قرآن ،سائنس اور موریس بوکائلے- مفتی محمد قاسم اوجھاری

 

موریس بوکائلے (Maurice Bucaille) کی پیدائش 1920 میں ہوئی تھی، وہ ایک فرانسیسی طبیب تھے، جو جامعہ پیرس کے ہسپتال میں رئیس جراحی کے طور پر کام کرتے تھے۔ اور فرانس کی Medical association کے چیف تھے۔ ساتھ ہی ایک بہترین مصنف بھی تھے، کئی ساری کتابیں تصنیف کیں، ان کا انتقال 1998ء میں پیرس میں ہوا، ان کی سب سے زیادہ شہرت کی وجہ ان کی کتاب "بائبل، قرآن اور سائنس” ہے، جس میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کی کوئی عبارت سائنسی نقطۂ نظر کے خلاف نہیں ہے، جبکہ بائبل میں بہت سی عبارتیں جدید سائنسی حقائق کی نفی کرتی ہیں۔ ان کی یہ فرانسیسی کتاب بہت مقبول ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ اسلامی دنیا میں بھی یہ کتاب بہت مقبول ہوئی مگر مغرب میں زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ وجہِ بغض بن گئی اور انھوں نے اسے "بیوکلیذم” کا نام دیا۔

 

بتایا جاتا ہے کہ آپ 1973ء میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل کے ذاتی معالج (family physician) مقرّر ہوئے۔ 1973 ہی کا واقعہ ہیکہ آپ شاہ فیصل کا علاج کرنے کے لئے سعودی عرب گئے۔ شاہ فیصل کسی کام میں مشغول تھے۔ اس لئے ان سے تھوڑی دیر انتظار کرنے کے لئے کہا گیا۔ آپ لکھتے ہیں کہ جس کمرہ میں میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس کمرہ میں ایک قرآن رکھا ہوا تھا۔ چونکہ میں خالی تھا اسلئے میں نے اس قرآن کو اٹھاکر پڑھنا شروع کردیا، جب میں اس قرآن کو پڑھ رہا تھا تو مجھے لگا کہ اس کے اندر بہت ساری آیتیں میڈیکل سائنس سے متعلق ہیں، میں نے ان ساری آیتوں کو نوٹ کرلیا۔ اور جب فرانس واپس آیا تو ان ساری آیتوں پر تحقیق کی تو ان میں ایک آیت بھی ایسی نہیں تھی جو سائنس سے ٹکراتی ہو، میں نے سوچا کہ جن چیزوں کو میڈیکل سائنس نے آج دریافت کیا ہے، اس کتاب کے اندر آج سے چودہ سو سال پہلے کس نے ان باتوں کو لکھ دیا۔ بس یہ وہ واقعہ تھا جو میرے اسلام لانے کا سبب بنا۔ اس کے بعد انہوں نے بائبل کے اندر سے بھی وہ آیتیں نکالیں جو سائنس سے متعلق تھیں اور ان پر بھی تحقیق کی، تو اس میں ایک آیت بھی سائنس کے لحاظ سے درست نہیں تھی۔ اس کے بعد اسی کو لے کر انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے۔ The Bible, the Quran and science

 

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو قرآن Maurice Bucille کی زندگی کو بدل سکتا ہے، ان کو سیدھا اور سچّا راستہ دکھا سکتا ہے۔ اور ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ کیا وہ قرآن ایک مسلمان کی زندگی کو نہیں بدل سکتا؟ اس کو سیدھا راستہ نہیں دکھا سکتا؟ ہم میں اور Maurice Bucille میں فرق یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو پہلی بات تو پڑھتے ہی نہیں اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو سمجھے بغیر صرف تلاوت اور ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں اس لئے ہمیں قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہوپاتا، قرآن پڑھنے کے بعد بھی ہماری زندگی میں کوئی بدلاؤ نہیں آتا جبکہ Maurice Bucille نے اس قرآن کو پڑھا تو سمجھ کر پڑھا اور اس کی ایک ایک آیت پر خوب غور کیا جس کے نتیجے میں ان کے سامنے ہدایت کے راستے کھل گئے۔ اگر ہم بھی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی دنیوی و اخروی زندگی سنوارنا چاہتے ہیں تو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھیں، ان شاء اللہ ہمارے لئے بھی ہدایت کے سامان مہیا ہوں گے، یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو غور وفکر اور تدبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ دنیا کی اکثر زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمے اور تفسیریں لکھی جا چکی ہیں، اور بڑے پیمانے پر ان کی نشر و اشاعت بھی ہو رہی ہے، اس لئے نابلد ہونے کا سوال اب بے معنی ہے، اگر ہم قرآن کریم کو اس کے معنی اور مفہوم کے ساتھ غور وفکر اور تدبر کی نظر سے پڑھیں گے تو ہمارے سامنے بھی علوم و معارف کے ذخیرے کھلیں گے، جن کی روشنی میں ہم ان شاءاللہ راہ یاب ہو جائیں گے۔