قربانی اورخواتین کاباہمی رشتہ 

 

سیدہ سارہ فاطمہ 

 مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی 

ہم لفظ ‘ قربانی’سے ایسے انجان بنے بیٹھے تھے کہ جیسے اس کا اور ہمارا دور دور تک کوئی تعلق ہی نہ ہو۔اب سوچتے ہیں تو اس بات پر ہنسی بھی آتی ہےاور تعجب بھی ہوتا ہے کہ جب یہی ہمارا سب سے بڑا ساتھی تھا ، تو پھر ہم کیسے اس سے بیگانہ تھے ۔ یہ لفط تو ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں لیکن کبھی اسےمحسوس کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ویسے ‘ قربانی ’کا مفہوم یا اس کا تصور ہر ایک کے لئے یکساں نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں قربان اور قربانی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہے۔ محسوس تو یوں ہوتا ہے اس لفظ یعنی قربانی سے ہمارا ناطہ صدیوں پرانا ہے۔ اوہ! معذرت چاہتی ہوں یہاں پر ہمارا سے مراد ہم ‘خواتین ’ ہیں۔ کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے ، لیکن حقیقت یہی ہے کہ عورت ذات سے قربانی کا تعلق بہت گہرا ہے۔ جب تک معصومیت یعنی بچپن کا دور تھا ہم یہ لفظ صرف سنا کرتے تھے، لیکن اس سے اتنا گہرا تعلق ہوگا یہ کبھی سوچا نہیں تھا۔ میرے خیال سے تو لڑکی کو لڑکی کے بجائے صرف قربانی بھی کہہ دیا جائے تو کوئی غلط بات نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ اسے ہر قدم پر اپنی ہر چیز قربان کرنی پڑتی ہے۔

بچپن میں جب بھی ‘قربانی ’ کا لفظ سامنے آتا توہمارے معصوم ذہن میں صرف بقرعید کے دن ہونے والی بکرے کی قربانی، یعنی اسے ذبح کرنے کا تصور ہی آتا تھا۔ لیکن بچپن سے جوانی کا سفر کچھ اس طرح گزرا کہ ہمیں ہمارے اس تصور پر اب خود ہمیں ہنسی آنے لگتی ہے۔ رسول ﷺ کی آمد سے پہلے د ور جہالت میں لڑکی( معصوم جان ) کوپیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔اس پرمختلف قسم کے ظلم کئے جاتے تھے۔یہ بھی تو اس وقت کی عورت کی قربانی ہی تھی۔لیکن جیسے جیسے دور جہالت ختم ہوالڑکیوں و خواتین کو عزت دی جانے لگی اور اسے ایک مقام عطاکیا گیا اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سب ہمارےپیارے محبوب ﷺ کی کوششوں سے ممکن ہو پایا۔لیکن آج عورت پھر ایک بار اسی صورت حال سے دوچار ہے۔وہ آج بھی قربانیوں پہ قربانیاں دیے جارہی ہے۔

یقیناً دور جہالت میں لڑکیوں کو زندگی سے آزاد کردیا جاتا تھا یعنی ان کے جسم اور ان کے مادی وجود کو دفن کردیا جاتا تھا لیکن آج اس کے معنوی وجود کو ختم کیا جارہا ہے۔ترقی کے اتنے مراحل طے کرلینے کے باوجود دنیا اس بات کو نہیں سمجھ سکی یا جان کر انجان بنی بیٹھی ہے۔ آج کے دور میں اس کے جذبات و احساسات کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ کیا یہ اس کی‘ قربانی ’نہیں ہے؟ سماج کے ڈر سے وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہے ،کیا یہ اس کی‘ قربانی ’ نہیں ہے؟ماں باپ،بھائیوں کے لئے اپنے جذبات کو اپنے سینے میں ہی دفن کر لیتی ہے کیا یہ ‘ قربانی ’ نہیں ہے؟ہم خواتین چاہے کتنے بھی صحیح کیوں نہ ہوں، لیکن یہ تصور کر کے خاموشی اختیار کرلیتی ہیں کہ میں تو ایک لڑکی ہوں میں کیا بولوں؟ اور میں یہ کیسے بھول سکتی ہوں کہ مجھے تو اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کا بھی حق نہیں ہے اور یہ سوچ کر خاموشی اختیار کرلینا،کیا یہ ‘ قربانی’ نہیں ہے؟ کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری زندگی ایک کٹھ پتلی کی طرح ہے جس میں ہم کٹھ پتلی تو ہیں،لیکن اس کی ڈور ہمیشہ کسی نہ کسی رشتے کے ہاتھ میں ہے۔ جب ڈور کھینچا سہم گئے اور جب ڈھیل دیاخود کو تھوڑا آزاد محسوس کرنے لگے۔ اپنی زندگی کی ڈور کسی اور کو سونپ دینے کے باوجود ہمیشہ رخسار پر اس طرح مسکراہٹ سجائے رکھناکہ گویا ہماری زندگی پر صرف ہمارا ہی اختیار ہے۔ کیا یہ جھوٹی مسکراہٹ ‘ قربانی ’ نہیں ہے؟ محفل میں اندر کی کیفیت کو چھپا کر مسکراہٹوں کا سمندر سجاکے رکھنااور تنہائی میں غم کی آندھیوں کا سامنا کرنا کیا ‘قربانی ’ نہیں ہے؟ جب تک ماں باپ کے گھر میں ہوں ماں باپ کی خوشی کے لئے، گھر والوں کی خوشی کے لئے اپنے سارے جذبات کوسلا کرخود کوبہلالینا، اسے خود سمجھالینا کیا ‘‘ قربانی’’ نہیں ہے؟

