راجستھان میں بازی کیوں پلٹی؟-معصوم مرادآبادی

راجستھان میں مدھیہ پردیش کی طرزپر کانگریس حکومت کو گرانے کی سازش بری طرح ناکامی سے دوچارہوئی ہے۔ اب کانگریسی کے ان ممبران اسمبلی کو اپنی رکنیت بچانے کے لئے پاپڑ بیلنے پڑرہے ہیں، جنھوں نے بی جے پی کے دام فریب میں آکر بغاوت کا پرچم بلند کیا تھا۔ایسی آڈیوز منظرعام پر آئی ہیں جن میں اقتدار کے دلال باقاعدہ ممبران اسمبلی کی بولیاں لگارہے ہیں۔ سینئر کانگریسی ممبر اسمبلی بھنور لال شرما سے دلال سنجے جین یہ کہتا ہوا نظرآرہا ہے کہ ”رقم کی ادائیگی میں آپ کی بزرگی کا خیال رکھا جائے گا۔“ ہندوستانی سیاست اب ایک ایسی پیٹھ میں تبدیل ہوگئی ہے، جہاں ممبران اسمبلی کے باقاعدہ بازار لگنے لگے ہیں اور ان کی ایسے ہی خرید وفروخت ہورہی ہے جیسی کہ مویشیوں کی ہوتی ہے۔سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ اس بازاری سیاست کو فروغ دینے کا الزام ایک ایسی پارٹی کے سر ہے، جو خود کو سب سے مختلف قرار دیتی ہے۔ ماضی کی تمام خرابیوں کے لئے کانگریس اور اس کی قیادت کو مورد الزام قرار دینے والی بی جے پی اب خود ان برائیوں میں گردن تک ڈوب گئی ہے۔راجستھان میں ممبران اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کے لئے25 کروڑ سے 35کروڑ تک دینے کی کو شش ہوئی۔ بولی لگانے والے دلال سنجے جین کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور کانگریس کے ان دو ممبران اسمبلی بھنور لال شرما اوروشوندر سنگھ کو پارٹی سے برخاست کردیا گیا ہے جنھوں نے سنجے جین سے بات چیت کی تھی۔خرید و فروخت میں مبینہ طور پر شامل مرکزی وزیر گجیندرسنگھ شیخاوت کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگئی ہے۔
کانگریس کے ناراض لیڈر سچن پائلٹ کو توڑ کر بی جے پی نے راجستھان کی گہلوت سرکار کو زمیں بوس کرکے وہاں اپنا پرچم لہرانے کی جو منصوبہ بندی کی تھی،اس کی ناکامی کے پیچھے خود بی جے پی لیڈران کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ ایک طرف جہاں سچن پائلٹ گہلوت سرکار کو گرانے میں مصروف تھے تو وہیں دوسری طرف راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے گہلوت سرکار کو بچانے کے لئے سرگرم تھیں۔ یہ الزام کسی اور نے نہیں خودراجستھان سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ہنومان بینی وال نے لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گہلوت سرکار کوبچانے کے لئے وسندھرا نے کئی کانگریسی ممبران اسمبلی کو فون کئے۔ ناگور اور سیکر کے دوجاٹ ممبران اسمبلی کووسندھرا نے فون کرکے پائلٹ خیمہ سے دور رہنے کے لئے کہا اور یہ دونوں درمیان سے ہی گھر واپس آگئے۔بینی وال کا کہنا ہے کہ وسندھرا اورگہلوت میں سازباز ہے۔دراصل راجستھان کی گہلوت سرکار کو گرانے کی منصوبہ بندی کرنے والے بی جے پی لیڈروں نے وسندھرا راجے کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ وہ اس بات پر ہرگز آمادہ نہیں ہوسکتی تھیں کہ ان کے ممبران اسمبلی کی حمایت سے سچن پائلٹ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوں۔ اطلاعات تو یہاں تک ہیں کہ انھوں نے اپنے حامی ممبران اسمبلی کا الگ گروپ بناکر اشوک گہلوت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ بی جے پی ہائی کمان کو جب اس کی بھنک لگی تو فوراً سچن پائلٹ کی حمایت سے ہاتھ کھینچ کر انھیں منجھدار میں چھوڑ دیا گیا۔دراصل سچن پائلٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ساتھ تیس ممبران اسمبلی ہیں اور وہ راجستھان میں گہلوت سرکار کا تختہ پلٹ سکتے ہیں، لیکن جب گنتی ہوئی تو وہ صرف 19 ممبران ہی پیش کرپائے، جو بغاوت کے لئے مطلوبہ تعداد سے کم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان ممبران اسمبلی کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے اور وہ اپنی ممبرشپ بچانے کے لئے عدالت کی پناہ میں گئے ہیں۔
