راحت اندوری :اپنی طرز کا موجد بھی وہ خاتم بھی وہ-پروفیسر صالحہ رشید

 

صدر شعبہ عربی و فارسی
الہ آباد یونیورسٹی
وبا پھیلی ہوئی ہے ہر طرف

ابھی ماحول مر جانے کا نئیں
مرحوم راحت اندوری کا یہ شعر پڑھ کر طبیعت ملول ہوئی اور اس بات پر پہلے سے کہیں زیادہ یقین ہو گیا کہ ’آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں‘۔ ۱۱؍ اگست ۲۰۲۰ءکی شام راحت اندوری اس وبائی ماحول سے کنارہ کش ہو گئے۔آن کی آن میںیہ افسوسناک خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل گئی۔بے شمار چاہنے والوں نے اپنے اپنے طور پررنج و غم کا اظہار کیا۔ان کی تعزیت کی خاطرشام کا اسپیشل اخبار نکلا ۔اب رسائل و جرائد راحت اندوری کے نام پر خصوصی نمبر شائع کر انھیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں:
دو گز سہی مگر یہ مری ملکیت تو ہے

اے موت تونے مجھ کو زمیندار کر دیا
راحت تودو گز زمین تلے جا بسے اور زمیندار ہو گئے مگر بظاہر اس سادہ سے دکھنے والے شعر کے ذریعے وہ غور و فکر کا ایسا سمندر چھوڑ گئے جس کی موج درموج نئی ہلچل مچی ہوئی ہے۔در اصل وہ تو روایتوں کی صفیں توڑ کربہت دور نکل گئے ، اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم اپنا راستہ کیسے بنائیں۔راحت نے جب اس جہان میں آنکھ کھولی تو سیاسی اعتبار سے ملک آزاد تھااور ادبی اعتبار سے ترقی پسند تحریک کا جوش کم ہو چکاتھا۔ راحت کی پیدائش ۱؍جنوری ۱۹۵۰ کی ہے ۔ انھوں نے ۱۹ ؍ برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیااور علامہ اقبال کے اس شعر کو حرف حرف سچ کر دکھایا :
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
راحت کی خوبی یہ تھی کہ وہ حال میں جیتے تھے۔اپنے گرد وپیش سے کلی باخبر رہتے۔جب وہ عوام کے درمیان ہوتے تو جوان دلوں کی دھڑکن بن جاتے تو دوسری طرف بزرگوں کے اندر جوانی کا جوش بھر دیتے۔ایک مرد مجاہد کی مانند سینہ سپر ہو کر ظلم و نفرت کے خلاف انتہائی بیباکی سے اپنے جذبات کو شعرکے قالب میں ڈھال کر سامعین کے دامن میں اچھال دیتے ۔چھوٹی بحر اور سیدھی سادی زبا ن میں ادا کئے گئے یہ اشعار عوام و خواص کو دعوت فکر دے جاتے۔ظالم حکمران سامعین کی صف اول میں جلوہ افروز ہوتے تب بھی ان کی صحت پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ایسے ایسے شعر ان کی زبان سے ادا ہو گئے جو آج ضرب المثل بن چکے ہیں۔راست ضرب لگا دینا بس انھیں کا خاصہ تھا۔مثلاًپارلیمنٹ کی منظر کشی ایک چھوٹے سے شعر میں ملاحظہ فرمائیں:
عجیب رنگ تھا مجلس کا ، خوب محفل تھی

سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے
ان کے طنز کے تیر و نشتر اتنے فطری ہوتے کہ عوام کا ذہن ان کے ہدف تک فوراً پہنچ کر لطف اندوز ہوئے بغیر نہ رہتا۔ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ راحت نے وہی کہا جو وہ خود کہنا چاہتا ہے۔در اصل راحت کے پاس ایسا سلیقہ اور ہنر ہے کہ وہ عوام کا سینہ چیر کر اس کے جذبات نکال لاتا ہے اور انھیں لفظی پیراہن میں لپیٹ کر پیش کر دیتاہے۔ملاحظہ فرمائیں:
کچھ اور کام جیسے اسے آتا ہی نہیں

مگر وہ جھوٹ بہت شاندار بولتا ہے
میں من کی بات بہت من لگا کے سنتا ہوں

یہ تو نہیں، تیرا اشتہار بولتا ہے
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم

آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا

میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا
ایسا بے باک ، حق گو، صداقت کا سر عام اعلان کرنے والا ، ارباب حل و عقد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے والا ، سلاسل کی جھنکار اور قید و بند کی دھمکیوں سے بے پرواہ ، ہتھیلی پر جان رکھے، سر پر کفن باندھے ، وہ شیر دم پورے دم خم کے ساتھ ظلم و جبر کو واشگاف کرتا رہا۔ذرا مقراض کی تراش تو دیکھئے:
تری زبان کترنا بہت ضروری ہے

