قرآن حکیم کے خلاف ہرزہ سرائی ـ معصوم مرادآبادی

قرآن حکیم کے خلاف ایک ملعون کی ہرزہ سرائی نے اسلامیان ہند کے جذبات کو بری طرح مجروح کردیا ہے۔یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ رہتی دنیا تک اسی حالت میں باقی رہے گا۔ اس میں نہ تو کسی تبدیلی کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تحریف ممکن ہے۔ قرآن کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ ماضی میں جس کسی نے قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے، وہ عبرتناک انجام سے دوچار ہوا ہے اور انشاء اللہ مستقبل میں بھی ہوگا۔ اللہ کے کلام پر کسی بھی قسم کی حرف گیری کرنا دراصل خالق کائنات سے جنگ کرنے کے مترادف ہے اور جن لوگوں نے بھی ایسی جرات کی ہے، انھیں قدرت نے نشان عبرت بنادیا ہے۔وسیم رضوی نام کے ایک بدبخت نے حال ہی میں سپریم کورٹ میں مفاد عامہ ایک عرضی داخل کرکے 26 آیات کو(نعوذ باللہ) قرآن پاک سے خارج کرنے کی اپیل کی ہے۔اس بدبخت کا کہنا ہے قرآن کی یہ آیات تشدد اور دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہیں، اس لیے انھیں (نعوذباللہ) قرآن کریم سے خارج کردیا جائے۔ اس عرضی پرنہ تو سپریم کورٹ نے کوئی نوٹس لیا ہے اور نہ ہی یہ بے ہودہ عرضی ابھی عدالت میں سماعت کے لیے منظور ہوئی ہے، لیکن اس سے متعلق خبروں کی اشاعت نے مسلمانوں میں جو ہیجان برپا کردیاہے، اسے پوری طرح لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔اردو اخبارات اس کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں اور ملعون وسیم رضوی کی چوطرفہ مذمت ہورہی ہے۔اس کی گرفتاری کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔عرضی گزار وسیم رضوی اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کا چیئرمین رہ چکا ہے اور وہاں اس نے اوقاف کی جائیدادوں کو خردبرد کرنے کا جو کام کیا ہے، اس کے خلاف سی بی آئی انکوائری چل رہی ہے۔اپنے آپ کو قانون کے پھندے سے بچانے کے لیے اس نے حکمراں بی جے پی کی پناہ لے رکھی ہے اور وہ اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ہر برا کام انجام دے رہا ہے۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن کے دوران اس نے ایودھیا میں یہاں تک کہا تھا کہ اگر مودی جی چناؤہارگئے تو وہ خودکشی کرلے گا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملعون رضوی نے قرآن حکیم کے خلاف عدالت کا دروازہ بھی ان ہی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا ہے،جن کے آگے وہ آج کل سجدہ ریزہے۔ کیونکہ ماضی میں بھی سنگھ پریوار کے لوگ اس قسم کے بے ہودہ مطالبات کرتے رہے ہیں اور انھوں نے اللہ کے کلام کو اپنی دریدہ دہنی کا نشانہ بنایا ہے، لیکن اب انھیں اس کام کے لیے مسلمانوں جیسا نام رکھنے والا ایک ایسا ابن الوقت میسر آگیا ہے جو اپنی گردن بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔لیکن اس ملعون کا المیہ یہ ہے کہ اس نے جو کام خود کو بچانے کے لیے کیا تھا، اس سے اس کی جان کے ہی لالے پڑگئے ہیں اور اب وہ ایک بار پھر خودکشی کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ وسیم رضوی کی اس دریدہ دہنی کے خلاف ملک کے تمام علماء نے یہ اعلان کیا ہے کہ اسے نہ تو ہندوستان کے کسی قبرستان میں دوگززمین دی جائے گی اور نہ ہی کوئی اس کی نماز جنازہ پڑھائے گا۔تمام مسلکوں کے علماء نے متفقہ طورپر اس کو اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے۔ ان میں شیعہ علماء پیش پیش ہیں۔یہاں تک کہ لکھنؤ کے ایک شیعہ قبرستان میں اس کی ’حیاتی قبر‘ کو بھی مسمار کردیا گیا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں ہی محفوظ کرالی تھی اور اس پر اپنا کتبہ بھی لگوالیا تھا۔
وسیم رضوی پر اس وقت زمین تنگ ہوچکی ہے۔ اس کے گھروالوں نے اسے عاق کردیا ہے۔ اس کے بیوی اور بچے بھی اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور وہ اس وقت کسی نامعلوم مقام پر روپوش ہوگیاہے۔ وہاں سے اس نے جو ویڈیو جاری کی ہے اس میں صاف طورپر کہا ہے کہ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہواتو وہ ’سوسائڈ‘ کرلے گا۔ ظاہر ہے اس کے پاس اب خودکشی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا ہے، کیونکہ کلام الٰہی کے خلاف ہرزہ سرائی کے نتیجے میں خدا کی زمین اس پر تنگ ہوگئی ہے اوراسے ہر طرف اندھیرا نظر آرہا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ملعون نے قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 1985میں چاندمل چوپڑا نام کے ایک خبیث نے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے (نعوذباللہ)پورے قرآن پر ہی پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔یہ عرضی اس وقت کی خاتون جج پدما خست گیر نے سماعت کے لیے منظور کرلی تھی۔ اس واقعہ کے بعد بھی ملک گیر سطح پر مسلمانوں میں ایسا ہی ہیجان برپا ہوگیا تھا جیسا کہ اس وقت وسیم رضوی کی عرضی پر ہوا ہے۔ مغربی بنگال میں اس وقت کمیونسٹ حکومت تھی اور وزیراعلیٰ کی کرسی پر قدآورکمیونسٹ لیڈر جیوتی باسو موجود تھے۔ وہ اس واقعہ پر بہت ناراض ہوئے – انھوں نے اسمبلی میں بیان دے کر نہ صرف یہ کہ اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ قرآن کے دفاع میں یہ مقدمہ خود مغربی بنگال کی حکومت لڑے گی۔حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کمیونسٹوں کا مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہے اور وہ دہرئیے ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی کام لے لیا۔کمیونسٹ حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل سپانشو اچاریہ نے محاذ سنبھالا اور ان کی مدد کے لیے ایڈوکیٹ خواجہ محمدیوسف پیش ہوئے۔ دونوں نے ہی طے کیا کہ قرآن مجید کی جن آیات کو بنیاد بناکر مقدمہ دائرکیا گیا ہے، ان پر کوئی بحث نہیں ہوگی بلکہ بحث صرف اس سوال پر ہوگی کہ کیا کسی آسمانی صحیفے پر مقدمہ چل سکتا ہے۔ اس مقدمے کے عینی گواہ اور ملک کے سب سے سینئر صحافی احمدسعید ملیح آبادی کا کہنا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل سپانشو اچاریہ نے اپنی بحث شروع کی اور ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک قرآن کی حقانیت پر ایسی شاندار تقریر کی کہ ہائی کورٹ کے درو دیوار سے حق کی خاموش صدائیں سنائی دینے لگیں۔ایڈوکیٹ جنرل کی تقریر جیسے ہی ختم ہوئی مرکزی حکومت کے اٹارنی جنرل مسٹر پراسرن عدالت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل نے جو کچھ کہا ہے،وہ اس کی تائید کرتے ہیں۔ جسٹس براک نے جن کی عدالت میں یہ مقدمہ سماعت کے لیے منتقل ہوا تھا، ذراسی دیر میں فیصلہ سنادیا۔ انھوں نے چاند مل چوپڑاکا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ کسی آسمانی کتاب پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔
جیوتی باسو نے ایک بہترین حکمراں کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھائی اور اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے بھی اٹارنی جنرل کو کلکتہ بھیج کر اپنا انسانی فریضہ نبھایا۔لیکن آج صورتحال قطعی مختلف ہے کیونکہ آج مرکز میں ایک ایسی حکومت ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی ہم نوا نہیں ہے بلکہ وہ اس قسم کی بے ہودہ چیزوں کو ہوا دینے پر یقین رکھتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملعون وسیم رضوی نے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی جوعرضی داخل کی ہے، اس کا ڈرافٹ سنگھ پریوار کے ہی کسی فرد نے تیار کیا ہے کیونکہ اس میں جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں وہ سبھی اعتراضات وہی ہیں جو سنگھ پریوار کے لوگ قرآن کے بارے میں اٹھاتے رہے ہیں۔وسیم رضوی کا حال یہ ہے کہ وہ نہ تو اردو جانتا ہے اور نہ ہی عربی سے اس کی کوئی شناسائی ہے۔ ایسے میں قرآن پاک یا اس کی تفسیر کو سمجھنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ عدالت عظمیٰ اس بے ہودہ ااور شرانگیز عرضی کو نہ صرف یہ کہ سماعت کے لیے قبول نہیں کرے گی بلکہ نقص امن کے اندیشے کے پیش نظر عرضی گزار پر بھاری جرمانہ بھی عائد کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرے گی۔
اس قضیہ کا ایک خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اس نے تمام مسلکوں کے ان علماء کو ایک اسٹیج پر لاکھڑا کیا ہے، جو اپنے اپنے فروعی اختلافات کی وجہ سے کبھی یکجا نہیں ہوتے۔ شروع میں کچھ مفسد عناصر نے اس قضیہ کو شیعہ سنی تنازعہ بناکر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس معاملے میں شیعہ علماء نے جس کثرت کے ساتھ وسیم رضوی کی مذمت کی، اس سے ان عناصر نے بھی منہ کی کھائی جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ملت کا شیرازہ بکھیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلک کی بنیاد پر مسلمانوں میں لاکھ اختلافات ہو ں، لیکن وہ قرآن کے معاملے میں متحد ہیں۔اس وقت ملک کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جو سیلاب ہے، اس کا بھی یہ تقاضا ہے کہ وہ متحد ہوکر اس کا مقابلہ کریں۔ اگر وہ اپنے فروعی اختلافات کی بنا پر ٹکڑوں میں بٹے رہے تو ان کی ہوا اکھڑ جائے گی۔قرآن کا واضح پیغام ہے کہ ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔“

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)