سیاست میں وفاداریاں خریدنے کا کھیل نیا نہیں ہے۔ سارے ہتھکنڈے پرانے ہیں اور اس میں کوئی بھی پارٹی دودھ کی دھلی ہوئی نہیں ہے، لیکن ایک ایسے وقت میں جب پوراملک کورونا کی انتہائی مہلک وبا سے لڑرہا ہے اور ملک کے کئی حصوں میں لاک ڈاؤن کی واپسی ہوئی ہے تو سیاست دانوں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ حسا س واقع ہوں گے اور ان کی ساری توجہ ملک کے پریشان حال عوام پر مرکوز ہوگی، لیکن یہ توقع تو گزشتہ مارچ میں اسی وقت ٹوٹ گئی تھی جب بی جے پی نے جوڑ توڑ کرکے مدھیہ پردیش میں کانگریس سرکار گراکر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔یہ ایسے نازک وقت میں ہوا تھا جب پورے ملک میں سخت لاک ڈاؤن نافذ تھا۔ سینکڑوں غریب اور مزدور سڑکوں پر بھوکے پیاسے پیدل چلتے ہوئے بے موت مررہے تھے۔ایسے نازک وقت میں جیوتیہ رادتیہ سندھیا کے کاندھوں پر سوار ہوکر بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں اپنی سرکار بنوائی تھی۔اب سندھیا کے بعد یہی راستہ راجستھان کے نائب وزیراعلیٰ سچن پائلٹ نے منتخب کیا اور وہ بی جے پی کی مدد سے اشوک گہلوت سرکار کو گرانے کے لئے کمربستہ ہوگئے۔ لیکن یہاں بازی پوری طرح پلٹ گئی اور سچن پائلٹ کو نہ صرف نائب وزیراعلیٰ کی کرسی سے برطرف کیا گیا بلکہ انھیں کانگریس کی صوبائی صدارت سے بھی محروم ہونا پڑا ہے۔اشوک گہلوت کے خلاف سچن پائلٹ کی بغاوت کی بنیاد اصولوں اور نظریات پر بالکل نہیں تھی بلکہ یہ واضح طور پر دوشخصیتوں کا ٹکراؤ تھاجو اکثر سیاست میں ہوتا رہتاہے۔ سچن پائلٹ کو شکایت تھی کہ نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر انھیں جو اختیارات حاصل تھے، ان میں گہلوت نے نقب زنی کی اور انھیں بے دست وپا کرنے کی کوشش کی گئی اور اسی سے بیزار ہوکر انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔ معاملہ کچھ بھی ہو اتنا تو طے ہے کہ سچن پائلٹ کو اس قدم سے جو سیاسی نقصان پہنچا ہے، وہ اس کی بھرپائی پوری عمر نہیں کرپائیں گے۔
کانگریس نے 2018میں جب مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی سے اقتدار چھین کر وہاں اپنی سرکاریں بنائی تھیں تو اسے پارٹی کی بہت بڑی حصولیابی سے تعبیر کیا گیا تھا۔ان تینوں صوبو ں میں شکست بی جے پی کے لئے بہت بڑا جھٹکا تھا، کیونکہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی پچھلے پندرہ سال سے اقتدار میں تھی اور ان صوبوں میں اس کی گرفت بہت مضبوط تھی۔کانگریس کی اس کامیابی کو اس کی ’واپسی‘ سے تعبیر کیا گیا تھا۔چھتیس گڑھ میں جہاں کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی تووہیں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کچھ کسر باقی رہ گئی تھی جوآزاد ممبران اسمبلی نے پوری کردی تھی۔ لیکن جس وقت ان دونوں صوبوں میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ پیش آیا تو کانگریس کو ’اگنی پریکشا‘ سے گزرنا پڑا، کیونکہ ان دونوں ہی صوبوں میں اس عہدے کے لئے دودو مضبوط امیدوار تھے۔ مدھیہ پردیش میں سینئر لیڈر کمل ناتھ کے مقابلے میں نوجوان لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا تھے تو وہیں راجستھان میں اشوک گہلوت کے مقابل نوجوان لیڈر سچن پائلٹ موجود تھے۔