رابعہ کی عصمت دری و قتل: ہمیں کبھی شرم آئے گی؟ ـ شکیل رشید

 

ہمیں کیا کبھی شرم آئے گی؟ اس سوال کے لفظ ’ہمیں‘ میں سب ہی شامل ہیں، کیا عوام کیا خواص اور کیا وہ جو اس ملک کے حکمراں ہیں۔ بھارت میں لڑکیوں اور عورتوں کے ساتھ یہ جو عصمت دری اور قتل کی وارداتیں آئے دن پیش آرہی ہیں ، انہیں سوائے ’درندگی‘ کے اور کوئی نام نہیں دیاجاسکتا ۔ وہ تو ’درندے‘ ہیں ہی ، جو ایسی انسانیت سوز حرکتوں کے مرتکب ہیں ۔ ان کی سزا جس قدر بھی سخت یا سخت ترین ہو ، بھلے وہ سزا پھانسی ہی کیوں نہ ہو ، ان کے جرم کے مقابلے کم ہی کہلائے گی ۔ لیکن وہ جو کسی ایک لڑکی ، ایک خاتون کے زنا بالجبر اور قتل کی ’خبر‘ بس ’خبر‘ سمجھ کر پڑھتے اور پڑھ کر اس سے ’محظوظ ‘ ہوتے اور ’بے تکے‘ سے ’تبصرے‘ کرتے ہیں ، وہ بھی ’ درندوں ‘ سے کم نہیں ہیں ۔ ان کی سزا بھی سخت سے سخت ہونی چاہئے ۔ ہمیں ذرا سی بھی شرم اور غیرت ہوتی ، انسانیت کی ہم میں ذرا سی بھی رمق ہوتی ، تو ہم ایسی ’خبر‘ یا ’خبریں‘ پڑھ کر اپنے پیروں پر کھڑے نہیں رہ سکتے تھے ، ان سے جو اس ملک کو چلانے کے ذمے دار ہیں ، سوال کرنے کےلیے سڑکوں پر نکل پڑتے کہ تم نے ملک کی یہ کیا حالت بنادی ہے؟ ممبئی کے ساکی ناکہ کے علاقے میں ایک ۳۲ سالہ خاتون کی عصمت دری کا اور اسپتال میں اس کی موت کا جو واقعہ پیش آیا ہے اس نے دہلی کی نربھیا کی یاد تازہ کرتی ہے ۔ نربھیا کی بھی اور رابعہ کی بھی اور ہاتھرس ، کٹھوعہ ، اناؤ سے لے کر مظفر نگر تک کی ان تمام عورتوں اور بچیوں کی بھی ، جو عصمت دری کی بھینٹ چڑھی ہیں ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عصمت دری جیسے سنگین جرم کو بھی اس ملک میں ’سیاسی‘ رنگ دے دیاجاتا ہے ، اسے ’مذہب‘ اور ’ذات پات‘ کی عینک سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہاتھرس کی بچی چونکہ ذات کی دلت تھی اس لیے یوپی کی یوگی سرکار اس کی عصمت دری اور اس کے قتل پر قطعی بے چین نہیں تھی ، اسے ملزم سندیپ ٹھاکر کی جان بچانے کی فکر تھی ۔ اناؤ کی بچی کی عصمت دری اور قتل کے بعد یوگی سرکار کلدیپ سنگھ سینگر کو بچانے کےلیے ہاتھ پیر مارتی رہی تھی ۔ دہلی میں رابعہ سیفی کی عصمت دری اور قتل پر سب کی زبانوں پر تالے اس لیے پڑے رہے کہ وہ مسلمان تھی ۔ بھلے ہی وہ سول ڈیفینس کی اہلکار تھی ۔ کیوں اس ملک میں کسی بھی خاتون کے ’ریپ‘ کو ذات پات اور مذہب کی عینک اتار کر نہیں دیکھا جاتا؟ شرم آنی چاہئے کہ ملک میں عورتوں کے خلاف جرائم میں ’ریپ‘ چوتھے نمبر پر ہے ۔ مودی راج میں این سی آر پی کی رپورٹ کے مطابق صرف دہلی میں عورتوں کے خلاف جرائم میں ۶۳ فیصد اضافہ ہوا ہے ، سارے ملک میں یہ اضافہ کہیں زیادہ ہے ۔

آج ہی جاوید اختر کا بیان دیکھاکہ دنیا بھر کے ممالک افغانستان میں بننے والی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں کیوں کہ وہاں خواتین پر ظلم ہوتا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو ، جاوید اختر کا مشورہ سر آنکھوں پر ، مگر سوال یہ ہے کہ وہ حکومتیں جو جمہوری ہیں ، ترقی یافتہ ہیں ، لبرل ہیں اور ہر طرح کی آزادی جنہیں حاصل ہے ، تعلیم یافتہ بھی ہیں ، اور روشن خیال بھی ، وہاں کیا خواتین کے لیے حالات بہتر ہیں؟ نہیں ! بھارت کی مثال اوپر دی ہی جاچکی ہے ، امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یوروپی ممالک کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ ان حکومتوں کا بکھان کیسے کیاجاسکتا ہے ! ہمیں اپنی آنکھوں سے ہر طرح کے تعصب کی عینک اتارنی ہوگی ، اور خواتین پر جو بھی ظلم کرے ، طالبان، یا امریکی، یا ہندوستانی یا کوئی اور ، اسے ظالم سمجھنا ہوگا ، اور اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی ۔ یہی احتجاج کا درست طریقہ ہے ۔