قرآنِ پاک پر اعتراض ،شر میں خیر کا پہلو ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کسی دریدہ دہن نے قرآن پاک کی ’حقانیت‘ پر سوال اٹھایا ہے ۔ ماضیٔ بعید اور ماضیٔ قریب سے اس کی ڈھیروں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ چاند مل چوپڑا اس کی ایک مثال ہے ۔ ملعون چوپڑانے بھی قرآن ِ پاک پر دریدہ دہن وسیم رضوی ہی جیسے اعتراضات کیے تھے اور عدالت نے اس کی عرضی اس کے منھ پر دے ماری تھی۔ لیکن چاند مل چوپڑا اور وسیم رضوی میں ایک بڑا فرق ہے ۔ چوپڑا ایک غیر مسلم تھا اور وسیم رضوی مسلمان ۔ بھلے ہی مسلمان اُسے مسلمان نہ سمجھیں ، اور اب قرآن ِ پاک کی حقانیت کا انکار کرکے تو وہ ویسے ہی ارتداد کا مرتکب ہوگیا ہے ، لیکن ایک دنیااسے مسلمان ہی سمجھتی ہے ۔ چوپڑا اور رضوی کا یہ بنیادی فرق اس معنیٰ میں تشویش ناک ہے کہ اب وہ شرپسند جن کے دل بغض اور نفرت سے بھرے ہوئے ہیں یہ کہتے پھریں گے کہ ’دیکھ لیں یہ ہم نہیں کہتے یہ تو مسلمان ہی کہہ رہا ہے کہ قرآنِ پاک میں جہاد اور قتال کی آیات اللہ کی طرف سے اتری نہیں ہیں ،بلکہ بعد میں ڈالی گئی ہیں ۔ لہٰذا ان آیات کو حذف کیا جانا چاہیئے ۔ ‘ فرقہ پرست اپنے مطالبے کو جارحانہ بناسکتے ہیں ، جس کے نتیجے میں ملک کی فرقہ وارانہ فضا جو ویسے ہی مسموم ہےمزید زہریلی ہوسکتی ہے ۔ دوسری جانب چونکہ وسیم رضوی کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے اس لیے مسلکی فتنہ بھی منھ پھیلا کر سامنے آکھڑا ہوسکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ مسلکی فتنہ اگر شدت اختیار کرے گا تو مسلمانوں میں گروہ بندی بڑھے گی اور پہلے ہی سے منتشر یہ قوم مزید منتشر ہوجائے گی ۔
گویا یہ کہ مسلمان دوطرف سے ، بلکہ اگر یہ کہاجائے تو شاید زیادہ درست ہوگا کہ چاروں طرف سے گھیرے جاسکتے ہیں ۔ فرقہ پرست ایک جانب اور مسلکی شدت پسند دوسری جانب ۔ درمیان میں عام مسلمان ۔ اگر رضوی کے بیان پر غور کیا جائے تو یہ سچ سامنے آتا ہے کہ اسے ایک ’آلے‘ کے طور پر ۔ایک ایسے ’آلے‘ کے جو اپنے ’آقاؤں‘ کی ’خوشنودی‘ حاصل کرنے کے واسطے اپنے ’ استعمال‘ کے لیے تڑپتا رہتا ہے۔سامنے لایا گیا ہے ۔ یعنی منصوبہ بندی سے سازش رچی گئی ہے کہ مسلمان آپس میں لڑمریں اور جب کمزور ہوجائیں تو فرقہ پرست ان پر حاوی ہوجائیں ـ اس لیے جو قدم بھی مسلم جماعتیں ، تنظیمیں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اٹھائے، بہت سوچ سمجھ کر اٹھائے ۔ کوشش یہی کی جائے کہ مسلکی اختلافات دم توڑ دیں ۔ سب سرجوڑ کر بیٹھیں اور رضوی کی دریدہ دہنی سے نمٹنے کے لیے قانونی طریقۂ کار پر غور کریں ۔ بلاشبہ یہ شیعہ ، سُنّی اختلافات کو ہوا دینے کی سازش ہے ۔ لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر شر میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ہوتا ہے تو یہاں بھی خیرکا ایک پہلو نکل آیا ہے۔ یہ مسلمانوں کے تمام ہی مسالک کے لیے ، بشمول شیعہ ایک سنہرا موقع ہے کہ قرآنِ پاک کی بے حرمتی کے نام پر ایک اسٹیج پر آجائیں ، مشترکہ قانونی لڑائی لڑیں اور ان شرپسند ،فرقہ پرست عناصر کو جو مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دے کر اپنی ڈولتی ہوئی نیّا کو پارلگانے کی کوشش کررہے ہیں ،بتادیں کہ مسلمان اب ان کے دام میں آنے والا نہیں ہے ، ایک ملعون وسیم رضوی ساری قوم کو منتشر نہیں کرسکتا ، اور یہ کہ شیعہ ، سُنیّ ،دیوبندی، بریلوی، اہل ِ حدیث سب کے سب اس ملعون کے بلکہ تمام ملعونوں کے خلاف یکجٹ ہیں اور یکجٹ رہیں گے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*