Home قومی خبریں رحمانی 30 کی JEE-ADVANCED کے امتحان میں شاندار کامیابی،54 طلبا نے کوالیفائی کیا 

رحمانی 30 کی JEE-ADVANCED کے امتحان میں شاندار کامیابی،54 طلبا نے کوالیفائی کیا 

by قندیل

 

پٹنہ: آج رحمانی پروگرام آف ایکسیلنس (رحمانی 30) میں ٹیم کا ہر شخص اپنے 54 طلباء کی آئی.آئی.ٹی. ایڈوانسڈ کے مقابلہ جاتی امتحان میں شاندار کامیابی کا جشن منا رہا ہے. ان طلباء نے انجینئرنگ میں انڈر گریجویٹ داخلے کے دنیا میں سب سے سخت گیر امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے. یاد رہے کہ اسی سال کل 170 طلباء JEE-MAINS میں شاندار کامیابی حاصل کی جس میں میں 146 انجینئرنگ کے تھے اور 24 میڈیکل کے تھے . ہر سال کی طرح اس سال بھی قابل تعریف کوالیفیکیشنس کے علاوہ طلبہ کے بہت اچھے رینکس بھی آئے ہیں. ریحان خان نے 988 آل انڈیا رینک اور 75 کیٹیگری رینک حاصل کیا ، بلال رحمت نے 1125 جنرل اور 147 کیٹگری رینک حاصل کیا ، انضمام انصاری نے 2583 اے۔آئی۔آر اور شارب اطہر نے 2728 اے۔آئی۔آر اور 414 کیٹیگری رینک حاصل کیا۔ ان طلبہ میں سے میں ایک اچھی خاصی تعداد اپنے مطلوبہ ہ شعبے میں داخلہ لیں پائینگے. نتائج کا تجزیہ ابھی ہنوز پروسسیس میں ہے اور اس پر کام جاری ہے۔

 

واضح رہے کہ ہر سال آئی.آئی.ٹی. اپنے کسی کیمپس کو ایڈوانسڈ کے اس سخت گیر امتحان کے پرچے کو بنانے کے لئے نامزد کرتی ہے اور ملک بھر میں اس امتحان کو اپنی نگرانی میں خود کرواتی ہے. انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ملک کا سب سے نمایاں اور ممتاز انجینئرنگ کا ادارہ ہے، اور یہ انسٹیٹیوٹ آف نیشنل امپورٹینس میں بھی سب سے نمایاں ہے. آئی این آئی کیٹیگری ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ قائم کی گئی تھی تاکہ ہندوستانی جدت کی مسلسل کامیابی کے لئے ضروری تعلیمی تنظیموں کو شناخت اور خصوصی فنڈ فراہم کیا جاسکے۔ مذکورہ بالا مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعہ آئی این آئی میں جاکر طلباء اعلی درجے کی تعلیم ، مناسب تحقیقی سہولیات اور بین الاقوامی تحقیقی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ آئی این آئی میں تعليم عملی طور پر مفت یا انتہائی سبسڈی پر ہوتى ہے۔

COVID-19 کے اس عالمی وبا کے دوران بھی ان بہترین نتائج سے رحمانى پروگرام آف ایکسیلينس (رحمانی 30) کی پوری ٹیم ہمت افزا اور مطمئن ہے. ماہ مارچ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں آیا جو ابھی تک لاک ڈاؤن اور اَن لاک کی شکل میں جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح تعلیمی سرگرمی بھی بری طرح متأثر ہوئی۔ سارے طلبہ وطالبات سینٹر سے گھر روانہ کر دیے گئے۔ لیکن رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے ذمہ داروں نے اپریل کے اوائل سے ہی آن لائن کلاسیز اور ٹیسٹ کا نظام جاری رکھا، اور اس کا اہتمام کیا گیا کہ ہر بچے کے پاس ایک انٹرنیٹ ڈیوائس ہو جس کے ذریعے ہے وہ اپنی کلاس کرسکیں، کلاس کی رپورٹ لکھ سکیں کی اور امتحان دے سکیں. طلبہ کے ساتھ صبح وشام بے پناہ محنت کی گئی. حالاں کہ ان تمام تر محنتوں کے باوجود طلبہ کی کارکردگی اور بہتر ہوتی اگر وسائل کی کمی جیسے کہ کمپیوٹر، مستحکم انٹرنیٹ، بجلی کی موجودگی، وغیرہ کا اور بہتر نظام ہوتا، ان وجوہات کی وجہ سے کامیابی کا یہ عمل اور مشکل بن گیا تھا۔ مذکورہ بالا سہولیات کے ساتھ کارگردی کو اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

رحمانی پروگرام آف ایکسلنس ملک کے کئی شہروں میں کام کر رہا ہے جیسے پٹنہ، جہان آباد (بہار) اورنگ آباد، خلد آباد (مہاراشٹر) اور بنگلور میں متعدد میڈیکل و انجینئرنگ سینٹر پوری محنت کے ساتھ مسلم مائنوریٹی طلبہ وطالبات کے مستقبل کو سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سینٹرز میں ملک کے مختلف صوبوں کے علاوہ بیرون ملک کے این آر آئی طلبہ وطالبات بھی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کی نگرانی میں کر رہے ہیں یقینا خلیج کے ملکوں میں رہنے والے ہمارے ملک کے باشندگان بھی اب اس بات کو محسوس کر رہے ہیں رحمانی پروگرام آف ایکسلنس مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کی ضمانت بن چکا ہے۔

رحمانی پروگرام آف ایکسلنس (رحمانی 30) اپنی سرپرست تنظیم رحمانی فاؤنڈیشن کے ساتھ بہت مؤثر انداز میں کمیونٹی کی تعلیمی نا امیدی کو امید اور یقین میں بدل رہا ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اپنے سیکھنے کے طریقہ کار کو مؤثر بنا رہا ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی (بانی رحمانی 30) نے کہا ہے کہ یقینا یہ کامیابی جناب ابھیانند جی کی انتھک محنت اور رہنمائی، سینئر لیڈر شپ، فیکلٹی، مینجمنٹ ودیگر عملہ کے ساتھ طلبہ اور ان کے گارجین کے درمیان مقصد کی شناسائی اور باہمی تعاون ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم سب کا باہمی تعاون نا ہو تو ایسی تاریخی کامیابی کا حصول ہرگز ممکن نہیں۔

You may also like

Leave a Comment