راج کندرا:فلمی دنیا کا بدصورت چہرہ !ـ شکیل رشید 

 

وہ گھرجو خوب روشن لگتے ہیں، اور وہ چہرے جو اپنی چمک سے لوگوں کو دیوانہ بنا دیتے ہیں، روشنی کے باوجود تاریک ، اور چمک دمک کے باوجود انتہائی بدصورت ہو سکتے ہیں ۔ فلمی دنیا کو ہی دیکھ لیں ، روپیہ کمانے کے لیے یہاں مکانوں بلکہ بنگلوں کی تاریکی کو روشنی سے اور چہرے کی بدصورتی کو پاؤڈر اور غازے سے چھپایا جاتا ہے ،اور جب نقاب اٹھتی ہے ،سچ سامنے آتا ہے تو ،پتہ چلتا ہے کہ یہ بنگلے اور چہرے اوپر ہی سے تاریک اور بدصورت نہیں ہیں ،اندر سے بھی یہ بد صورت ہیں ،ان کے دل بھی کالے ہیں ،اورلوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ سر کا پکڑنا اس لیے کہ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اب تک انہیں احمق بنایا جاتا رہا ہے۔ لیکن لوگ بار بار احمق بننے پر مجبور ہیں کہ انہیں چمک دمک اپنی طرف کھینچے رہتی ہے ۔ شلپا شٹی اور راج کندرا کےمعاملے نے فلمی دنیا کی غلاظت کو پوری طرح سے اجاگر کر دیا ہے ۔ الزام ہے کہ شلپا شیٹی کا شوہر راج کندرا پورن فلمیں بناتا تھا اور انہیں نیٹ پر ریلیز کر کے کروڑوں روپیے کی کمائی کرتا تھا ۔معاملہ عدالت میں ہے ، راج کندرا کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، شلپا شیٹی سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ، اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے ، یعنی اس کے سر پر گرفتاری کی تلوار لٹکنے لگی ہے ۔ فلمی دنیا میں داخلہ آسان نہیں ہے ، بالخصوص لڑکیوں کے لیے ۔ یوں تو زندگی کے ہر شعبے میں اکثر لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ سلوک اچھا نہیں ہوتا انہیں استحصال سے گزرنا پڑتا ہے ، لیکن فلمی دنیا میں استحصال اپنی حدوں کو بھی پار کر جاتا ہے ۔ فلمی چمک دمک سے متاثرزیادہ تر لڑکیاں اپنا سب کچھ کھونے اور لٹانے کے لیے تیار رہتی ہیں ، اور ایسی ہی لڑکیاں پورن فلمیں بنانے والوں کے لیے آسان شکار ہوتی ہیں ۔ راج کندرا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسی ہی لڑکیوں کو شکار کرتا تھا ۔ کئی ماڈل اور چھوٹی موٹی اداکارائیں راج کی شکایت لے کر پولیس کے پاس پہنچی ہیں ، ان میں سو چوہے کھانے والیاں بھی شامل ہیں ، جیسے کہ پونم پانڈے اور شرلین چوپڑہ ۔ یہ دونوں بات بات پر کپڑے اتارنے کو تیار رہتی ہیں ، بس نوٹ چاہیے ۔ قصور ان کا بھی کم نہیں ہے ، انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے کہ انہیں عریاں ہونا ہے راج کے ساتھ کام کیا ۔ جیل میں تو انہیں بھی ہونا چاہیے ۔ فلم اور ماڈلنگ کی دنیا میں ایسی سستی لڑکیوں کی پوری ایک کھیپ ہے ۔ خیر بات راج کندرا اور شلپا شیٹی کی اہم ہے ، ان لڑکیوں کی نہیں ۔ یہ میاں بیوی پیسے میں نہاتے ہیں ، دوبئی کے برج خلیفہ میں ان کا سو کروڑ کا مکان ہے ، ممبئی میں سو کروڑ کا بنگلہ ہے ، راج کندرا کا بڑا کاروبار ہے ، شلپا شیٹی خوب کمائے بیٹھی ہیں اور خوب کماتی ہیں ، پھر بھی ان کی دولت کی ہوس نہیں مٹی ہے ۔ پورن یا ننگی یا سیمی پورن فلمیں انہوں نے کمانے کے لیے بنائی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ کورونا کی بندی سے ان کے ہاتھ تنگ تھے اس لیے یہ کیا! ان سے بہتر عام آدمی ہے جو کورونا سے مر رہا ہے مگر عزت بچائے ہوئے ہے ۔ تو یہ ہے فلمی دنیا ، یہاں صرف ایک کندرا اور شلپا نہیں ہیں ، بہت سارے کندرا اور شلپا ہیں ، ان کے لیے عزت سے بڑھ کر پیسہ ہے۔