رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقی تعلیمات اورماحولیات- مولانا احمد حسین قاسمی

معاون ناظم امارت شرعیہ، پٹنہ

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ ﷺکی ذات بابرکات اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع آفاقی تعلیمات انسانی عروج کاوسیلہ اورارتقاء کااولین زینہ ثابت ہوئیں، اگرانسان کے ارتقائی سفر اوراس کے آسمان پر کمنڈڈالنے کی تاریخ کاحقیقت پسندانہ جائزہ لیاجائے توموجودہ ہمہ جہت ترقی کانقطہئ آغاز وحی ربانی”قرآن مجید“اورصاحب قرآن،سرچشمہئ ہدایت حضرت”محمد“عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، ساتویں صدی سے تہذیب وارتقاء کا جوعالم گیرسلسلہ شروع ہوااس کی روشنی گذشتہ صدیوں میں ایک پل کے لئے نہیں رکی،اس کے تسلسل نے انسانی معاشرت وتمدن کو مختلف جہتوں سے اور اس کے جملہ شعبہ ہائے حیات وماحولیات کو مختلف عنوان سے دیکھتے دیکھتے منور کردیا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عالم انسانیت میں آپ کی ذات یکتاہے جس نے از اول تاآخر سب سے عظیم اورجامع انقلاب برپاکیاہے، آپ کی تعلیمات ہمہ جہت اورمتنوع ہیں،جن کی یہ پہلی خصوصیت ہے کہ وہ پوری انسانی زندگی کے جملہ گوشوں کااحاطہ کرتی ہیں، چنانچہ ماحولیات کے عنوان سے آپ کی سیرت کے اولین ماخذ کتاب اللہ نے آپ کی ربانی تعلیمات کو ماحولیات کے لئے منارہئ نور قراردیاہے، ارشاد باری ہے’’فلما اضاء ت ماحولہ“(کہ جب اس نور نے اپنے ماحول(آس پاس کی چیزوں)کو روشن کردیا(البقرہ: ۷۱)
قرآن کی مذکورہ آیت میں ”ماحول“کا لفظ صراحت کے ساتھ آیاہے، ”ماحولیات“ اسی سے منسوب ہے، جس سے مراد ہمارے اردگرد کے عناصر حیات ہیں،جن پر ہماری زندگی کا دارومدار ہے، فطری آب وہوا،زمین اوراس کے درختوں کا لامتناہی سلسلہ اورجنگلات جن سے زندگیاں آباد ہیں،اورجنہوں نے زندگی کو توازن عطاکررکھاہے۔خالق کائنات کا ارشا دہے:”وہی ذات ہے جس نے تمہارے فائدے کے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں (بقرہ:۹۲)
آپ کی تعلیمات کا اولین متن”قرآن“ہے جوآپ کی سیرت وتعلیمات کاپہلاماخذ ہے، اس میں مناظرقدرت اورماحولیات کے تعلق سے تقریباً ۰۰۷(سات سو) سے زیادہ آیتیں ہیں، نمونہ کے طورپر چندآیات کا ترجمہ پیش ہے:“اور (رب العالمین) نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ نصب کردئے اوراس زمین میں برکتیں رکھیں نیز اس میں اس کی غذائیں (اسباب زندگی) ایک اندازہئ وقدر کے مطابق مقررفرمادیں،چاردنوں میں یہ عام سوال کرنے والوں کے لئے (بطور جواب) یکساں ہے۔(حم السجدہ۱۱۔۹)
دوسری جگہ ارشادباری ہے:”وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو پاؤں تلے مسخرکردیاہے، پس تم اس کے راستوں میں چلو پھرو اوراس کے ر زق سے کھاؤ“(الملک:۵۱)پہا ڑ اورنہروں کے طویل اورخوبصورت سلسلوں نے زمین کے توازن کوکس طرح قائم کررکھاہے اس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح آیاہے ”اوراس (اللہ)نے زمین میں پہاڑ نصب کردئے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈگمگائے نہیں اوردریا اورراستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہونچ سکو“(النحل:۵۱)ایک مقام پر یہی مضمون کچھ اس طرح ہے”وہی ذات ہے جس نے زمین کو وسعت بخشی ہے اوراسی نے اس زمین پر پہاڑوں اورنہروں کانظام قائم کیا“(الرعد:۳)
اس کرہئ ارض پر نظام زندگی اورماحولیات سے متعلق قرآن کا ایک خوبصورت بیان اس طرح ہے: تسبیح بیان کیجئے اپنے اس اعلیٰ پالنہار کی جس نے (ہرچیز کی)تخلیق فرمائی،پھر اسے ٹھیک ٹھیک (متوازن)بنایا اورجس نے (ہرچیز کے لئے)ایک اندازہ وقدر متعین کیاپھر اسے راہ بتائی“(الاعلیٰ:۳۔۱)
قرآن کریم ماحولیات کے باب میں پاک وصاف آب وہوا کو حیاتیات اورزندگی کے جملہ تصورات کی بنیادقراردیتاہے:”اوروہی ذات ہے جس نے اپنی رحمت سے ہوائیں بھیجیں جو بارش کی خوشخبری لے کر آتی ہیں، اورہم نے آسمان سے پاک وصاف پانی اتاراتاکہ ہم بے جان زمینوں کو زندگی عطاکریں اوراس سے اپنے پیدا کردہ چوپائے اوربے شمار انسانوں کو سیراب کریں“ (الفرقان۹۴۔۸۴)
