راہل گاندھی کے ساتھ گفتگومیں مزدوروں کا دردچھلکا

حکومت سے ایک روپے کی نہیں مددنہیں ملی،سرکارپرکوئی بھروسہ نہیں،محنت کشوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی
نئی دہلی:کانگریس لیڈر راہل گاندھی لاک ڈاؤن میں پھنسے تارکین وطن محنت کشوں کی مشکلات کو لے کر مسلسل مرکزی حکومت پرحملہ آورہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بڑی تعداد میں مزدور پیدل ہی اپنے اپنے ریاستوں کی جانب لوٹنے کو مجبور ہو گئے۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے 16 مئی کو سکھدیو وہار فلائی اوور کے پاس ان مزدوروں سے بات چیت کی تھی۔راہل گاندھی نے آج صبح اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئرکیا۔17 منٹ کے اس ویڈیو کلا آغاز تارکین وطن محنت کشوں کی نقل مکانی کے درد کو دکھانے والے مناظرسے کیاگیاہے۔بعد میں لوگوں کی زبانی ان کا دردبتایاگیاہے۔جھانسی کے رہنے والے مہیش کمارکہتے ہیں کہ 120 کلومیٹرچلے ہیں۔ رات میں رکتے رکتے آگے بڑھے۔مجبوری ہے کہ ہم لوگوں کوپیدل جانا ہے۔ ایک عورت کہتی ہے، بڑی عمر کے آدمی کو دقت نہیں ہے۔ ہم تین دن سے بھوکے مر رہے ہیں۔ بچہ بھی ہے ہمارا ساتھ میں، وہ بھی تین دن سے بھوکاپیاساہے۔ایک اور عورت کہتی ہے کہ جو بھی کمایا تھا گزشتہ دو ماہ میں ختم ہوگیاہے۔لہٰذااب پیدل ہی گھر نکل پڑے ہیں۔راہل گاندھی ایک مزدور سے بات کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں اور کیا کرتے تھے؟وہ شخص بتاتا ہے کہ وہ ہریانہ سے آ رہا ہیں اور تعمیراتی سائٹ پر کام کرتاتھا۔ اس نے بتایاہے کہ ایک دن پہلے ہی اس نے چلناشروع کیاہے۔اس کے ساتھ ان کا پورا خاندان ہے۔اس نے بتایاہے کہ اسے اچانک ہی لاک ڈاؤن کی اطلاع ملی۔ جہاں رہتے تھے وہاں کرایہ میں 2500 روپے دینے پڑتے تھے۔ لہٰذااب وہ جھانسی روانہ ہو رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے پوچھاہے کہ پیسے ہیں پاس میں، کھانا کھا رہے ہو؟ اس سوال کے جواب میں خاندان نے بتایاہے کہ لوگ راستے میں ان کے کھانے کے لیے دے دیتے ہیں۔کئی بار کھانا ملتا بھی ہے کئی بار نہیں ملتاتوپیدل چلتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ایک شخص نے بتایاہے کہ 21 تاریخ کی شام کو پتہ چلا کہ 22 مارچ کو بھارت بندہے۔ ہمیں لگاکہ ایک دن کاگیپ ہے۔ چار دن کے بعد دوبارہ سب کچھ بندہوگیا۔ راہل گاندھی نے پوچھاکہ اگر پتہ ہوتا کہ چار دن بعددوبارہ سب بند ہونے والا ہے تو کیا کرتے؟ تو خاندان والوں نے بتایاکہ گھرنکل جاتے۔گزشتہ دوماہ سے گھر سے پیسہ منگوارہے ہیں۔گھر والے گندم فروخت کرکے ہمیں پیسہ بھیج رہے ہیں اسی سے گزارہ ہو رہاہے۔ ہم نے تین لاک ڈاؤن تک تو انتظار کیا لیکن اب لگا پتہ نہیں آگے کیا ہوگا،اس لیے گھرنکل پڑے۔