کیا کورونا کی معاشی مار کے سبب قربانی میں رعایت مل سکتی ہے؟- وقار احمد ندوی

ایک شخص نے خصی/بکرا پال رکھا ہے۔ عموما وہ دو بڑے جانور اور ایک بکرے کی قربانی کیا کرتا تھا، اب ویسے حالات نہیں رہے، بکرے کی قربانی اپنے نام سے کرے تو اہلیہ کی دل شکنی ہوتی ہے اور اسے بیچ کر بڑے جانور میں حصہ لے تو تین حصوں سے زیادہ کی گنجائش نہیں نکل رہی ہے، پھر ماں باپ میں سے کوئی ایک رہ جاتا ہے، اب ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ وہ قرض لے یا قیمتی اثاثہ بیچے، یہ ایک مثال ہے جسے سامنے رکھ کر زیر نظر مضمون لکھا گیا ہے۔ امید ہے لائقِ عمل نہیں تو کم از کم قابلِ غور وفکر ضرور سمجھا جائے گا۔
اہل سنت کے اکابر ائمہ میں بعض نے قربانی کو واجب قرار دیا اور بعض نے اسے سنت مؤکدہ ٹھہرایا، اہل تشیع اسے مستحب سمجھتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربانی کا عمل ثابت ہے اس میں کسی قسم کے شک شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ذیشان بھی ثابت ہے کہ جو استطاعت کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ میری عیدگاہ میں نہ آئے اور یہ بھی کہ قربانی کے ایام میں (قربانی کے جانور کا) خون بہانے کا عمل اللہ کو دوسرے تمام اعمال سے زیادہ پسند ہے،لہذا واجب، سنت یا مستحب جو بھی سمجھا جائے، قربانی ضرور کی جانی چاہیے. البتہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دینی یا دنیاوی کوئی بھی قانون قابل عمل ہو ہی نہیں سکتا جب تک اس میں صورتِ حالات کے مطابق استثنائی شقیں شامل نہ کی جائیں۔
کلمہ طیبہ اصل الاصول ہے لیکن جان بچانے کے لیے اس کا انکار جائز ہے، نمازیں بعض حالات میں معاف ہیں اور بعض میں ان کی قضا ہے، روزے کی قضا ہے اور بعض حالات میں ان کا فدیہ ہے، حج بعض حالات میں منسوخ بھی ہوتے ہیں اور بعض وقت "حج بدل” بھی ہوتا ہے، اسی طرح زکات میں بھی تقدیم وتاخیر کی گنجائش ہے۔ یہ ارکان اسلام کی استثنائی صورتوں کا اجمالی بیان تھا۔ دوسری طرف خنزیر کا گوشت اور شراب کا حرام ہونا قرآن سے ثابت ہے، لیکن شدید مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے بقدر ضرورت ان کا کھانا اور پینا بھی جائز ہے۔
فرائض اور محرمات کے قوانین میں استثنا ہے تو یقینا قربانی کے احکام میں بھی ہونا چاہیے، ضرور ہے۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ حالات اچھے نہ ہوں تو قربانی کی ہی نہ جائے، ایسی صورت میں بات ہی ختم ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ بھی بعض صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن علما اپنے فقہی مسلک کے تحت مجبور ہیں لہذا وہ بتاتے نہیں اور عوام کو دین کی باتوں میں نہ رغبت ہے اور نہ ہی فرصت،لہذا وہ جاننا ہی نہیں چاہتے اور بسا اوقات ان کی سماجی شان وشوکت اور شہرت طلب طبیعت انہیں قربانی کرنے پر مجبور کرتی ہے، خواہ مقروض ہی کیوں نہ ہو جائیں۔

کورونا نے معاشی طور پر سماج کی کمر توڑ دی ہے، چھوٹے کارخانے بند ہو چکے ہیں، لاکھوں جوان اور نوجوان بے روزگار ہو کر شہروں سے گاؤں کو لوٹ چکے ہیں، ضروریات زندگی انہیں مقروض کرتی جا رہی ہے، اس کے باوجود انہیں حدیث سنائی جا رہی ہوگی کہ "جو استطاعت رکھتے ہوئے قربانی نہیں کرتا وہ عیدگاہ میں نہ آئے” اور "قربانی کے ایام میں خون بہانے کا عمل اللہ کو تمام دوسرے اعمال سے زیادہ پسند ہے”۔ استطاعت کی تشریح میں جمعہ کے خطیب کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ قرض لے کر شادی بیاہ کر سکتے ہیں، گھر بنا سکتے ہیں اور دوسرے کام کر سکتے ہیں تو قربانی کیوں نہیں کر سکتے. عجیب منطق ہے۔ ان سے کون پوچھے کہ کس خدا نے کہا ہے کہ قرض لے کر مذکورہ سارے کام کرو! غلطی یا مجبوری کے تحت کیے جانے والے دنیاوی کاموں پر دینی مسائل کو قیاس کرنے اور منبر ومحراب سے اس کا اعلان کرنے سے پہلے احادیث اور اعمال رسول کو دیکھ لیا جائے تو اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے بچا جا سکتا ہے۔

