قرآن کر یم کے فداکار شیخ محمد علی الصابونی ـ مولانا بدر الحسن القاسمی

انسان کی سعادت کے لیےاس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ اس کی زندگی کے لمحا ت قرآن کریم کی تلاوت اس کے معانی پر غور اس کی آیات میں تدبر اس سے احکام کے استنباط اس کے ختم نہ ہونے والے عجائب کے اکتشاف اس کے وجوہ بلاغت اس کے اسرار ورموز اور نفائس ولطائف کا سراغ لگانے میں بسر کر دے اور زندگی کے ایام اس طرح گزارے کہ خلقت اس دعوی کی تصدیق کرنے لگے :
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومی کبھی پیچ وتابِ رازی
قرآن کلام الہی ہے اور اس کا ہر حرف
ہر لفظ ہر جملہ اور ہر آیت:
کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست
شیخ محمد علی الصابونی یکم جنوری 1930کو شام کے مردم خیز شہر حلب میں پیدا ہوئے تعلیم کی تکمیل کے بعد مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے،1979 میں جب میں نے انہیں پہلی بار دیکھا تو” کلیة الشريعہ ” كے استاذتھے جو جامعہ ملک عبدالعزیز جدہ کے ماتحت تھا، مشہور مصنف ومفکر شیخ محمد الغزالی بھی رئیس قسم الدعوہ تھے اور ملاقات کی تقریب بھی عجیب ہوئی ـ
میرے ہاتھوں میں دار العلوم دیوبند کے اجلاس صدسالہ میں شرکت کےلیے دعوت نامے تھے جس کا مجھے مکلف بنایا گیا تھا، شیخ محمد الغزالی بعض سلفی نوجوانوں کے رویے سے بیزار بیٹھے تھے اور ٹیلیفون پر ان کی زبان سے یہ آتشیں جملے نکل رہے تھے:
"انهم براغيث لاسعة وزنابير هائجة ذهبت الي الظهران فقالوا لحيتك خفيفة وثوبك طويل(انت مسبل)”
ميں اپنی ناپختہ کاری کی وجہ سے شیخ سے الجھنے لگا کہ ڈاڑھی نہ رکھنا الگ مسئلہ ہے لیکن ڈاڑھی کے استہزا کا انداز مناسب نہیں ہے، شیخ نے حیرت سے اس نووارد کی طرف دیکھا کہ یہ نیا عجمی سلفی کہاں سے آگیا؟
اس موقع پر شیخ محمدعلی صابونی ظاہر ہوئے اور مجھے سمجھانے لگے کہ تمہاری بات ٹھیک ہے اور شیخ کا مقصد بھی وہ نہیں ہے جس کا تم کو شبہ ہواـ
یہ وہ زمانہ تھا جب شیخ صابونی پر پر دینی حلقے کا عتاب نازل نہیں ہوا تھا اور ان کی کتاب صفو ة التفاسير اور مختصر تفسير ابن كثير وغیرہ خوب تقسیم ہورہی تھیں ـ
مشہور تاجر حسن شربتلی کے خرچ پر چھپی ہوئی مکمل اور اجزا کی شکل میں ہزاروں کی تعداد میں بطور ہدیہ پیش کی جاتی تھیں پھر جب بڑے علما نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا تو اس کی نشرو اشاعت اور توزیع تقسیم پر مکمل پابندی لگ گئی اور 2008 میں اس کے خلاف متعلقہ شعبہ کا سرکلر آگیاـ
ناقدین میں مفتی اعظم شیخ ابن باز شیخ صالح الفوزان اور شیخ بکر ابو زید شیخ جمیل زینو اور شیخ البانی سبھی شامل تھے اور بنیادی اختلاف بعض صفات کی تاویل کے بارے میں تھاـ
شیخ نے طویل مضمون اپنے موقف کی وضاحت کیلئے لکھا لیکن مسئلہ اور الجھ گیا اور شیخ کے اشعری ہونے کی وجہ سے بات نہیں بنی اور تفویض کے مسئلہ میں الجھاؤ کی وجہ سے کسی متفقہ نقطہ پر پہنچنا ممکن بھی نہیں رہا:
وعیرنی الواشون انی احبھا
وتلک شکاة ظاھر عنک عارھا
شیخ صابونی نے قرآنیات پر جو کتابیں لکھی ہیں وہ متعدد ہیں ان میں زیادہ اہم یہ ہیں :
1۔ روائع البیان فی تفسیر آیات الأحکام
جو اردن اور بعض دوسرے ملکوں کے نصاب میں شامل ہےـ
2 _ صفوة التفاسير
3_قبس من القرآن
4 _الابداع البیانی
5_مختصر تفسیر ابن کثیر
6،_مختصر تفسیر الطبری
اس کے علاوہ دوسرے موضوعات پر بھی ان کی کتابیں ہیں جن میں
المواریث فی الشریعة الاسلامية
احكام الصلاة
احكام الزكاة
احكام الصيام
احكام الحج
دحض اباطیل حو ل زواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم
وغيره اہم اور مفيد ہيں ـ
شیخ محمد عوامہ کے تعزیتی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے آخری مرحلے میں صحیح بخاری شریف پر بھی کچھ لکھا ہے جس کی تفصیلات میرے علم میں نہیں ہیں
جدہ کے دوشنبہ والے دیوان خانےـ (اثنینیة عبد المقصود خوجه ) ميں اپنی تکریم کے دوران اپنے بعض ناقدین کی طرف سے تجہیل وتفسیق پر گہرے رنج و غم کا اظہار کررہےتھے،جبکہ سابق وزیراعلام محمد عبدہ یمانی سمیت کئی اہل علم و قلم نے ان کے کارناموں کو سراہا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیاـ
1980 کے بعد کئی سالوں تک صحن حرم میں مغرب اور عشا کے درمیانی وقفے میں حجر اسود اور رکن یمانی کے سامنے جو پر نور شکلیں نظر آتی تھیں ان میں شیخ محمد علی صابونی، شیخ محمود صواف اور ڈاکٹر محمد مظہر بقا خاص طور اپنی وضع قطع کے لحاظ سے نمایاں نظر آتے تھے ـ
شیخ کے ایک بھائی ضیاء الدین صابونی بھی ہیں جو نہایت برجستہ گو شاعر ہیں اور دینی مجلسوں کی رونق ہوتے ہیں،وضع قطع میں بھی دونوں ایک جیسے لگتے ہیں ـ
بروز جمعہ 19 مارچ 2021 کو تقریبا 91 سال کی عمر میں ترکی کے شہر یلوا میں انہوں نے جا ن جان آفریں سپرد کی ـ انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ان کی قرآن کریم کی خدمات کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی ترقی درجات کا باعث بنائے اور ان کا حشر صدیقین و صالحین کے زمرے میں فرمائےـ آمین