قرآن کریم اور اس کی 26آیتیں ـ مولانا ارشد مدنی

گزشتہ چند دنوں سے ملک میں قرآن شریف کی ۲۶؍ آیتوں کے متعلق یہ آواز زیادہ زور پکڑ رہی ہے کہ قرآن مسلمانوں کو مشرکین (مورتی پوجکوں) کے قتل کرنے اور مار ڈالنے کا حکم دیتا ہے اس لیے قرآن کی جن جن آیتوں میں مورتی پوجکوں کو قتل کرنے کا حکم آیا ہے ان کو قرآن سے نکالا جائے، کیونکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کسی بھی غیر مسلم اور مورتی پوجک کو دنیا میں جینے کا حق نہیں دیتا اور اس کے ساتھ اچھے رہن سہن کو ناجائز سمجھتا ہے، حالانکہ قرآن شریف میں سورت نمبر۶۰؍آیت نمبر ۸ – ۹ میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اے مسلمانو! اللہ تم کو منع نہیں کرتا ان لوگوں سے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور انھوں نے نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ کرو ان سے بھلائی اور انصاف کا سلوک بے شک اللہ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اللہ تو منع کرتا ہے تم کو ان لوگوں سے جو تم سے دین پر لڑے ہیں اورانھوں نے دین پر تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور’’ شریک ہوئے تمہارے نکالنے میں‘‘ کہ ان سے دوستی کرو اور جو کوئی ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ گناہگار ہیں‘‘۔
یہ قرآن کا ایک عام حکم ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن غیر مسلموں کے ساتھ اچھے سلوک اور اچھے رہن سہن سے ہر حال میں منع نہیں کرتا، بلکہ وہ مشرکین کے ایک خاص گروہ سے جو مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر جینے کا حق نہیں دیتا تھا قتل وقتال کرتا تھا، مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نکالتا تھا اور ان کی جائدادوں پر قبضہ کر لیتا تھا، ان کے ساتھ دوستی کرنے اور دوستی رکھنے سے منع کرتا ہے۔
اسی طرح سورت نمبر۴؍آیت نمبر۹۰؍ میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
’’سوائے (ان مورتی پوجکوں کے) جو ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں جن میں اور تم میں مصالحت ہے، یا خود تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ اور اپنی قوم کے ساتھ بھی لڑنے سے تنگ (منقبض) ہوں (یہ اللہ کا انعام ہے نہیں تو) اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط (دلیر) کر دیتا اور وہ تم سے لڑنے لگتے، پھر اگر وہ مشرک لوگ تم سے ایک طرف ہو جائیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے کنارہ کش رہیں تو اللہ نے تم کو ان پر کوئی راستہ نہیں دیا‘‘۔
اس آیت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی مشرکین کے ساتھ قتل وقتال کا حکم دیا جارہا ہے وہ عام مورتی پوجکوں اور مشرکوں کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی مشرکین کے ساتھ ہے جو کسی حال میں بھی سرزمین عرب میں کسی جگہ بھی مسلمانوں کو جینے اور رہنے کا حق نہیں دیتے تھے۔
جس کی مختصر سی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ کو جزیرۃ العرب مکہ میں پیدا فرمایا یہاں کے رہنے والے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اسی کو دین سمجھتے تھے حضرت محمد ﷺ چالیس سال کی عمر تک ان ہی لوگوں میں نہایت شرافت اور پاکدامنی کے ساتھ رہتے رہے جب نبی کریم ﷺکو ۴۰؍ سال کی عمر میں نبوت ورسالت کی ذمہ داری ملی اور آپ نے اللہ کے حکم سے ایک اللہ کی عبادت کی تبلیغ شروع کردی تو مکہ کے رہنے والے چونکہ بت پرستی کرتے تھے اس لئے مکہ والوں نے اللہ کے رسول اور ان کے متبعین کو بڑی بڑی تکلیفیں دینا شروع کردیں پھر بھی اس کے بعد ۱۳؍ سال تک اللہ کے حکم پر آپ مکہ میں ہی مقیم رہے اور اپنی قوم کے ظلم وتشدد کو خود آپ ﷺ اور آپ کے گنے چنے شیدائی رات اور دن سہتے رہے، اس کے علاوہ ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں تھا کہ یہ لوگ اس ماحول میں جہاں مکہ والوں نے ۳۶۰؍ بت کعبۃ اللہ میں اور اس کے ارد گرد رکھ رکھے تھے، وہاں یہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے، چنانچہ مکہ کے مورتی پوجکوں کے ظلم وتشدد سے تنگ آکر ۸۰؍ کے قریب مسلمان اللہ کے نبی ﷺکی اجازت سے گھر بار اور آل اولاد چھوڑ کر سکون کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے حبشہ چلے گئے۔
