پانچوں ممبران اسمبلی کے ووٹوں سے پارٹی کے 112 ووٹ ہوں گے۔ ویسے ایک سیٹ جیتنے کے لئے 52 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ بی جے پی نے جیوتی رادتیہ سندھیا اور پروفیسر سومر سنگھ سولنکی کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔حالیہ مساوات کے مطابق کانگریس کو تیسری نشست ملنے کا امکان ہے۔ دگ وجے سنگھ کانگریس سے پہلے امیدوار ہیں اور پھول سنگھ باریا دوسرے امیدوار ہیں۔ کل اسمبلی میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔شیو راج سنگھ اور بی جے پی مارچ کے مہینے میں ہی کمل ناتھ کی زیرقیادت کانگریس حکومت کے خاتمے کے بعد چوتھی بار اقتدار میں واپس آئے تھے۔ راجیہ سبھا کی ان نشستوں کے لئے انتخابات اسی مہینے میں ہونے تھے، لیکن کورانا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