تجھے مرض ہے کہ تو بار بار بولتا ہے
ہندوستان کی مٹی کو لے کر راحت کی پوری غزل ان کے تیور کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔بلا خوف وخطر اتنی بڑی بات عوام کے مجمع میں کہنا معمولی بات نہیں۔ انھوں نے نہ فقط زبان سے یہ شعر ادا کئے بلکہ کرسی نشینوں کو راست مخاطب بھی کیا ۔نہ جانے کتنی بے باکی لے کر پیدا ہوا تھا یہ معمولی سا نظر آنے والا انسان!!آج بھی اہل ذوق دم بخود ہیں :
اگر خلاف ہیں،ہونے دو، جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے ، کوئی آسمان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے
جو آج صاحب مسند ہیں ، کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
مندرجہ بالا اشعار سے ایک بات تو عیاں ہے کہ انھوں نے سہل ممتنع میں شعر ضرور کہے مگر جن الفاظ کو وہ بروئے کار لائے ان کی اپنی الگ دنیا ہے۔الفاظ کو اس طرح پرویا ہے کہ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا نظر آ رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہر ہر لفظ حکومت کر رہا ہے۔ دھواں، آسمان ، زد، مسند، ذاتی، باپ وغیرہ اس طرح استعمال کئے کہ تیر و نشتر کی ساری چبھن ان کے اندر سما گئی۔اسی طرح ’ تھوڑی ہے‘ مثلاً جان تھوڑی ہے ، آسمان تھوڑی ہے، بالکل عامیانہ اور مقامی زبان میں استعمال ہونے والا فقرہ ہے مگر یہ راحت کا فن ہے جس نے کلام میںاس فقرے کی حکمرانی ثابت کر دی۔اسی طرح کرائے دار، ہتھیلی پر جان ، کسی کے باپ کا ہندوستان ، ان کے استعمال سے کلام میں زور اور اثر پیدا ہوا وہ بے مثل ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے گویا الفاظ ان کی ادائیگی کے غلام ہیں۔ یہ سلیقہ ، یہ ہنر راحت کا خاصّہ ہے۔ایک شعر ملاحظہ ہو:
چاروں ہیں میری جان کے دشمن بنے ہوئے

انجم ، ندا ، امیر قزلباش ، بمبئی
مصرعہ ثانی میں فقط چار لفظ استعمال کئے گئے ہیں مگر ان میں ہر لفظ کا اپنا مکمل وجود ہے۔ان سے راحت کی ذاتی زندگی ، دوستانہ مراسم، رقابت اور بود و باش سب کچھ نہاں نہیں؛ بلکہ عیاں ہو گیا ہے۔ بظاہر یہ سادہ سی زبان میں کہے گئے شعر اپنے اندر ترسیل کی پوری قوت رکھتے ہیں۔ان کے اشعار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان کو پڑھنے کے ساتھ ہی سمجھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔یہ سمجھنا ان کے اشعار کا نہیں بلکہ اپنے گردو پیش کا، اپنے ماضی، اپنے حال، اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت کا ہوتا ہے ۔مثلاً ذیل کا شعر دیکھیں:
رکھ دیے جائیں گے نیزے لفظ اور ہونٹوں کے بیچ

ظل سبحانی کے احکامات جاری ہو گئے
نیزے کا لفظ واقعۂ کربلا کی سفاکی اور الم ناکی کی نشاندہی کرتا ہے تو لفظ اور ہونٹوں کے درمیان نیزے کا رکھ دیا جانا یعنی اظہار کی آزادی پر قدغن ، ظل سبحانی یعنی حکمران اور اس کی رعایاگویا جمہوریت کی پامالی۔اس طرح ایک ہی شعر میں صدیوں کی داستان پروتے ہوئے زمانہ حال کے مزاج کی تصویر کشی کر دی۔ہر شخص نے اپنی بساط بھر اس شعر کو سمجھااور لہجے کی کاٹ کو محسوس کیا۔ اس طرح راحت نے الفاظ کا استعمال یوں کیا گویا الفاظ فقط معنی نہیں رکھتے بلکہ ان کے دانت ہیں جو ظالم کو لپک کر کاٹ لیتے ہیں ، ان کے ہاتھ ہیں جو جابر کا گریبان چاک کر ڈالتے ہیںیا ان کے پائوں ہیں جو رعونت کو ٹھوکر مار دیتے ہیں۔
راحت نے جب اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تو اردو شاعری کا ترقی پسندانہ رجحان ختم ہو چکا تھا اور ایک نیا رجحان جدیدیت کے نام سے پنپ رہاتھا۔راحت نے اسی کا دامن تھاما مگر وہ اس سے متأثر نہ ہو سکے۔انسانی کرب اور ان کے اپنے احساسات درون خانہ پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ان کے ذاتی تجربات اور بنیادی صداقتیں باہر نکلنے کو مچل رہے تھے۔وہ اپنے جذبات دوسروں تک پہنچا دینا چاہتے تھے۔وہ معاشرے سے پوری ذہنی ہم آہنگی رکھتے تھے۔آزادی کے بعد مسلمان جن آزمایشوں سے دوچار ہوئے ، راحت انھیں نظر انداز نہ کر سکے۔ لہٰذا انھوں نے سماج کو در پیش مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ایک اور خاص بات کہ انھوں نے مسائل میں اپنی شاعری کو الجھایا نہیں بلکہ الجھے ہوئے مسائل اور ان کے حل کو شعر کا خوبصورت پیراہن عطا کر کے سادہ اور آسان طریقے سے لوگوں کے درمیان پیش کر دیا۔اسی لئے ان کا لہجہ الگ نظر آتا ہے:
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹ پہ چنگاری رکھو

