راہل گاندھی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک ہوتے تو کیا چین دراندازی نہ کرتا

راہل گاندھی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک ہوتے تو کیا چین دراندازی نہ کرتا
کانگریس نے کہا،سوال پوچھنے والوں پرسوال اٹھاناآسان،چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کیوں؟
نئی دہلی:راہل گاندھی نے پارلیمانی کمیٹی برائے اموردفاع کی میٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اس کوبی جے پی ایشوبنارہی ہے ۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہاہے کہ اگرراہل گاندھی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک ہوتے توکیاچین سرحدپریہ کام نہ کرتا؟ کانگریس کے ترجمان نے کہاہے کہ پچھلے تین ماہ میں اس طرح کی کتنی میٹنگیں ہوئیں؟ کانگریسی لیڈرنے کہاہے کہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس میٹنگ کو بلائے۔ سوال پوچھنے والوں پرسوالات اٹھاناآسان ہے۔ ہیڈ لائن مینجمنٹ حکومت چلانے کاایک طریقہ ہے۔ اس کے بعدکانگریسی لیڈرنے کہاہے کہ چین کے ساتھ موجودہ تنازعہ کے باوجود نجی اور سرکاری کمپنیوں کے مابین تجارت پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ گجرات میں چینی کی 45 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ سی ایم وجے روپانی نے دھولیرہ میں شوگر کمپنی کو اراضی دی ہے۔ پچھلے 20 دنوں سے سرمایہ کاری کا عمل جاری ہے۔