”اورہم نے ہرچیز کو پانی سے زندہ کررکھاہے کیاوہ منکرین ایمان نہیں لائیں گے۔(الانبیاء ۰۳)
اسی طرح پیغمبر اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے ماحولیاتی تحفظ اوروسائل کے تحفظ کے مختلف پہلوؤں کا بالااستیعاب احاطہ کیا ہے،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماحولیاتی تحفظ اسلامی تعلیمات کاایک اہم باب ہے،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے ایک مومن پر ماحول کی حفاظت کے لئے زندگی کے اہم گوشوں میں متعدد فرائض عائد کردئے ہیں جواسلامی نقطہ نظرسے جملہ قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق ایک ایمان والے کے مثبت طرز عمل کی عکاسی کرتے ہیں، جن وسائل حیات کااستعمال ہم اس زمین پرکرتے ہیں،نبی آخرالزماں کی تعلیمات میں اس کا طریقہ استعمال اورانہیں برتنے کااندازبڑے اعتدال وتوازن اورکفایت شعاری کے ساتھ ملتاہے، چنانچہ پانی سے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”تم میں سے کوئی ناپاک شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے“(مسلم شریف)
تاکہ وہ پانی دوسروں کے لئے ناقابل استعمال نہ بن جائے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جس نے زیادہ پانی خرچ کیااس نے براکیااورظلم کیا(سنن نسائی،مسنداحمد،ابن ماجہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی وضومیں ایک مد(۵۲۶گرام) آدھالیٹرسے کچھ زیادہ پانی استعمال فرماتے(ابوداؤد:۲۹)
اسی طرح آپ نے پانی میں پیشاب کرنے سے سخت ممانعت فرمائی، سعدابن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گذرے جب یہ وضو کررہے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ(پانی)کی بربادی کیسی ہے؟توحضرت سعدنے کہاکہ وضو میں بھی کوئی ضیاع ہے؟ توپیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”ہاں اگرچہ یہ (ضیاع)بہتے ہوئے دریاپر بھی ہو“(ابن ماجہ)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں پر پاکی وطہارت کے ذریعہ آب وہوا کی حفاظت لازم فرمائی ہے اورتمام منفی رویوں سے اجتناب کاحکم دیاہے، لہذا آپ کی تعلیم ہے کہ اگرکسی علاقہ میں بیماری پھیل جائے توکوئی وہاں داخل نہ ہواورنہ ہی وہاں سے کوئی شخص بیماری لے کر پاکیزہ اورصحت مند ماحول کا رخ کرے۔ (بخاری،مسلم)
نیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر مدینہ کے لئے صحت بخش آب وہوا کی دعاء فرمائی ہے۔اس کے ساتھ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحولیاتی تحفظ کے لئے درخت لگانے اوراس کی کاشت کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:”اگر کوئی درخت لگاتاہے تواس سے جوحصہ بھی انسان یا کوئی پرندہ یاکوئی جانور کھالے تووہ اس کے لئے صدقہ کے مانند ہے“(بخاری) شجرکاری کی غیرمعمولی اہمیت کااندازہ اس روایت سے بھی ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگرتم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہے اورقیامت قائم ہوجائے تب بھی وہ پودا ضرور لگائے“(مسند احمد)
دوسری جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے درخت اورجنگلات کی کٹائی سے روکاہے، ارشاد ہے:”جوشخص اللہ کے جواز کے بغیر کوئی درخت کاٹتاہے توہ عمل اسے دوزخ کی آگ میں بھیج دے گا“(ابوداؤد)چونکہ جنگلات کی کٹائی سے ہونے والی تباہی مٹی کے کٹاؤ کا سبب بنتی ہے اورمتعدد حیاتیاتی تنوع کو ہلاک کرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت جنگ میں بھی درختوں اورفصلوں کوتباہ کرنے سے منع فرمایاہے،تاریخ اورروایات سے پتہ چلتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے جنوب میں ”ہما“ نامی ایک خوبصورت چراگاہ قائم فرمائی تھی اوراس کے چارمیل کے فاصلے پر شکار کرنے اوردریاکے بارہ میل کے فاصلہ پر درختوں کو تباہ کرنے سے منع فرمایاتھا،اسلام میں حدود حرم میں کسی نباتاتی پودے اورکسی پرندے اورجانور کے شکار کرنے کی ممانعت بھی ماحولیاتی تحفظ کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ ہے،وہ علاقے کسی مثالی خطے سے کم نہیں ہیں، مزیدبرآں یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی پرندے یا جانور کو ناحق اوربے فائدہ مارنے سے شدت کے ساتھ روکاہے، اورحیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا انتظام فرمایاہے۔