راہل اورپرینکاگاندھی کوہاتھرس جانے نہیں دیاگیا،گرفتاری اوردھکامکی کاالزام،دہلی واپس لوٹے

لکھنؤ:کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اورپارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی واڈراکوجمعرات کے روز پولیس نے گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے ہاتھرس جانے سے روک دیا ۔دھکامکی کے نتیجے میں راہل گاندھی گرگئے ۔اس درمیان ان دونوں کی گرفتاریوں کی خبربھی آئی ۔اب وہ دونوں دہلی واپس ہوگئے ہیں۔ریاست میں ان دونوں کو روکا گیاانھوں نے جنگل راج کاالزام لگاتے ہوئے پولیس پر لاٹھیاں چلانے کا الزام لگایاہے اورکہاہے کہ مغرور حکومت کی لاٹھیاں ہمیں نہیں روک سکتی ہیں۔ادھر پارٹی نے کچھ تصاویر جاری کی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے راہل گاندھی کو روکنے کے لیے ان کے ساتھ زیادتی کی جس کی وجہ سے وہ زمین پر گر پڑے۔کانگریس ذرائع کے مطابق، دونوں لیڈروں کے قافلوں کو گریٹر نوئیڈا پولیس نے روکا تھا۔ اس کے بعد وہ پیدل ہی ہاتھرس کے لیے روانہ ہوئے۔تھوڑی دور کے بعد پولیس نے انہیں دوبارہ روک لیا۔کانگریس نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں پارٹی کے سابق صدر پولیس سے پوچھتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں کس سیکشن کے تحت گرفتار کیا جارہا ہے۔پولیس کے روکنے کے بعد راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ریاست میں جنگل راج کی یہ حالت ہے کہ متاثرہ خاندان سے ملنابھی حکومت کو خوفزدہ کرتا ہے۔انھو ں نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ، پیاروں کو غم کی گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جاتا ہے۔اترپردیش میں جنگل راج کا عالم یہ ہے کہ کنبہ سے ملنے سے حکومت کو خوف آتا ہے۔ اتنا خوفزدہ نہ ہوں ، چیف منسٹر!‘‘پرینکاگاندھی نے الزام لگایاہے کہ پولیس نے ان کو اور راہل گاندھی کو ہاتھرس جانے سے روکنے کے لیے لاٹھیوں کااستعمال کیا ، لیکن مغرور حکومت کی لاٹھی سے انہیں روک نہیں سکتی۔انہوں نے ٹویٹ کیاہے کہ ہمیں ہاتھرس جانے سے روک دیاگیاہے۔جب ہم سب راہل گاندھی کے ساتھ پیدل نکلے تو ہمیں بار بار روکاگیا ، وحشیانہ انداز میں لاٹھی استعمال کی گئی۔