رہے خموش تو ظالم کی پیروی ہوگی-مفتی محمد سراج الہدیٰ ندوی ازہری

اسرائیل ظلم و بربریت کا جو ننگا ناچ رہا ہے، وہ کسی پر مخفی نہیں، یہ سب ایک ایسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے، جو ایک زمانہ پہلے طشت از بام ہو چکی ہے، یورپ، امریکہ اور اقوام متحدہ نے صیہونیت کے اس سانپ کو دودھ پلا پلا کر مشرقِ وسطیٰ کو ڈسنے کے لیے تیار کیا ہے، اس سازش کا اصل مقصد پڑوسی مسلم ممالک کو اتنا کمزور کردیناہے، کہ ان کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہے اور یہ ممالک امریکہ و یورپ کے اشاروں پر ہی ناچتے رہیں اور انہی کے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھرنے کا کام کرتے رہیں۔
فلسطین کا مسئلہ عالمِ اسلام کا ایک رستاہوا ناسور ہے، ظلم وبربریت کی یہ داستان کوئی نئی نہیں ہے، تقریباً ایک صدی سے یہ کہانی جاری ہے، نومبر ۱۹۱۷ء میں ترکی کی خلافت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ کے خارجہ امور کے سکریٹری مسٹر بالفور (Mr. Bolfore) نے حکومت برطانیہ کی طرف سے ایک اعلان کیا، جو "اعلان بالفور” کہلاتا ہے، جو مسٹر روتھس چائلڈ (Roths Chied) کے نام ایک خط کے ذریعہ منظر عام پر آیا، اس اعلان کے مطابق صیہونی لیڈروں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کو ایک علاحدہ وطن دیا جائے گا، کونسل آف لیگ آف نیشنز (اس وقت کی اقوامِ متحدہ) نے ۲۲/ جولائی ۱۹۲۰ء کو فلسطین پر قانونی حکومت کا اختیار برطانیہ کو دے دیا، اسی اختیار کے ساتھ ہی یہودیوں نے دنیا کے مختلف گوشوں سے فلسطین کی طرف نقل مکانی شروع کردی،۱۹۳۹ء میں برطانیہ نے یہودیوں کی اس نقل مکانی کو محدود کرنا چاہا؛ مگر اس سلسلہ میں اسے صیہونیوں کی دہشت گرد تنظیموں اور امریکہ کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا،۱۹۴۷ء میں برطانیہ نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مستقل حکومت کا سوال اٹھایا، اور ۲۹/مئی ۱۹۴۷ء میں جنرل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کی قرارداد منظور کی گئی، ۱۵/مئی۱۹۴۸ء میں برطانیہ نے مکمل طور پر فلسطین سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور اسی تاریخ کو اسرائیلی ریاست کابھی اعلان کردیا گیا، اس وقت سے آج تک اسرائیل اپنی توسیع پسندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، سرزمین فلسطین پر دھیرے دھیرے غاصبانہ قبضہ کرتا جارہا ہے، وہاں کے باشندوں پر ان کی زمین تنگ کی جارہی ہے، ایک دن بھی انہیں چین و سکون کی زندگی نصیب نہیں ہورہی ہے، تف ہے مسلم ممالک پر، ان میں سے اکثر روز اول ہی سے تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے توسیعِ مملکت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے فلسطینی نہتے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، بچے، بوڑھے، عورتیں، جوان سبہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،جھوٹے جھوٹے الزامات لگا کر ان پر بمباری کی جاتی ہے، میزائیل داغے جاتے ہیں، ان کی آبادیوں پر بلڈوزر چلا دیے جاتے ہیں، اپنے حقوق کے مطالبہ کرنے والوں کو دہشت گرد اور جنگجو کہا جاتاہے، انہیں گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑایا جاتا ہے، اذیتیں دی جاتی ہیں، ایسی ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جن کے بیان سے انسانیت شرمسار ہوجائے۔
رمضان کے اس مبارک مہینہ میں اسرائیلی درندگی کی جو نئی مہم کا آغاز ہوا اور ابھی بھی وہ سلسلہ جاری ہے، جو کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ہمیں اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو نیست ونابود کرنے، دیگر مسلم ممالک پر قابض ہونے اور انہیں غلام بنانے کے منصوبے پر پوری طرح عمل پیرا ہے، اسرائیل مشرق وسطیٰ کے پورے مسلم علاقوں کو اور اس پورے حصہ کو اپنی میراث سمجھتاہے، جس کا اظہار اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر لکھا ہوا یہ جملہ کرتا ہے: "اے اسرائیل!تیری سرحد نیل سے فرات تک ہے”۔
