راحت اندوری:عوام کا ترجمان شاعر-مسعود جاوید

منفرد لب ولہجہ کے فنکار،محبت و بغاوت کے امتزاج کے پیکر،عالمی شہرت یافتہ،اردو کے جرأت مند شاعر راحت اندوری صاحب کل اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اللہ مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائےـآمین
آرٹسٹ خواہ ادیب ہو شاعر ہو افسانہ و ناول نگار ہو ،مصور ہو،صحافی ہو یہ سب کے سب اپنے فرض منصبی کے تحت سماج میں نمودار ہونے والی برائیوں اور زیادتیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ اقتدار میں رہنے والے حکمرانوں کو ، مال و دولت کے نشے میں چور ارباب ثروت کو ، ضعیفوں کو کچلنے والے طاقتوروں کو کبھی خاطر میں لائے بغیر اپنے احساسات کو اپنی زبان،قلم اور برش کی وساطت سے عوام کے سامنے لانے کی جرأت کرتے ہیں۔
لیکن ہر شعبے میں اور ہر پیشے میں بعض فنکار ایسے بھی ہوتے ہیں جو منصب و جاہ ، اعزاز و اکرام اور مال و دولت کی ہوس میں یا استبدادی نظام کے آہنی پنجوں سے خوف زدہ ہو کر اپنے فنون اور ان کے فطری مطالبات کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے۔ راحت اندوری صاحب ان فنکاروں میں سے ایک تھے،جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں کبھی متذبذب نہیں رہے، منافقانہ اسلوب کبھی اپنایا اور نہ کبھی مصلحت کی چادر اوڑھی۔ ان کے مشاہدات میں جو کچھ آیا دیانت داری کے ساتھ اس کا اظہار کر دیا ۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ وہ محض ایک باغی شاعر تھے۔ وہ بیک وقت محبت کے پھول بھی بکھیرتے تھے اور معاشرے میں پائے جانے والے زخموں پر نشتر بھی چلاتے تھے۔

اس کی یاد آئی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

راحت اندوری صاحب عوامی شاعر تھے،عام فہم اسلوب بیان اور طرز نگارش کی وجہ سے وہ عوام کے ذہنوں تک اپنے احساسات،جذبات اور خیالات کو پہنچاتے تھے یا عوام کی ترجمانی کرتے تھے۔ اس طرح وہ مشاعروں کو لوٹ لیتے تھے اور ان کے بے شمار اشعار زبان زدخاص و عام ہو جاتے تھے۔ اردو اور غیر اردو قارئین و سامعین عام انسان سے لے کر مقننہ کے ایوانوں میں نمائندگی کرنے والے بھی موقع کی مناسبت سے ان کے اشعار نقل کرتے ہیں۔ وہ ایک طرف حکومت وقت کو للکارتے تھے تو دوسری طرف عوام کو پست ہمتی کے خلاف کھڑے ہونے کے لئے ان کے حوصلے بلند کرتے تھے۔ وہ سیاسی لیڈروں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا احتجاج درج کراتے وقت اپنی حب الوطنی پر آنچ نہیں آنے دیتے تھے۔ وہ جبہ و دستار والے بزعم خود جنت کے ٹھیکیداروں کی بخیہ بھی اڈھیرتے تھے۔
ہاں میں مانتا ہوں وہ عمائدین اردو ادب کی طرح ثقیل اردو میں ادبی شہ پارے نہیں بکھیرتے تھے‌۔ وہ صاف گو تھے اور اپنے خیالات کے اظہار کے لئے بچ کر نکلنے والی تعبیرات کا استعمال نہیں کرتے تھے۔ وہ ادب برائے ادب نہیں،ادب برائے زندگی میں یقین رکھتے تھے۔ وہ گنجلک تعبیر اور مجرد ادب سے دور اپنے کلام کے توسط سے لوگوں کے دلوں میں گھر بنا لیتے تھے۔ اس لئے کہ ادبی شہ پارے اور تجریدی مصوری تک رسائی ایک محدود و مخصوص طبقہ کی ہوتی ہے۔ Abstract art کے شاہکاروں کی قدر و قیمت عموماً highly qualified صاحب ثروت خواتین و حضرات ہی سمجھ سکتے ہیں، عام لوگوں کو وہ محض مختلف رنگوں کا امتزاج نظر آتے ہیں،عام لوگوں کو ان تجریدی فن کے نمونوں کو سمجھنے کے لئے شرح کی ضرورت ہوتی ہے۔
شعر کی مقبولیت کا معیار ایک یہ بھی ہے کہ سننے اور پڑھنے والے کو فوراً یاد ہو جائے اس لئے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کے خیالات، احساسات اور جذبات ہیں،جنہیں شاعر نے الفاظ و تعبیرات کا جامہ پہنا دیا ہے۔ خیالات کو زرق برق نہیں شستہ زبان،سنجیدہ موضوع اور حالات حاضرہ کی تمثیل کا پیرہن عطا کرنے میں راحت اندوری صاحب لاجواب تھے۔
١- سی اے اے این آر سی کے تناظر میں :
اپنی پہچان مٹانے کو کہا جاتا ہے
بستیاں چھوڑ کے جانے کو کہا جاتا ہے

٢- میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ صورتحال پر :
سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائے
سوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائے

٣- ملک کی ابتر معیشت، غریبی بے روزگاری اور دوسری طرف غیر ضروری سرکاری اخراجات – سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت ٩٢٢ کروڑ کی لاگت سے پارلیمنٹ کی مجوزہ نئی عمارت کی تعمیر :
نئے ایوان کی تعمیر ضروری ہے مگر
پہلے ہم لوگوں کو ملبے سے نکالا جائے

٤- بابری مسجد رام جنم بھومی پر عدالت کے فیصلے کے پس منظر میں :
انصاف ظالموں کی حمایت میں جائے گا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائے گا

٥- مایوس کن حالات میں حوصلہ دیتے ہوئے :
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

٦- اقلیتوں کے لیے مراعات پر :
میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے
میرے حصے میں بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہیے

٧- حب الوطنی پر :
میں مر جاؤں تو میری اک الگ پہچان لکھ دینا
لہو سے میری پیشانی پہ ہندوستان لکھ دینا
٨- سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کے منافقانہ رویہ پر :
دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیں
سب اپنے چہروں پہ دوہری نقاب رکھتے ہیں

٩- معاشرہ میں خانگی کشیدگی اور جھگڑے پر :
میری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے
مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

١٠- جرأت مندانہ زندگی گزارنے پر :
لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*