راہل گاندھی نے ابھییجیت بنرجی سے گفتگوکی

نئی دہلی:کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج معاشیات کے نوبل ایوارڈیافتہ ابھیجیت بنرجی سے بات چیت کی ہے۔ اس دوران وبا کے اکنامی پر اثر ات اور اس سے نمٹنے کے اقدامات پرتقریباََ آدھے گھنٹے گفتگوہوئی۔بنرجی نے اہم مشورے سرکارکودیئے ہیں،ان سے پہلے رگھورام راجن نے بھی مشورے دیے تھے لیکن ماہرین اقتصادیات کی تجاویزپراب تک سنجیدہ گفتگونہیں کی گئی ہے۔ بنرجی نے کہاہے کہ اقتصادی اثرکودیکھتے ہوئے ہم نے ابھی تک بڑا اقتصادی پیکج کااعلان نہیں کیاہے۔ہم نے جو پیکیج دیا ہے وہ جی ڈی پی کے 1 فیصدکے برابر ہے جبکہ، امریکہ 10 تک پہنچ گیا۔بنرجی کا کہنا ہے کہ چھوٹی صنعتوں کے لیے زیادہ ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔بنرجی کا کہنا ہے کہ قرض معافی کا طریقہ ہو سکتا ہے۔دوسرایہ کہ مارکیٹ کی طلب نہیں ہے۔ اسے بڑھانے کے لیے غریبوں کوکچھ پیسہ دیاجاسکتاہے۔بنرجی نے کہاہے کہ نچلے طبقے کے 60 فیصد لوگوں کو تھوڑا سا زیادہ پیسہ دیں گے توکوئی نقصان نہیں ہو گا۔عارضی راشن کارڈ کا بندوبست شروع ہونا چاہیے۔مجھے لگتا ہے کہ غریبوں کو دینے کے لیے ہمارے پاس کافی دال اورتیل ہیں۔بہت سے غریب لوگ اب سسٹم میں نہیں ہیں۔ راشن کے لیے آدھار،بیسڈ نظام سے ان کی کئی دقتیں ختم ہوں گی۔این جی اوزکے ذریعے لوگوں کو مدد پہنچانے کے لیے ریاستی حکومتوں کو پیسہ دینا چاہیے۔کچھ غلطیوں کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ہو سکتا ہے کچھ پیسے ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ پائیں۔جن لوگوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں مل رہاہے، ان کو شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