مکہ معظمہ میں ۱۳؍ سال تک آپ کے ہاتھ میں کوئی طاقت نہیں تھی اگر طاقت ہو سکتی تھی تو اپنے خاندان اور قبیلہ کی طاقت ہو سکتی تھی مگر وہ سب کے سب مذہب کی بنیاد پر آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے شدید مخالف تھے اور ایسی ایسی تکلیفیں دیتے تھے جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، جب ایک دن اپنے اور پرائے مکہ کے بڑے بڑے سردار اپنے ہاتھوں سے آپ کو قتل کرنے کے لیے تیار ہو کر جمع ہوگئے تو اللہ کے حکم پر اور اللہ کی حفاظت میں آپ ان ہی لوگوں کے درمیان سے نکلے اور مدینہ منورہ آگئے، اس سفر میں آپ کے ساتھی اور خدمت گزار صرف حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے۔
یہاں آکر اب اللہ کے نبی ﷺ نے پہلی اسلامی حکومت قائم کی جس کا کیپٹل مدینہ منورہ کو بنایا اور تمام وہ چیز یں جن کی کسی حکومت کو ضرورت ہوتی ہے وہ سب مہیا کیں یہاں آپ کی وفادار اور آپ کے اشارہ پر مرنے اور مٹنے والی فوج بھی ہے آج کی اصطلاح میں بیت المال (اسٹیٹ بینک) بھی ہے قید خانہ بھی ہے غرض وہ تمام چیزیںہیں جن کی ضرورت تھی۔
اور اللہ کے رسول ﷺ اور مکہ سے آنے والے (دیش تیاگ کرنے والے) آپ کے ساتھیوں نے بھی مدینہ ہی کو اپنا وطن بنا لیا۔
مکہ کے رہنے والے لوگ اس کو کب گوارا کر سکتے تھے کہ جن لوگوں کو بے سروسامانی اور بے بسی کی حالت میں اپنے گھر مکہ سے نکالدیا وہ کھلم کھلا ایک اللہ کی عبادت کرنے لگیں اور حکومت قائم کر کے بیٹھ جائیں اور ان کا سکہ عرب میں چلنے لگے؛ چنانچہ دشمنی کی آگ اور طاقت کے نشے میں اپنے پہلوان لڑاکو اور سرداروں کو لے کر ہتھیاروں سے سج دھج کر بدر کے میدان میں ان بے سہارا لوگوں کو تہس نہس کرنے کے لیے اور پہلی اسلامی حکومت کو بے نام ونشان کرنے کے لیے جمع ہو گئے، لیکن حکومت اور طاقت تو اللہ کی ہے اس نے ان بے سہارا تھوڑے سے لوگوں کے ہاتھوں سے ان کی ایسی درگت بنائی جس کا مکہ کے قریش تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اس ذلت ورسوائی اور ہزیمت نے ایک طرف تو مسلمانوں کے حوصلہ کو بڑھایا دوسری طرف قریش کے دل میں دشمنی کی ایسی آگ لگا دی جس کی صحیح تصویر کھینچنا بھی مشکل ہے، دشمنی کی اسی آگ کے نتیجہ میں شکست کے بعد پے در پے ’’احد‘‘ اور ’’احزاب‘‘ کی لڑائیوں میں قریش مکہ نے مدینہ پر چڑھائی کی ہے اللہ کے رسول اور مسلمانوں نے مکہ پر نہیں۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد یہ حقیقت سامنے آجانی چاہئے کہ قرآن میں جہاں بھی مورتی پوجک اور مشرکین کے ساتھ قتال اور لڑائی کا حکم آرہا ہے وہ سب مورتی پوجک اور مشرکین کے ساتھ نہیں بلکہ ان ہی لوگوں کے بارے میں آرہا ہے جن کے سینے مسلمانوں کی دشمنی کی آگ سے تندور بنے ہوئے ہیں، نہیں تو کسی غیر مسلم کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھے رہن سہن کا حکم ہمیشہ سے ہر مسلمان کے لیے وہی ہے جس کو اس مضمون کی ابتدا میں سورت نمبر ۶۰؍ کی آیت نمبر۸؍ میں بتایا گیا ہے جو لوگ تمام غیر مسلموں کو ہمیشہ جہاں تہاں قتل کر ڈالنا اسلام کی تعلیم سمجھتے ہیں انھوں نے اسلام کو کچھ بھی نہیں سمجھا اسلام اللہ کا بھیجا ہوا ایک آسمانی مذہب ہے اور کوئی آسمانی مذہب اللہ کے بندوں کے قتل کا حکم ظالمانہ طور پر نہیں دیتا ہاں اللہ کے بھیجے ہوئے مذہب کا چراغ گل کرنے کے لیے یا اسلامی حکومت کی جڑ کھودنے کے لئے کوئی حکومت یا طبقہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اسلام کی ان کے ساتھ کوئی صلح نہیں ہے۔
