قربانی یا صدقہ؟-عبداللہ ممتاز

کورونا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا؛ خصوصا ہندوستان جن سنگین حالات سے جوجھ رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے؛ بلکہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اس کے شکار ہیں. نوکری پیشہ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، تجارت کرنے والے لوگوں کی تجارتیں تھپ ہوچکی ہیں، یومیہ مزدوری کرکے کمانے والے لوگ فاقہ کے شکار ہو رہے ہیں. مدارس سے تعلق رکھنے والے علماء اور مدرسین اس کے خصوصا شکار ہیں، پہلے سے ہی ان کی تنخواہیں آٹھ دس ہزار روپے ہوا کرتی تھیں جن سے پس انداز کرنا تو کجا بمشکل گزارہ ہو پاتا تھا، لاک ڈاؤن کے بعد سے مَدرسوں کی آمدنی بند ہوجانے کی وجہ سے بہت سارے مدرسین کو ان کی ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا، بہت سارے مدرسین کو مدرسہ کھلنے تک کی تنخواہ دینے سے مہتمم حضرات نے معذرت کرلی، کچھ مدرسین خوش قسمت ہیں جنھیں تنخواہیں تو مل رہی ہیں؛ لیکن چالیس پچاس فیصد کمی کے ساتھ یعنی پانچ ساڑھے پانچ ہزار روپے جن سے ان کا فاقہ تو دور ہوسکتا ہے؛ لیکن گھر چل پانا تقریبا ناممکن ہےـ
ادھر مسجد کے متولیوں نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور مسجد میں نماز باجماعت کی پابندی عائد ہونے کو غنیمت جان کر ائمہ کو برخواست کرنے لگے یا پھر ان کی تنخواہوں میں کٹوتیاں شروع کردیں ـ
ایسے سنگین حالات میں عید الفطر گزری اور اب عیدِ قرباں کے مبارک دن آنے والے ہیں، صاحب استطاعت لوگ اپنی قربانی کرنے کے لیے جانور کی خریداری کر رہے ہیں اور کرنی بھی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق دم” (ترمذي:1493)
کہ اللہ کے نزدیک ایام قربانی میں قربانی سے زیادہ بندے کا کوئی عمل محبوب نہیں. اور وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ بھی فرمائی کہ ایسے لوگ ہماری عیدگاہ کے قرجب بھی نہ آئے "من وجد سعة فلم يضح فلا يقربن مصلانا” (المستدرك للحاكم:7565)

لیکن ایسے مشکل حالات میں بھی وہی احکام ہوں جو عام حالات میں ہوتے ہیں ایسا نہیں ہے، اللہ تعالی نے مذہبِ اسلام کے احکام میں خاص قسم کی لچک رکھی ہے، موجودہ سچویشن میں نفل قربانی سے زیادہ ثواب اس کی رقم اپنے آس پاس رہنے والے مفلوک الحال مسلمانوں کو صدقہ کرنے اور مدارس ومساجد سے وابستہ علماء کے تعاون کرنے میں ہے.
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ "نفلی حج اور نفلی صدقہ میں افضل کون ہے؟” انھوں نے فرمایا ” إن الحج أحب إليه من الصدقة إلا أن تكون سنة مجاعة لأنه إذا كانت سنة مجاعة كانت المواساة عليه بالصدقة واجبة فإذا لم يواس الرجل في سنة مجاعة من ماله بالقدر الذي يجب عليه بالمواساة في الجملة فقد أثم وقدر ذالك لا يعلمه حقيقة فالتوقي من الإثم بالإكثار من الصدقة أولى من التطوع بالحج” (مواہب الجلیل:۲/۵۳۵) بلاشبہ نفلی حج نفلی صدقہ سے بہتر ہے بشرطے کہ قحط والا سال نہ ہو؛ کیوں کہ اگر قحط سالی ہو تو صدقات سے تعاون واجب ہے چناں چہ اگر اس نے اپنے اتنے صدقات (نافلہ) سے قحط سالی میں تعاون نہ کیا جو اس پر واجب ہے جس کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں (مقدار کو حالات طے کریں گے) چناں چہ کثرت صدقہ کے ذریعہ گناہ سے بچنا یہ نفلی حج کرنے سے ضروری ہےـ
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وأما إن كان له أَقارب محاويج فالصدقة عليهم أفضل، وكذلك إن كان هناك قوم مضطرون إلى نفقته، فأما إذا كان كلاهما تطوعا فالحج أفضل لأنه عبادة بدنية مالية وكذلك الأضحية والعقیقة. (الإختيارات الفقهية:1/465)
اگر اقرباء ضرورت مند ہوں تو ان پر صدقہ کرنا (نفلی حج سے) افضل ہے. ایسے ہی اگر لوگ اپنے نان ونفقہ کے حوالے سے حالتِ اضطرار میں ہوں (تو صدقہ؛ نفلی حج سے افضل ہے) جب عام حالات ہوں تب حج؛ صدقہ سے افضل ہے؛ کیوں کہ حج بدنی اور مالی عبادت ہے (جب کہ صدقہ صرف مالی عبادت) یہی حکم قربانی اور عقیقہ کا ہےـ

علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ ابن مبارک کا واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ نفل حج کے لیے جا رہے تھے، راستے میں انھوں نے ایک بچی کو مردہ پرندہ اٹھا کر گھر لے جاتے ہوے دیکھا، انھوں نے ان کے گھر جاکر معاملے کی دریافت کی تو معلوم ہوا کہ اس کے والد کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کے بدن پر موجود لباس کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے. عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے حج کے صرفہ کے لیے موجود اپنے پاس ہزار دینار میں سے بیس دینار واپسی کے خرچ کے لیے رکھ لیا اور بقیہ سارے دینار اس لڑکی کو دے کر راستے سے ہی واپس آگئے اور فرمایا "فهذا أفضل من حجنا في هذا العام”. کہ یہ امسال کے حج سے زیادہ افضل ہے. (البداية والنهاية:10/178)
ہم سب جانتے ہیں اور بار بار دہراتے بھی رہتے ہیں کہ ان مدارس اور مساجد کی وجہ سے ہمارا اسلامی وجود باقی ہے، اگر یہ نہیں رہے تو ہم اپنا اسلامی تشخص باقی نہیں رکھ سکیں گے؛ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا یہ طبقہ سب سے زیادہ مظلوم ومقہور ہے، ایک دو فیصد کو چھوڑ کر تقریبا کوئی بھی مولوی معاشی اعتبار سے خوش حال نہیں رہتا، بمشکل اپنی گھریلو بنیادی ضروریات پوری کرپاتا ہے اور جب معاملہ لاک ڈاؤن کا پہنچا اور ان کی تنخواہیں جو تھوڑی بہت ملتی تھیں وہ بھی بند ہوگئیں اب وہ کن حالت سے گزر رہے ہوں گے اللہ جانےـ
میں پر امید تھا کہ اکابرین امت جو قوم میں اثر ورسوخ رکھتے ہیں، ملت جن پر بھروسہ کرتی ہے وہ اس قسم کی اپیل کریں گے کہ امسال نفل قربانی کے بجائے غریب مسلمانوں پر صدقات کریں؛ لیکن اب جب کہ قربانی میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے اس قسم کی کوئی تحریر یا اپیل موصول نہ ہونے پر مایوسی ہوئی اور یہ سطریں لکھنی پڑ رہی ہیں. مجھے احساس ہے کہ بہت دیر ہوچکی ہے؛ لیکن خدا کرے اب بھی کسی کے کام آجائے اور اپنے اعزاء ومرحومین کے نام سے قربانی کرنے کے بجائے اس رقم سے غریب مسلمانوں؛ خصوصا امت کے سب سے مظلوم طبقہ مولویوں کے گھر کی خبر گیری جائےـ

نوٹ: حوالے مکتبہ شاملہ کے دیے گئے ہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*