رفوگری اور پیوند کاری کے بعد بھی مثل اصل نہیں ہوتاـ مسعود جاوید

 

رفوگری اب تو یہ پیشہ ہی تقریباً ناپید ہے کم و بیش ١٩٩٠ تک جامع مسجد دہلی کی پچھم جانب چوڑی بازار جانے والی سڑک کے فٹ پاتھ پر جامعہ ہوٹل/ریسٹورنٹ کے پاس رفوگر بیٹھے ملتے تھے جو بڑی مہارت اور جانفشانی سے کپڑوں سے میچ کرنے والے دھاگے اور باریک سوئیوں سے ایسا رفو کرتے تھے کہ جب تک بہت غور سے نہ دیکھا جائے پتہ نہیں چلتا کہ کپڑا کس جگہ پھٹا ہوا تھا ۔ چونکہ اس ہنر کا اب استعمال نہیں اس لئے اس لباس کو بدلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اسی طرح پہلے ٹیپ ریکارڈر نہیں ہوتا تھا تو سیاسی اور سماجی لیڈران جب اپنے بیانات کی وجہ سے کبھی گرفت میں آجاتے تھے تو یہ کہتے ہوئے رفو کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ "سیاق و سباق سے الگ میرا بیان شائع/ نشر کیا گیا۔”ذرائع ابلاغ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب نے نہ صرف خبر رسانی کو برق رفتاری دی بلکہ اس کی وجہ سے سائز میں چھوٹے، وزن میں ہلکے، استعمال کرنے میں آسان اور کارکردگی میں بہترین آلات بھی ایجاد ہوئے ۔ اب اتنی آسانی سے اپنی غلطیوں کا ٹھیکرا صحافیوں کے سر نہیں پھوڑا جا سکتا۔ اب ایسی آڈیو ویژول ریکارڈنگ ہوتی ہے کہ جھٹلانا مشکل ہوتا ہے الا یہ کہ کہ فیک بنایا جائے‌ ۔ افغانستان عراق پر حملے کے دوران امریکی صدر جارج بش نے کہا ” یہ crusade صلیبی جنگ ہے” ۔ ظاہر ہے اس جملے کے تاریخی مضمرات تھے اس لئے متعدد حلقوں کی جانب سے جب ناراضگی کا اظہار ہوا تو چونکہ بیان ریکارڈڈ تھا اس لیے "سیاق و سباق” کہہ کر رفو کرنا یا کچھ وضاحت کر کے پیوند کاری کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے مجبوراً "سبقت لسانی ” slip of tongue کہہ کر معاملہ رفع دفع کیا گیا۔