ظاہر ہے وزیراعلیٰ تو ایک ہی کو بننا تھا۔دونوں نوجوان لیڈروں کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر اپنا اپنا دعویٰ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لئے پارٹی کو لوہے کہ چنے چبانے پڑے۔ اس معاملے میں پارٹی صدر راہل گاندھی نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ یہ دونوں ہی ان کے اچھے دوست تھے۔سچن پائلٹ کو نائب وزیراعلیٰ کی کرسی اور پارٹی کی صوبائی قیادت کے لئے تیار کیا گیا جبکہ سندھیا نے نائب وزیراعلیٰ کی کرسی لینے سے انکار کردیا۔ان دونوں کو جس انداز میں زور زبردستی کرکے منایا گیا تھا تو اسی وقت اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ دیر سویر یہ دونوں ہی ایک بار ضرور سر اٹھائیں گے۔ یہ اندیشہ درست ثابت ہوا۔ پہلے سندھیا نے سراٹھایا اور کانگریس سے بغاوت کرکے مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ سرکار زمیں بوس کردی۔ اس کے بعد اب باری تھی سچن پائلٹ کی اور انھوں نے اپنا کام کردکھانے کی پوری کوشش کی۔یہ الگ بات ہے کہ وہ ایک کچے کھلاڑی ثابت ہوئے اور پانسہ پلٹ گیا۔ سندھیا کے بی جے پی کی طرف جھکاؤ کے امکانات پہلے سے موجود تھے کیونکہ ان کا پورا خاندان بی جے پی میں ہے۔ لیکن سچن پائلٹ کا بی جے پی سے کبھی کوئی سروکار نہیں رہا۔ وہ ایک صاف ستھرے نوجوان سیاست داں ہیں اور سیکولرازم سے بھی ان کا پرانا رشتہ ہے۔ ان کے والد آنجہانی راجیش پائلٹ کانگریس کے ایک وفادار لیڈرتھے اور سیکولر ازم کے تئیں ان کی وفاداری غیر مشروط تھی۔ سچن پائلٹ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے داماد ہیں اور وہ ہمیشہ سیدھے راستے پر چلتے رہے ہیں۔ لیکن ذاتی رنجش اوراقتدار کی تڑپ نے انھیں اپنے راستے سے بھٹکادیا۔
کانگریس پارٹی کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سینئر لیڈران نئے لوگوں کے لئے جگہ خالی نہیں کرتے۔وہ آخری وقت تک کرسی سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔سندھیا اور پائلٹ کا مسئلہ اسی کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ بی جے پی نے جہاں سینئر اور بوڑھے لیڈروں کوگھر بٹھاکر نوجوان لیڈروں کو مواقع فراہم کئے ہیں، وہیں کانگریس میں ابھی تک بوڑھے لوگوں کا دبدبہ ہے۔کمل ناتھ نے 76 سال کی عمر میں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالی تھی تو وہیں گہلوت کی عمر بھی 70 کے پار ہے۔اس پوری صورتحال کا ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ وہ بی جے پی جو اپنے آپ کو ایک بااصول اور سیاسی اقدار سے بندھی ہوئی پارٹی کہتی تھی اس نے اپنی بے اصولی اور اقتدار کے لئے کچھ بھی کرگزرنے کی روش کو پوری طرح بے نقاب کردیاہے۔ پہلے جوڑتوڑ کرکے کرناٹک میں یوپی اے کی سرکار گراکر وہاں بی جے پی کی سرکار بنائی گئی۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش میں بغاوت کرواکے کمل ناتھ سرکار کو زمیں بوس کیا گیااور اب راجستھان میں وہی کھیل دہرانے کی ناکام کوشش کی گئی۔اس سے قبل گوا، اروناچل پردیش،منی پور اور اتراکھنڈ میں یہی کھیل کھیلا گیا۔ اس عرصہ میں صرف مہاراشٹر میں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور وہاں اس کاکھیل پوری طرح فلاپ ثابت ہوا۔اسی طرز پر راجستھان میں بھی بی جے پی کی بازی پلٹ گئی ہے اور وہ اس وقت اپنے زخموں کو چاٹنے میں مصروف ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)