قربانی : آؤ پھر عہد وفا تازہ کریں -مفتی یوسف شکیل قاسمی

قربانی ایک ایسی عبادت ہے جس میں بندہ احساس عبدیت سے سرشار ہوکر اپنا جذبۂ خلوص خالق کائنات کی خدمت میں پیش کرتا ہے ۔ عبادت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ساری زندگی خدا کی بندگی میں بسر کرے ، اپنے آپ کو دائمی اور ہمہ وقتی ملازم سمجھے ، زندگی کا ایک لمحہ بھی اللہ کی عبادت سے خالی نہ ہو ، اس دنیا میں آدمی جو کچھ بھی کرے رب کائنات کے احکامات کے مطابق کرے ۔اس کا سونا اور جاگنا ، کھانا اور پینا ، چلنا پھرناغرض سب کچھ خدا کی مرضی کے مطابق ہو ۔ مومن قربانی کے موقعے پر اپنے اسی موقف کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے ’’بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے‘‘ (آیت نمبر 161 سورۂ اَنعام )۔ قربانی تقرب الہی کی ایک علامت ہے ، جس میں مومن یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اللہ کے آگے سر جھکا نے اور اس کے حکم پر نفس کو قربان کر نے کے لئے تیار ہے ، جب تک دل میں خشیت نہ ہو اور اللہ کی مرضی پر اپنا سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ نہ ہو، اس وقت تک قربانی قبول نہیں ہوتی، رسم تو اداہو سکتی ہے لیکن قربانی کی روح اور مقصد تک رسائی نہیں ہوپاتی ، اللہ تبارک وتعالی نے سورہ حج میں ارشاد فرمایا ہے کہ’’ جانور کا گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہونچتا مگراسے تمہاراتقوی پہونچتا ہے ‘‘۔ قربانی دراصل احتساب نفس کے ساتھ کی جاتی ہے اور خالق کائنات نے قربانی کی جو روح اور اس کا مقصد بیان کیا ہے وہ بھی اسی طرف ہماری راہنمائی کرتی ہے ۔اور ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم قربانی کے اس بلیغ پیغام کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے ہیں جو قربانی کی اصل روح ہے ۔
قربانی کرنے والے کو اپنے دل کی کیفیت اور جانوروں کی صحت پر بھی نظر رکھنی چاہئے ، دل میں تقوی ہو اور جانور صحت مند ہو ، مومن دینی و اخلاقی عیب سے پاک ہو اور جانور جسمانی عیب سے پاک ہو تو انشاء اللہ قربانی مقبول ہوگی ، اور قربانی کرتے وقت اپنے زبان وقلب سے یہ کہے کہ ’’میری نماز، میری قربانی ، میرا جینا اورمیرا مرناسب کچھ اللہ رب العزت کے لئے ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلے سر جھکا نے والوں میں سے ہوں‘‘ (سورۂ اَنعام ) ۔ قربانی کا گوشت خود بھی کھائے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی دے ، غریبوں اور ناداروں میں تقسیم کرے اور اللہ سے قبولیت کی دعا بھی کرے ۔
قربانی سیدنا حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی سنت اور ان کی یادگار ہے۔ دنیا کا یہ دستور ہے کہ جب کسی شخص کے کارنامے کو یادگار کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے تو اس کے مجسمہ کو مخصوص مقامات پر نصب کر دیا جاتا ہے تاکہ دنیا اس کو یاد کرے لیکن حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی یادگار کا یہ کتنا مثالی طریقہ ہے کہ جس تاریخ کو یہ واقعہ پیش آیا اس دن ہر صاحب نصاب پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ابراہیم ؑکے اس عمل کو لازمی کر دیا اور شریعت محمدی میں بھی اس کی لازمیت کو بحال رکھا ۔ چناںچہ لوگ اس دن بہتر اور قیمتی جانورکی قربانی کرتے ہیں اور عمدہ لباس زیب تن کرتے ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ انسان تکبر میں مبتلا نہ ہو اور لباس کی عمدگی میںتفاخر نہ کرنے لگے لہذا ایک خاص تکبیر کا حکم دیا گیا ہے جو تکبیر تشریق کہلاتی ہے،جس کا ترجمہ یہ ہے : ’’اللہ سب سے بڑاہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑاہے، اللہ سب سے بڑاہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں‘‘ ، اس تکبیر کا کثرت سے اہتمام کرنا ہے، نویں ذی الحجہ کے فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر نمازکے بعد خصوصاًاور دیگر اوقات میں عموماً تاکہ بندہ قیمتی جانور کی قربانی اورعمدہ لباس زیب تن کرنے کی وجہ سے تکبر میں مبتلا نہ ہوجائے۔ قربانی در اصل حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اسی طرح ایام تشریق کا تلبیہ بھی حج کا ایک جزہے ان دونو ںحکم کو بجالانے میں پوری دنیا کے مسلمان شریک ہیں اس کے لئے حج کی شرط نہیں یعنی حج کے سارے ارکان تو مکہ مکرمہ میں ادا ہوتے ہیں مگر قربانی اور ایام تشریق کا تلبیہ دنیا کے دوسرے گوشے میں بھی انجام پاتے ہیں اور یہی دو اعمال ایسے ہیں جن کی وجہ سے تمام مسلمان حج کے عمل میں جزوی طور پر شریک ہوجاتے ہیں ۔
قربانی کی فضیلت کے سلسلے میں حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام مقبولیت میں پہونچ جاتا ہے لہذا اس کو خوش دلی سے کرو ۔(ترمذی شریف )