اس مختصر سی تمہید کو سامنے رکھنے اور سوچنے پر یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ ایسی دشمنی رکھنے والے اور حکومت کی جڑ اکھاڑنے والے لوگوں کو آج بھی دنیا میں کوئی دودھ نہیں پلاتا بلکہ ان کے ساتھ وہی کیا جاتا ہے جو اسلام نے کیا اور قرآن کی آیاتِ قتال میں اس کو بیان فرمایا اور سورہ نمبر ۶۰؍کی آیت نمبر ۹؍ میں اسی مضمون کو واضح طور پر ظاہر بھی فرما دیا۔
اس مذکورہ حقیقت سے ناواقف لوگ ان آیتوں کو مذہب کی بنیاد پر تمام مشرکین کی مخالفت اور قتل کے معنٰی میں لیتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے سورہ نمبر ۶۰؍ آیت نمبر ۸؍ یہ بتا رہی ہے کہ وہ غیر مسلم جو تمہارے دشمن نہیں ہیں تم ان کے ساتھ اچھے سلوک اور اچھے ویوہار کے پابند ہو۔
ایک اور آیت: جس کو ان ۲۶؍ آیتوں میں پیش کیا جاتاہے وہ سورۃ نمبر ۹؍ کی آیت نمبر۲۸؍ ہے جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ اے ایمان والو شرک کرنے والے ناپاک ہی ہیں تو وہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں‘‘۔
یہاں بھی یہ سمجھاجاتا ہے کہ اس سے مراد تمام شرک کرنے والے اور اللہ کے ساتھ بتوں کی عبادت کرنے والے ہیں، لیکن خود آیت میں ’’شرک کرنے والے ناپاک ہیں‘‘کے ساتھ ’’وہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں‘‘ یہ بتا رہا ہے کہ یہ وہ ہیں جن کا کوئی گناہ کا کام کعبۃ اللہ کی عظمت کے خلاف ہو رہا تھا اس لیے ان کو بیت اللہ اور مسجد حرام کے قریب بھی آنے سے منع کیا گیا ہے، اور شرک کے ساتھ ساتھ یہ ناپاک کام ان خاص مشرکین کے ناپاک اور نجس ہوجانے کا سبب ہے چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے بعد پہلے حج کے موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جن باتوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا ان میں یہ بھی ایک خاص کام تھا کہ اس سال کے بعد کوئی سر سے پیر تک ننگا دھڑنگا کعبۃ اللہ کا طواف نہیں کرے گا کیونکہ قرب وجوار کے غیر مسلم لوگ کعبۃ اللہ کا طواف مادر زاد برہنہ اور ننگے کیا کرتے تھے، یعنی اس برہنگی اور ننگے پن کو انھوں نے اپنے دین کا حصہ بنا رکھا تھا جس طرح ہماری زبان میں اگر عقل کے خلاف کوئی کام کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ’’اس شخص کی عقل پر پتھر پڑگئے‘‘ یا ’’عقل پر کتے موت گئے ہیں‘‘ قریب قریب اسی طرح یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی عظمت وجلال والے گھر کے طواف جیسے مقدس عمل اور عبادت کو مادر زاد برہنگی کی گندی شکل میں عبادت کا روپ دے رکھا ہے ان کا یہ کام ہی نہیں گندا ہے بلکہ وہ تو کل کے کل گندے ہیں۔
جو لوگ مذہب کی بنیاد پر اسلام میں غیر مسلموں کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں انھوں نے صرف قرآن کی کچھ آیتوں کے ترجمے کو پڑھ لیا اور اس کی تفسیر کو نہیں پڑھا اسی لیے ان کو ٹھوکر لگی ہے اگر وہ سورۃ نمبر ۶۰؍کی آیت نمبر۸؍ اور آیت نمبر۹؍ کے معنٰی پر غور کر لیتے اور ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قتل وقتال کی آیتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو بات صاف ہو جاتی؛ کیونکہ یہ قتل وقتال کی آیتیں اگر تمام مشرکوں کے لئے ہوتیں تو سورہ نمبر ۶۰؍ کی آیت نمبر ۸؍ میں اور سورۃ نمبر ۴؍ آیت نمبر ۹۰؍ میں عام مورتی پوجکوں کے ساتھ اچھے ویوہار اور قتل وقتال نہ کرنے کی بات قرآن میں کیسے کہی جاسکتی تھی؟۔
قرآن اللہ کی کتاب ہے اس کا ایک ایک حرف صحیح ہے دنیا کا ہر مسلمان ۱۴۰۰؍ چودہ سو سال سے اسی عقیدہ کے ساتھ پڑھتا پڑھاتا ہے مرتا اور جیتا ہے اس کو غلط کہنا سراسر غلط ہے ہاں اپنے اشکال کو دور کرنے کے لئے تفسیر پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*