رہتے ہیں جب سے چشمِ مسیحا کے آس پاس ـ عائشہ شفق

رہتے ہیں جب سے چشمِ مسیحا کے آس پاس
ہم کٹ مریں جو بھٹکے ہوں بادہ کے آس پاس

کوشش کے باوجود حفاظت نہ ہو سکی
کچھ کھو گیا مرا تری کٹیا کے آس پاس

تم تک جو آ گیا وہ دوانہ ہی ہے کوئی
عاقل کا کام کیا کسی صحرا کے آس پاس

الجھن کا ہے پہاڑ یا وحشت کا ڈھیر ہے
دیکھیں جہاں تلک ترے شیدا کے آس پاس

ہم پیاس کا نشان ہیں، صحرا کا مان ہیں
اور تم وہ ریت ہو جو ہے دریا کے آس پاس

اک یاد تھی جو بھولتی جاتی ہے ذہن کو
اب کچھ نہیں بچا ترے تنہا کے آس پاس

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*