قربانی ہر صاحب نصاب پر واجب ہے یعنی ان لوگوں پر ضروری ہے جو مسلمان ہوں ،عاقل بالغ اور مقیم ہوں اور ان کی ملکیت میں ساڑھے سات تو لہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال ہو ، اور اس کی ضرورت اصلیہ سے زائد ہو اور یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مال تجارت ہو یا ضرورت اصلیہ سے زائد گھریلو سامان ہو ، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات ہوں ، قربانی کے لئے اس مال پر سال کا گذرنا بھی شرط نہیں ہے اور نہ اس کا تجارتی ہونا شرط ہے اگر کوئی شخص قربانی کے تین دنوں میں سے کسی دن بھی کسی صورت سے مالک نصاب ہوجائے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے ۔
آپ سماج سے چاہے جس قدر جھگڑتے ہوں ، رشتہ داروں سے چاہے جس قدر دوری بنائے رکھتے ہوں ، اس کائنات کے پیدا کرنے والے اور ہم سب لوگوں کے خالق و مالک نے سماج ، خاندان اور رشتہ داریوں کا مقام متعین کیا ہے اور اس کی اہمیت کو مختلف موقعوں پر واضح کیا ہے چنانچہ اس قربانی کے موقعے پر بھی شریعت کی ہدایت ہے کہ تم قربانی تو رب کائنات کی خوشنودی کے لئے کر رہے ہو ۔ یہ حقوق اللہ کی ادائیگی ہے لیکن حقوق العباد کو بھی یاد رکھو اور اپنے جھگڑوں کے باوجود، اپنی رنجشوں کے باوجود ، قربانی کے گوشت کا ایک حصہ غریبوں میں تقسیم کرو، دوسرا حصہ رشتہ داروں اور تعلقات کے لوگوں کو دو اور تیسرے حصے سے خود فائدہ حاصل کرو۔ قربانی کی یہ معنویت بھی غور طلب ہے کہ ایک آدمی قربانی کرتا ہے لیکن وہ صرف ایک حصے سے استفادہ کرتا ہے ، دو حصے دوسروں میں تقسیم کرتا ہے اور جانور کا چمڑا بھی کسی غریب کو دے دیتا ہے گویا عملا بہت ہی مختصر حصے سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنے اس عمل پر کائنات کے خالق سے پورے پورے ثواب کی امید رکھتا ہے۔گویا اس امت میں جو قربانی کے گوشت کا حکم ہے وہ بھی انوکھا اور مفید ترین ہے کہ ہم جو جانور قربانی کرتے ہیں اس کے گوشت کے مالک بھی ہم ہی ہوتے ہیںاور ہم اس سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں،پچھلی امتوں کے مقابلہ میں یہ خصوصی امتیاز ہم کو حاصل ہے۔
قربانی کے ان دنوں کو عید الاضحی کہتے ہیں عیدالاضحی کے معنی ہیں قربانی کی عید ،اس سالانہ تیوہار کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر قربانی کی اسپرٹ پیدا ہو جائے تاہم قربانی کا اصل مطلب جانور کو ذبح کرنا نہیں ہے بلکہ جانور کا ذبیحہ اصل قربانی کی علامت ہے نہ کہ وہی اصل قربانی ہے، عیدالاضحی کے موقع پر جب ایک شخص جانور کو ذبح کرتا ہے تو وہ اپنی زبان سے عربی کے وہ الفاظ کہتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ : بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے ،خدایا! تجھ ہی نے دیا ہے اور تجھ ہی کو میں اسے لوٹاتا ہوں،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی قربانی تو خود اپنی ذات کی ہے، اصل قربانی یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کو خدا کے حوالے کر دے، وہ اپنے وجود کی حوالگی کے لئے خدا سے عہد کرتے ہوئے بطور علامت ایک جانور کو ذبح کرتا ہے،عیدالاضحی کے دن صبح کو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے پھر جانور کی قربانی دی جاتی ہے یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو اظہار ہیں نماز بھی حوالگی اور سپردگی کا عہد ہے اور قربانی بھی، نماز میں رکوع اور سجدہ کے ذریعے خود سپردگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور قربانی میں جانور کے ذبیحہ کی صورت میں خودسپردگی کا اظہار کیا جاتا ہے، گویا نماز کے ذریعہ آدمی یہ کہتا ہے کہ جہاں مجھ کو خدا کے آگے جھکنا ہوگا جھک جائوں گا اور قربانی کے ذریعہ وہ کہتا ہے کہ جہاں مجھے اپنی جان پیش کرنی ہوگی وہاں اپنی جان پیش کر دوں گا، عیدین کی نماز عام نمازوں سے مختلف ہے کہ اس میں چھ زائد تکبیر کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ گویا کثرت سے خالق حقیقی کی کبریائی بیان کی جاتی ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج ہمیں اسلام کے لئے جانی و مالی قربانی پیش کرنے کی ضرورت ہے، آج ضرورت ہے کہ دنیا کی ترغیبات چھوڑ کر آخرت کی ابدی نعمتوں کے لئے قربانی دی جائے اور قربانی کے ذریعے ہمیں کیا پیغام ملتاہے اس پر غور کر نا چاہئے اس سے آدمی کے اندر قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اورآدمی اپنے زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ اللہ رب العزت اگر جان ومال کسی بھی چیزکو قربان کرنے کو کہیں گے تو یہ سعادت مند بندہ ہروقت تیار ہے،اخیر میں اللہ تبارک وتعالے سے دعا ہے کہ ہمیں اور آپ کو قربانی کی روح کو سمجھتے ہوئے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ ہم اس عزم و ارادے اور عہد کے ساتھ اپنی بات ختم کرتے ہیں کہ ع آئو پھر عہد و فا تازہ کریں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*