پھر وہ جب ماں باپ کے گھر سے جدا ہوکر دوسرے گھر یعنی سسرال چلی جاتی ہیں اور جسے بس قسمت کی ریکھائیں ہم سے ملادیتی ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہیں کہ چلو یہاں ہمیں قربانی سے چھٹکارا مل جائے گا۔ لیکن!بعدمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ جس طرح بچپن میں لفظ ‘قربانی ’ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی اسی طرح آج بھی یہ سمجھنے میں غلطی ہوگئی کہ ایک عورت کی زندگی میں ‘قربانی’سے پیچھا چھوٹ جائے گایہ تو بس ایک خوش فہمی ہی ہے جو ہم اپنے ذہنوں میں پال لیتی ہیں، کیوں کہ ‘قربانی’ ایک عورت کے لیے زندگی بھر کا ہم سفرہوتا ہے ۔ ہم نے سوچا کہ چلو اب یہ تو ہماری سسرال ہے ، میرا ہم سفر میرا شوہر میرے ساتھ ہے تو پھر کیسی قربانی ،یہاں کوئی تو ہے جو میرے جذبات کو سمجھے گا اور مجھے اپنے جذبات کی قربانی نہیں دینی پڑے گی۔ لیکن زندگی نے ہمیں پھر اسی جگہ لاکر کھڑا کردیا جہاں سے اپنے سفر کا آغاز ہوا تھا کہ یہاں بھی تمہیں اپنے دل کے اندر ایک ایسا مقبرہ بنانا ہوگا،جہاں تم پھر سے اپنے تمام جذبات و احساسات کو دفن کر سکو۔

بہت دیر تک اور گہرائی کے ساتھ سوچنے کے بعد میں نے یہ تسلیم کر ہی لیا کہ ‘ قربانی’ تو عورت کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے ساتھ لگی ہوتی ہے اور جو چیز اس کی پیدائش کےوقت سے اس کے ساتھ ہو توظاہر ہے وہ اس کی موت کے بعد اس کے ساتھ ہی دفن بھی ہوگی۔ اب توزندگی کا یہی ایک اصول بن گیا ہے کہ اگر دل کو کوئی ٹھیس پہنچے تو اسے اپنے دل میں اتارلو ، لڑو تو خود اپنے آپ سے ، پیار کرو تو خود اپنے آپ سے، ترس کھاؤتو خود اپنے آپ پر ، اور پھر ان سب کو یکجا کر کے اپنے قربانی کے مقبرہ میں دفن کردو۔

اس قربانی کی عید پر کچھ نہ سہی چلوہم اپنی حسرتیں ہی قربان کرتے ہیں، ہر حال میں ایک عورت کے لئے اس کی زندگی میں صرف ایک چیز ہی ہے جو اس کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی اور وہ ہے قربانی! قربانی! قربانی! قربانی!۔۔۔۔۔۔۔ ہر آہ میں ایسی تڑپ کہ اب تو اشک کو بھی رشک ہونے لگا،لیکن شکر ہے اس کو اتنی اجازت تو ہے کہ وہ کاغذ کے پنوں پر ہی سہی اپنے جذبات بکھیر سکتی ہے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*