اگرماحولیات کوآج سب سے زیادہ نقصان پہونچ رہاہے تووہ وسائل فطرت کابے جااورغیرمعتدل استعمال ہے، ہرچیز یہاں ایک اندازے کے مطابق ہے،اس کی کھپت میں بھی اعتدال وموزونیت کالحاظ ضروری ہے، افراط وتفریط،فضول خرچی اوراشیاء کے بے جااستعمال نے ہمارے نظامہائے زندگی اورذرائع حیات کو تصورسے کہیں زیادہ ضرر پہو نچایا ہے، لاکھوں برس کی قدیم زمین، قوت زندگی سے مالامال اس کا پراناگہوارہ اورتروتازگی سے بھرپور اس کی پھیلی ہوئی تاحدآسمان فضاؤں کی پہنائی قدرتی وسائل حیات اورفطری اسباب زندگی کی ایسی مرقع ہے جہاں حکم خالق سے ہرآن زندگی اوراسباب زندگی کی تجدیدہوتی رہتی ہے،وہاں انسانوں کے روپ میں آنے جانے والے مسافرکواگر طریقہ حیات اوروسائل زندگی کو صحیح برتنے کا سبق لینا ہوتووہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا بنظرعمیق مطالعہ کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ صدیوں پہلے اپنے پیروکاروں کو اسباب زندگی اورقدرتی وسائل کے استعمال کرنے کی تعلیم کتنے محتاط انداز میں ان کے تحفظ کا پورا خیال رکھتے ہوئے،فضول خرچی سے مکمل طورپر اجتناب اورکامل اعتدال کے ساتھ دی ہے جو بالیقین ماحولیاتی تحفظ اوروسائل قدرت کے موزون ومعتدل استعمال کے لئے ایک ابدی اصول اوردستورکی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:وہی ہے جس نے تمہیں زمین کاجانشین بنایا،تاکہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتوں (وسائل حیات)میں تمہاری آزمائش کرے۔(انعام:۵۶۱)کھاؤ پیو(مگر)فضول خرچی مت کرو،بلاشبہ اللہ حد سے زیادہ خرچ کرنے والوں کو پسندنہیں کرتا(اعراف:۱۳)ایک جگہ قرآن میں آیاہے کہ:فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی (کے مانند) ہیں۔(اسراء ۷۲)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ دنیا میں تم ایک اجنبی اورمسافر کی طرح رہو(بخاری:۶۱۴۶)
یعنی جس طرح مسافر ریلوے اورایرویز کے سامان کو اصول ہی کے تحت استعمال کرسکتاہے،ضابطہ کے خلاف اس کے کسی نظام سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا،انسان کو بھی اس زمین پر فطرت کے اصول سے متصاد م کام کرنے سے گریز کرناچاہئے۔
مگرآج کے وقت میں موجودہ مختلف انواع واقسام کے پلانٹس کی تنصیب نے اوزون کی پرت کو چھلنی کردیاہے، ان سے ہمہ وقت نکلنے والی فلک بوس آگ کی لہروں نے قدرتی فضاکی سطحوں کو بھیانک نقصانات پہنچائے ہیں،اسی طرح اے سی،ریفریجریٹر (فریز)مشین وغیرہ کی کثرت استعمال،اوران سے خارج ہونے والے مہلک گیس نے ہماری صاف ستھری فضاؤں میں زہرگھول دیاہے، درختوں میں تشویشناک کمی اورجنگلات کے عدم تحفظ نے ہواؤں سے صحت بخش اثرات ختم کردیئے ہیں، دریاؤں کی سوکھتی ہوئی چھوٹی بڑی شاخیں ماحولیات کی بربادی کاماتم کررہی ہیں، قصبات اورچھوٹے بڑے تمام شہروں کی سطح زمین سیمینٹیڈ اورپختہ ہوگئیں،نتیجۃً پانی کالیئرنیچے جارہاہے اور نوآبادیات کی بست کشادنے پہاڑوں کے طویل سلسلے کوزمین دوز کرکے فطرت اورتوازن سے چھیڑ چھاڑ کیاہے، کیمیکل کے پراگندہ نالوں نے غیرمعمولی طورپر نہروں اوردریاؤں کو آلودہ کیاہے، مشینوں اورگاڑیوں سے نکلنے والے دھوؤں کی کثافت نے پاکیزہ ہواؤں کی لطافت کو حددرجہ متاثر کیاہے، ماحولیاتی تحفظ کے عظیم علم بردار ممالک نے ایٹمی تنصیبات کے ذریعہ پوری عالمی برادری کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے، ایسے حالات میں محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ تعلیمات کوبروئے کارلاکر قدرتی وسائل کے استعمال میں اعتدال،زمین میں توازن اورماحولیات کوتحفظ عطاکیاجاسکتاہے اوروسائل فطرت سے مالامال دنیا کوگلوبل وارمنگ سے بچایاجاسکتاہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*