الفاظ کا انتخاب اور تعبیر کا اسلوب method of expression دو دھاری تلوار ہیں ـ اس میں آپ کی ذرا سی بے توجہی مفید کو غیر مفید بنا دے گی، productive کو counter productive بنا دے گی، آپ کے نفع پہنچانے کے مقصد کو نقصان پہنچانے والے بنا دے گی، اس لئے ہمیں زبان و قلم کے استعمال کے وقت احتیاط سے کام لینا چاہئےـ کمان سے تیر نکل جانے کے بعد اسے لوٹا نہیں سکتے، لیکن انسانوں کو اللہ رب العزت نے موقع فراہم کیا ہے کہ غلطیوں کی نشاندہی ہو جائے تو ان کی تصحیح کی جائے،اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور اپنی بات اور خیالات کو ہر حال میں حق ثابت کرنے کے لئے ہر طرح کی جائز ناجائز تاویل کرنے اور جواز پیش کرنے سے احتراز کیا جائےـ اس طرح کا رویہ اپنا کر ہم تصادم اور انتشار سے بچ سکتے ہیں ـ ہر شخص میری رائے سے متفق ہو یہ ضروری نہیں ہے اسی طرح میں بھی کسی کی رائے کا مخالف ہو سکتا ہوں اور یہ صحت مند معاشرے کے افراد کی پہچان ہے : احترام الرأي والرأي الآخر یعنی اپنی رائے کے احترام کے ساتھ دوسروں کی رائے کا بھی احترام ہو،لیکن اس ضمن میں جو شئی سب سے زیادہ قبیح ہے وہ ہے اپنی رائے کے خلاف نہ نہیں سننے کی عادت اور قوت برداشت کی کمی جس سے مغلوب ہو کر مد مقابل کے لئے رکیک الفاظ کا استعمال، ذاتیات پر حملہ ، نفس موضوع کو چھوڑ کر اس کی ماضی کی خامیوں یا فیملی بیک گراؤنڈ پر گفتگو یا سیاق و سباق کو چھپا کر اس کو گھیرنے کی کوشش یا غیر پارلیمانی، غیر شائستہ،غیر مہذب زبان کا استعمال کرنا یعنی اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کا مخاطب جھوٹ بول رہا ہے تو پارلیمانی زبان میں اسے جھوٹا نہیں کہ سکتےـ اسے اس طرح کہنا ہوگا : آپ کی بات میں صداقت نہیں ہے،آپ کا بیان سچائی سے خالی ہے، ظاہر ہے اس tone میں بات کرنے سے متکلم اور مخاطب دونوں طیش سے خالی ہو جاتے ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ جن لوگوں کو تحمل اور رواداری کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے وہی لوگ زیادہ آپے سے باہر اور نہ صرف سوقیانہ زبان بلکہ گالی گلوچ کا استعمال کرنے لگے ہیں اور پھر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ ان لوگوں نے روایتی انداز میں محض تعلیم یعنی لکھنا پڑھنا سیکھا ہے تربیت ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ہےـ
اگر دل میں اچھا جذبہ ہو، فکر نیک نیتی پر مبنی ہو، تو اس کے ذہن میں یہ ضرور رہنا چاہیے کہ اچھا انسان ماں کی گود سے گور تک سیکھتا رہتا ہے، کبھی کسی قسم کا عار محسوس نہیں کرتا، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ پرفیکٹ کوئی نہیں ہے اور ہر شئی کا مکمل علم کسی کو نہیں ہے اور غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں ـ اسی لئے جس عبارت سے غلط فہمی اور انتشار کا خدشہ ہو اس جگہ بین القوسين brackets میں وضاحت کر دینے سے صاحب تحریر خود بھی محفوظ رہتا ہے اور قارئین کو بھی انتشار سے بچاتا ہےـ

"ہم ہندوستانی ہندوستان میں اپنی مرضی سے by choice ہیں اتفاقاً by chance نہیں ہیں ” ۔ محمود مدنی صاحب کا یہ بیان بہت معقول اور بر وقت تھا اور بائی چوائس ناٹ بائی چانس والا جملہ بہت مشہور ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو ٹھکرا دیا۔ یہ بات بھی درست تھی اس لئے کہ ہمارے اسلاف نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی تھی اور ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا ‘ ہم نے نظام مصطفٰی کو ریجیکٹ کیا’ ان کے اس ایک جملے سے مسلمانان عالم کے جذبات کو بلا شبہ بہت ٹھیس پہنچی۔ اب وہ کتنی ہی تاویل کریں،مقصد بتائیں وضاحت کریں اب کوئی رفو کوئی پیوند کام نہیں کرے گا۔
سلمان ندوی صاحب نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو کچھ کہا اور جن الفاظ کا استعمال کیا وہ مسلماناں عالم کے لئے نہ صرف بہت تکلیف دہ ہیں بلکہ اساس دین اسلام، قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے ہم تک صحیح صحیح پہنچنے کو مشکوک بنا سکتے ہیں اور ایک بڑے فتنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جن الفاظ کا انہوں نے استعمال کیا دو تھیلے احادیث میں سے ، گردن کاٹے جانے کے ڈر سے ایک گول کردی ، دباؤ میں ، وغیرہ وغیرہ۔ یہ باتیں آڈیو ویژول ایسی وائرل ہوئیں یا کی گئیں کہ اب رفو اور پیوند کاری شاید کام نہ کرے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*