زندہ رہنا ہے تو ترکیب بہت ساری رکھو
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ

یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں

میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیے

اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
مزاحمتی صوت و آہنگ کے ساتھ ساتھ راحت کے یہاں رومانی جذبات ، نازک احساسات و لطیف خیالات بھی نظر آئیں گے۔ ان کے کلام میں تخیل و ادراک کی تازہ کاری ہے تو لفظیات و استعارات کی چاشنی بھی۔عشق و رومان ، شیفتگی فریفتگی اور والہانہ پن، حسن کی جلوہ سامانیاں، محبوب کا روٹھنا منانا سب کچھ ان کے کلام میں مل جائے گا،مگر ان کی انفرادیت کے ہمراہ:
اس کی کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر منتر سب

چاقو واقو ، چھریاں وریاں، خنجر ونجر سب
جس دن سے تم روٹھیں ، مجھ سے روٹھے روٹھے ہیں

چادر وادر ، تکیہ وکیہ ، بستر وستر سب
مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی کہاں اب پہلے جیسی ہے

پھیکے پڑ گئے کپڑے وپڑے ، زیور ویور سب
آخر کس دن ڈوبوں گا میں فکریں کرتے ہیں

دریا وریا ، کشتی وشتی ، لنگر ونگر سب
عشق وشق کے سارے نسخے مجھ سے سیکھتے

ہیں ساگر واگر، منظر ونظر ، جوہر ووہر سب
تلسی نے جو لکھا اب کچھ بدلا بدلا ہے

راون واون ، لنکا ونکا، بندر وندر سب
چمنِ  دکھ کے باسی ہیں ،شہرِ درد کے بانی ہیں

محسن وحسن، غالب والب، ساغر واغر سب

 

کبھی دماغ ، کبھی دل ، کبھی نظر میں رہو

یہ سب تمھارے ہی گھر ہیں ، کسی بھی گھر میں رہو

سحر تک تم جو آ جاتے تو منظر دیکھ سکتے تھے

دیے پلکوں پہ رکھے تھے، شکن بستر پہ رکھی تھی
غرض کہ راحت کے یہاں غزلیہ روایت کی پاسداری برقرار ہے۔غزل کا بنیادی موضوع حسن و عشق وہاں پوری شدت سے موجود ہے مگر راحت کی جودت طبع کا اس میں بھر پور دخل ہے۔ معنی خیزی اور تہہ داری بھی ان کے اشعار کا جزو بنتی ہے۔اخلاقی بصیرت اور اعلیٰ قدریں تواتر سے ان کے اشعار میں جگہ پاتی ہیں۔ ان سب کو انھوں نے پوری فنّی مہارت کے ساتھ برتا ہے۔اشعار میں رعایت لفظی، استعارے، محاوروں کا بر محل استعمال ، بظاہر سادہ الفاظ مگر وسعت معنی لئے ہوئے، غزل میں مختلف النوع مضامین کا پرونا اور ان سب کے دوران اپنی انفرادیت قائم رکھنا، یہی ان کا طرۂ امتیاز ہے جس کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص سبک شعرکے خود ہی بانی ہیں اور شاید خاتم بھی:
لے تو آئے ہو شاعری بازار میں راحت میاں

کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو
میری قیمت کون دے سکتا ہے اس بازار میں

تم زلیخا ہو تمھیں قیمت لگانی چاہیے
یہیں حسین بھی گذرے ہیں ، یزید بھی تھا

ہزار رنگ میں ڈوبی ہوئی زمین ہوں میں