عبد اللہ بن عباس، ابو ہریرہ، حذیفہ، عبد اللہ بن ھشام، رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام ابو رافع، جابر بن عبد اللہ، ابو الدرداء، ابو سعید، انس بن مالک اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ وہ اصحاب رسول علیہ الصلوات والتسلیمات ہیں جنہوں نے بعض الفاظ کے اختلاف کے ساتھ حدیثیں بیان کی ہیں جن کا مفہوم ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنبے کی قربانی کی؛ ایک اپنے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کے ان تمام افراد کی طرف سے جنہوں نے قربانی نہ کی ہو۔
چھوٹے جانوروں میں ایک حصہ اور بڑے جانوروں میں سات حصوں کے ہونے کی احادیث بھی ہیں جن سے انکار نا ممکن ہے، معاملہ حسب حال تعمیل اور تطبیق کا ہے کہ کس صورت حال میں کس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ حالات میں مسئلہ کی تفہیم اور تعمیل یہ ہونی چاہیے کہ جو لوگ اب بھی خوش حال ہیں وہ حسب سابق ایک چھوٹا جانور ایک شخص کے نام سے کریں اور بڑے جانور کے سات حصے سات لوگوں کے نام سے منسوب کریں اور جو لوگ تنگ دستی کا شکار ہیں وہ ایک چھوٹے جانور کو پورے خاندان کی طرف سے اللہ کے نام قربان کر دیں۔
امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ابو اسد سلمی کی روایت کردہ ایک حدیث نقل کی ہے۔ راوی کے دادا اور دوسرے پانچ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے جانور کی قربانی میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سب لوگوں نے ایک ایک درہم جمع کیا اور سات درہم میں ایک جانور خریدا اور قربان کیا گیا۔ ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ بہت مہنگا پڑا تو آپ نے فرمایا مہنگا اور موٹا جانور قربانی کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر بھی بڑے جانور میں سات صحابہ کے شامل کیے جانے کی بابت ایک حدیث موجود ہے۔ ان دونوں حدیثوں سے یہ پیغام تو ضرور ملتا ہے کہ خاندان کے نمائندہ شخص نے اپنے نام سے بڑے جانور میں ایک حصہ کی قربانی کی لیکن یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ ان صحابہ نے اپنے اہل وعیال کے نام سے بھی قربانی کی تھی یا نہیں۔ ہاں ایک حدیث ایسی بھی ملتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کے نام ایک بڑے جانور کی قربانی دی تھی۔ اس حدیث میں یہ واضح نہیں ہے کہ کتنی زوجات کے نام اس میں شامل تھے، سب کے تھے یا صرف سات کے، سات کے تھے تو قربانی میں کن کے نام شامل تھے اور کن کے نہیں۔

ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک دنبہ اپنی امت کے نام اور دوسرا اپنے اہل وعیال کے نام قربان کر دیا تو اس کے بعد میں کئی سال بنو ہاشم کے درمیان رہا اور وہ لوگ قربانی نہیں کرتے تھے، کہتے تھے کہ رسول نے ہم لوگوں کی طرف سے قربانی کر دی ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ابو بکر اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما پابندی سے ہر سال قربانی نہیں کیا کرتے تھے کہ لوگ اسے فرض ہی نہ جان لیں۔
اتنی تفصیل میں جانے کا مطلب کوئی حتمی رائے دینا یا قطعی فیصلہ صادر کرنا نہیں ہے، کیوں کہ یہ میرا منصب ہی نہیں ہے۔ صرف یہ جتانا مقصود ہے کہ مسلمان جتنا جوش وخروش دکھاتے ہیں اور حالات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مقروض ہو کر بھی بہر حال شان وشوکت کے ساتھ قربانی کا مظاہرہ ضروری سمجھتے ہیں ایسے میں علما وخطبا کو اپنی ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے اور عوام کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی ضرور کرنی چاہیے۔
حنفیت، شافعیت، مالکیت اور حنبلیت کے برحق ہونے کی بابت علما اور اساتذہ جب بات کرتے ہیں تو یہ ضرور بتاتے ہیں کہ ان چاروں مسلک کے موجود ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ رسول کی کوئی سنت نہیں چھوٹتی، ہر ایک سنت پر ان چاروں مسلک میں سے کسی نہ کسی میں عمل ہو ہی جاتا ہے. ہمیں یہ بات اچھی لگتی ہے۔ یہ بھی اچھا لگتا ہے کہ ایک خطہ کے لوگ اگر حنفی ہیں تو وہ حنفیت ہی کو اپنائے رہیں، لیکن یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ ہنگامی/ایمرجنسی صورتِ حال میں بھی مشکلات کے باوجود حنفیت یا کسی بھی فقہی مسلک سے چمٹے رہیں جبکہ رسولِ رحمت کی صحیح حدیث اور ان کا عمل ہماری راحت رسانی کے لیے موجود ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "دین آسان ہے” اور "آسانیاں پیدا کرو اور مشکلات سے بچو”. کیا ہی بہتر ہو اگر ہم کبھی کبھی ان سنتوں پر بھی عمل کر لیں جن پر اب تک نہیں کر سکے ہیں۔
فقہ کی کتابوں میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں فقہائے احناف نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے فتوی واجتہاد کو چھوڑ کر امام ابو یوسف اور امام محمد کے اجتہاد کو اپنایا ہے. اگر بعض حالات میں ایک بڑے امام کے قول کو چھوڑ کر دوسرے چھوٹے امام کے قول کو اپنایا جا سکتا ہے تو مخصوص ہنگامی حالات میں امام کے اجتہاد کو چھوڑ کر رسول کی حدیث کو کیوں نہیں اپنایا جا سکتا! یا بالفاظ دگر رسول کی ایک حدیث/سنت پر عمل کو وقتی طور پر چھوڑ کر دوسری حدیث/سنت پر عمل کیوں نہیں کیا جا سکتا!
وبا اور قحط کے دور میں، بے روزگاری اور تنگ دستی کے حالات میں قربانی کے قانون میں احادیث کے مطابق استثنائی صورت یہ نکل سکتی ہے کہ ایک بکرا یا بکری پورے خاندان کے لیے کافی قرار دیا جائے اور بڑے جانور میں ایک حصہ بھی کافی سمجھا جائے۔ یہ فتوی نہیں، دعوت غور وفکر ہے. وما توفیقی الا باللہ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*