سابق کانگریس صدر نے پوچھا کہ پھر واپس آئیں گے آپ لوگ؟ اس کے جواب میں شخص نے کہاہے کہ فی الحال توجان بچانے کی سوچ رہے ہیں بس۔ راہل گاندھی نے پوچھاہے کہ آپ نے گھر کے سامان کیالیے؟ اس کے جواب میں خاندان والوں نے کہا کہ جان بچی تو لاکھوں اپائے۔سارا سامان وہیں چھوڑ کر نکل گئے ہیں۔وہیں حکومت کی طرف سے مالی مدد دئے جانے کے سوال پر دوسرے شخص نے بتایاہے کہ500، 1000 ملنے کی بات تو سنی لیکن ہمیں کچھ نہیں ملا۔ آج ہم کھانے پینے تک کے محتاج ہو گئے ہیں، ایک روپے تک کی ہماری مدد نہیں ملی۔شخص نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس والوں کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ان پر لاٹھیاں برسا رہے تھے. جو لوگ باہر کے ہیں ان کی ہریانہ میں کوئی ویلیونہیں ہے۔ جب تک کام ہے لوگوں کی قدر ہوتی ہے نہیں تو صرف وہ مجبورہیں۔ایک خاتون بتاتی ہے کہ مودی حکومت میں تو کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ایک دن ایسے ہی نوٹ بندی کے بارے میں راتوں رات معلوم پڑا، اگلی صبح سب کچھ بند۔کورونا کے دوران بھی ایساہوا۔ جھیلنا ہم لوگوں کو پڑتاہے۔خاندان والوں نے بتایا کہ حکومت پہلے تو انہیں گھر چھوڑ دے اور پھر ملازمت کے راستے کھول دے۔گھرمیں پیسے کم بھی ملتے ہیں تو کھانے رہنے کی دقت نہیں ہوگی۔ایک عورت کہتی ہے کہ حکومت کا بھروسہ ہی نہیں ہے، سب سے پہلے ایک دن کا کہا، اب پھر 15 دنوں کے لیے۔ ایسے میں دقت ہوتی ہے۔ ایک بار بتا دے، یہاں تک کہ اگر پانچ سال کے لیے بندکر دے۔کچھ بھی ہوتا ہے غریب لوگوں کو دقت ہوتی ہے۔ بڑے لوگوں کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ایک اور عورت کہتی ہیں کہ حکومت اگر 500 روپے بھی دیتی ہے تو اس میں کیاہوتاہے۔ ہم لوگوں کے اکاؤنٹ میں ایک روپیہ بھی نہیں آیاہے۔ حکومت کچھ لوگوں کی مدد کرتی ہے اور کہہ دیتی ہے سب کی مددکر دی۔ اگر سب کومددملے گی تو وہ بتائیں گے نہیں کہ ان کو مددملی ہے۔جس کے بعد راہل گاندھی اس خاندان کی مدد کا بھروسہ دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔بعدمیں شاٹس میں دکھایا گیا ہے کہ تمام لوگوںکوٹرک میں بٹھا کر انہیں گھر روانہ کیاگیا۔ بعد میں لوگوں نے گھر پہنچ کر راہل گاندھی کا شکریہ اداکیا۔آخر میں راہل گاندھی لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے بھائیواور بہنو۔ آپ اس ملک کی طاقت ہو۔آپ نے اس ملک کا بوجھ اپنے کندھوں پراٹھایاہے۔پورا ملک جانتا ہے کہ آپ کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ہندوستان کی طاقت کوتیزکرنا ہم سب کا فرض ہے۔آخر میں حکومت سے 13 کروڑ خاندانوں کو7500 روپے کی مالی مدددینے کی اپیل کی گئی ہے۔ساتھ ہی یہ مدد براہ راست کیش ٹرانسفر کے طور پر پہنچانے کی اپیل کی گئی ہے۔