رحمت دو عالمﷺ کی اہانت اسلام دشمنی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت:محمد شبلی القاسمی

پھلواری شریف:فرانس میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی علیہ التحیۃ والسلام کی شان عالی میں گستاخانہ کارٹون کی اشاعت اور فرانس کے صدر کی جانب سے اس کی حمایت کی شدید مذمت کرتے ہوئے امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولا نا محمد شبلی قاسمی صاحب نے کہا ہے کہ تاریخ انسانیت کی سب سے اہم اور مقبول شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی کوشش کرنا پوری دنیا کے مسلمانوں اور انسانیت کی بھلائی چاہنے والو کے لیے ناقابل برداشت ہے ۔ فرانس کے صدر نے حضور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرکے سورج پر تھوکنے کی کوشش کی ہے اس سے اس کا چہرہ ہی آلودہ ہوا۔دنیا اور انسانوں کا بنانے والا اللہ تعالی خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت کرنے والا ہے آج تک جس نے بھی ناموس رسالت کو چوٹ پہونچانے کا ارادہ کیا خود اس کا نام و نشان مٹ گیا اور بے نام و نمود ہو گیا۔لیکن اس کے با وجود اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت سے لبریز ذہن و دماغ والے ایسی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع چوکتے نہیں، فرانس والے بھی یہ کام کر رہے ہیں ہیں اپنی اس حرکت سے انہوں نے دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے دلوں کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے ان کی یہ کرتوت ہر طرح سے قابل مذمت ہے ۔ یہ اظہار خیال کی آزادی نہیں بلکہ اسلام دشمنی،عصبیت، تہذیب باختگی اور اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے ۔ آزادیٔ اظہار رائے اور جمہوریت کے سلسلے میں مغرب کا دوغلا رویہ ایک تاریخی حقیقت بن چکا ہے ۔ لہٰذا عالم اسلام کے راہ نمائوں اور مسلم حکمرانوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ ایسی ناقابل برداشت گستاخانہ حرکت کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ اقوام متحدہ میں اس مسئلہ کو اٹھائیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کو یقینی بنائیں تاکہ مقدس مذہبی شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائیوں کا سد باب ہوسکے ۔ عرب لیگ، او آئی سی اور دیگر مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ حکومت فرانس کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں اور سفارتی و تجارتی سطحوں پر پرزور احتجاج درج کرائیں۔ قائم مقام ناظم صاحب نے اپنے بیان میں تمام دنیا کے مسلمانوں اور انصاف پسند لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فرانس کے مصنوعات کا تب تک بائیکاٹ کریں جب تک کہ فرانس کی حکومت پوری دنیا کے مسلمانوں سے غیر مشروط معافی نہ مانگ لے اور متنازعہ خاکہ بنانے والوں کے خلا ف سخت سے سخت اقدامات نہ کرے اور آئندہ کے لیے پیغمبر اسلام یا مسلمانوں کی دل آزاری والے خاکوں یا مواد کی اشاعت ترک کرنے کا عہد نہ کرے ۔