قربانی اور صفائی ـ عبدالغفار سلفی

 

اسلام صفائی اور طہارت کا دین ہےـ ہمارے دین میں ہر قسم کی نجاست سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہےـ جسم، دل، کپڑا، گھر سب کچھ پاک صاف رکھنے کی تعلیم کی گئی ہےـ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے. بغیر طہارت کے نماز مقبول نہیں ـ زکات کو مال کی طہارت کا ذریعہ قرار دیا گیا، روزہ کو نفس کی تطہیر کا سبب ٹھہرایا گیاـ الغرض پورا دین طہارت سے عبارت ہے، لیکن افسوس ایسے دین کو ماننے والے آج زندگی کے بہت سارے معاملات میں پاکی اور صفائی سے کوسوں دور ہیں ـ اخلاقی، ذہنی، جسمانی، معاشرتی ہر قسم کی غلاظتیں ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکی ہیں ـ

عید قرباں کی آمد آمد ہےـ یقیناً قربانی ایک عظیم عبادت ہی نہیں ایک شعار بھی ہے،مگر ہم ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک میں رہتے ہیں، یہاں بہت سے لوگ ایسے بھی رہتے ہیں جو گوشت بالکل نہیں کھاتے بلکہ اس سے تنفر رکھتے ہیں ـ ایسے ماحول میں ہمیں ویسے بھی بہت احتیاط رکھنی چاہیےـ قربانی کے فضلات و بقیات کو عام شاہراہوں پر رکھ دینا قطعاً غیر مناسب حرکت ہے. مسلم علاقوں میں ادھر ادھر قربانی کے فضلات پھینکنے کی وجہ سے ہفتوں بلکہ مہینوں فضا میں تعفن ہوتا ہے، گندگی کے سبب مختلف قسم کی بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ بھی ہوتا ہےـ یہ سب چیزیں خود ہمارے حق میں بھی مضر ہیں. برادران وطن یہ سب چیزیں دیکھ کر ہم سے اور متنفر ہوتے ہیں ـ

مسلمان اپنے کردار و عمل سے انسانیت کے لیے مفید ہوتا ہے، وہ لا ضرر ولا ضرار کے اصول پر عمل پیرا ہوتا ہے، اس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے یہ اس کی کوشش ہوتی ہےـ قربانی کے موقع پر بھی ہمیں یہ باتیں یاد رکھنی چاہیےـ

قربانی ہمارا دینی شعار ہے. ہم اسے بصد شوق کریں مگر دوسروں کے جذبات کا بھی لحاظ رکھیں. قربانی کے وڈیوز بنا کر سوشل میڈیا وغیرہ پر نشر کرنا بھی مناسب نہیں ـ حکومت، ملک، میڈیا کے کیا حالات ہیں کسی سے مخفی نہیں، ہماری ذرا سی بد احتیاطی سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ـ

رب العالمين ہماری قربانیاں قبول فرمائے، ہر قسم کے شر سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرمائےـ آمین