یاد رکھنے کی بات ہے کہ اسرائیلی حکومت یورپ و امریکہ کی ناجائز اولا د ہے، جسے مسلمانوں کے خلاف تیار کیا گیا ہے؛ لیکن یہ ایسی قوم ہے جو کبھی بھی کسی کی ہوئی ہے اور نہ ہوگی، اس کی اصل دشمنی تو اسلام اور مسلمانوں سے ہے؛ لیکن حقیقتاً بلا تفریق مذہب و ملت وہ سارے انسانوں کو اپنا غلام سمجھتی ہے، اپنے مفاد کی خاطر کسی سطح تک بھی وہ آسکتی ہے، یہ وہ قوم ہے جس نے اپنے معصوم انبیا تک کو شہید کرڈالا، ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے اوران کے ساتھ ایسی نازیبا حرکتیں کیں جن کو بیان کرنے کی قلم میں بھی طاقت نہیں، لکھنے سے پہلے ہی اس کی روشنائی خشک ہوا چاہتی ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے ان پر بہت سارے عذاب بھیجے۔ بے وفائی، دھوکا دہی، غداری، عہد شکنی ان کی سرشت میں داخل ہے، انہی کرتوتوں کی وجہ سے ہٹلر نے گیس کے چیمبر میں ڈال کر دس لاکھ یہودیوں کو مارڈالا تھا۔ اس نے اپنے سب سے بڑے آقا امریکی صدر کو بھی نہیں چھوڑا، ۱۹۶۰ء کے بعد جب امریکہ سے اسرائیل کے تعلقات کچھ خراب ہونے لگے تھے اور امریکی صدر جان ایف کنیڈی نے اسرائیل سے جوہری پروگرام کی تفصیل بتانے کا مطالبہ کیا تھا، تو اسرائیل نے جوہری اسلحوں کی تیاری کے سلسلے میں اس قدر بے لگام اور مغرور ہونے کا ثبوت پیش کیا کہ اس نے اپنے سب سے بڑے معاون اور سرپرست امریکہ کے صدر کنیڈی ہی کو اپنے جاسوسوں کے ذریعہ قتل کروادیا، اس کے بعد سے آج تک کسی امریکی صدر نے جوہری اسلحہ کے سلسلہ میں کسی طرح کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا (تفصیل کے لیے دیکھیے: ایک اسرائیلی مصنف کی کتاب "اسرائیل اینڈ دی بم”)۔
اے لوگو !ہمیں ہوش میں آنا چاہیے، اسرائیل ظالم ہے، ہاں! یقیناً ظالم ہے، وہ تو ساری انسانیت کے لیے زہریلا سانپ ہے اور سانپ جب ڈسنے پر آتاہے تو سپیرا کو بھی ڈس لیتاہے، اسے بھی نہیں چھوڑتا۔ افسوس ہے اقوام متحدہ پر جو بڑی طاقتوں کا کٹھ پتلی بنا ہوا ہے، وہ انسانیت کا ڈھونڈرا پیٹتاہے، کیا اسے خاک و خون میں تڑپتی ہوئی فلسطینی لاشیں نہیں دکھائی پڑرہی ہیں۔ اس سے زیادہ افسوس تو مسلم ممالک پر ہے، جن کی زبانیں گنگ ہوچکی ہیں، ان کے منھ پر ایسے تالے پڑے ہوئے ہیں جن کی چابھیاں مغربی آقاؤں کے پا س ہیں۔ آج اگر یہ چپ ہیں تو کل ان کی بھی خیر نہیں ہے، ان کو بھی لقمہ بنایا جائے گا، اس وقت کوئی بھی حلیف ملک ساتھ دینے والا نہیں ہوگا۔ منھ کھولو، ظلم کے خلاف آواز لگاؤ، بات نہ بنے تو سفارتی تعلقات ختم کرو، ڈھکے چھپے، کھلم کھلا ہر طرح سے فلسطینیوں کا ساتھ دو، اسرائیل کو ظلم سے باز آجانے کو کہو، کیا تمہارا ضمیر مردہ ہو چکا ہے، انسانیت کی قدر وقیمت کھوچکے ہو، کیا ان ننھے منے بچوں کے لاشوں کو دیکھ کر تمہاری آنکھیں اشکبار نہیں ہوتیں، بے سہارا و بے سر و سامانی کی حالت میں کیمپوں میں پڑے ہوئے لوگوں کے مصائب تمہیں نہیں رلاتے، خصوصاً رمضان کے اس مبارک مہینے میں ہم تو اچھی طرح افطار و سحر کرتے رہے اور اپنے آرام دہ گھروں میں رہے، وہ بے چارے کھلے آسمان کی چھت کے نیچے بھوکے پیاسے اپنے حقوق کی بازیافت اور اللہ کے کلمہ کی بلندی میں لگے ہوئے ہیں،کیا ان معصوم بچوں ، بے گناہوں اور مظلوموں کی خون میں لت پت تصویروں کو دیکھنے کے بعد بھی تمہیں آرام کی نیند آجاتی ہے، خاموش کیوں ہو؟ کچھ تو بولو، کچھ تو کرو، ظلم کے خلاف آواز تو لگاؤ، آخر یہ تماشا کب تک ہوتا رہے گا، تم سے اچھا تو وینزویلا کا صدر نکلا جس نے آج سے چند سال پہلے کم از کم اتنا تو کیا کہ بجا طور پر اسرائیل کو ایک "ناجائز مملکت” اور فلسطینیوں کو ایک "بہادر قوم” سے تعبیر کیا۔ اے لوگو! سنو، بہت غور سے سنو!

جفا و ظلم و ستم دیکھ کے اگر لوگو!
رہے خموش تو ظالم کی پیروی ہوگی