ریلوے کی اراضی پر 48 ہزار کچی آبادیاں ختم نہیں کی جائیں گی:مرکزی حکومت

نئی دہلی:دہلی میں ریلوے اراضی پر آباد 48 ہزار کچی آبادیوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے ایک اچھی خبرہے۔ اس وقت یہ کچی آبادیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔ ریلوے نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر غور کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ وہ 4 ہفتوں کے بعد اس کی سماعت کرے گی۔ مرکز نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیاہے کہ اس وقت دہلی میں ریلوے لائنوں کے ساتھ 48 ہزار کچی آبادیاں ختم نہیں کی جائیں گی۔ سالیسیٹر جنرل تشارمہتانے عدالت کوبتایاہے کہ ریلوے، شہری ترقیات اوردہلی حکومت مل بیٹھ کر حل تلاش کریں گی اور تب تک کچی آبادیوں کو نہیں ہٹایا جائے گا۔ بتادیں کہ 31 اگست کو سپریم کورٹ نے دہلی میں 140 کلومیٹر لمبی ریلوے پٹریوں کے آس پاس واقع لگ بھگ 48000کچی آبادیوں کو تین ماہ کے اندراندر ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ اسی کے ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ کچی آبادیوں کے ہٹانے پرکوئی رعایت نہ دی جائے۔سپریم کورٹ نے حکم میں کہاتھاکہ اگر کوئی عدالت ریلوے لائن کے آس پاس تجاوزات کے سلسلے میں عبوری حکم جاری کرتی ہے تو وہ موثر ثابت نہیں ہوگی۔ یہ حکم ایم سی مہتاکیس میں سپریم کورٹ میں جسٹس ارون مشراکی بنچ نے منظورکیاتھا۔ریلوے نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ دہلی،این سی آر میں 140 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن کے ساتھ کچی آبادی کے رہائشیوں کے تجاوزات ہیں، اس کی لمبائی 70 کلومیٹرہے جہاں تقریباََ48000 نفوس پر مشتمل کچی آبادی ہے۔