قرآن کے قدیم ترین مخطوطے کا مسئلہ اور مرتدین کا اعتراض ـ یاسر ندیم الواجدی

 

مستشرقین، مرتدین اور ملاحدہ ایک عرصے سے یہ اعتراض اٹھاتے آئے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کا قدیم ترین مخطوط آٹھویں صدی ہجری کا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد کے لوگوں نے قرآن لکھا ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن پیش کیا تھا وہ مسلمانوں کے پاس موجود نہیں ہے۔

 

ایسا ہی ایک چیلنج مرتد ‘سچ والا’ نے بھی ایک تحریر جاری کرکے دیا ہے، وہ لکھتا ہے:

 

قرآن نامی کتاب جو آج ہمارے ہاتھ میں پائی جاتی ہے وہ تو آٹھویں صدی عیسوی بلکہ اس کے بھی بعد کی لکھی ھوئی ھے، آج پوری دنیا میں نہ تو نبوی دَور کا مکمّل مخطوط مصحف کہیں پایا جاتا ھے نہ ھی صدیقی دور کا مکمّل مخطوط مصحف کہیں پایا جاتا ھے نہ فاروقی دور کا نہ عثمانی دور کا کوئی مکمّل مخطوط مصحف پایا جاتا ھے نہ علوی دور کا اور نہ تو کسی کبارِ صحابہ کے دور کا کوئی مکمّل مخطوط مصحف دنیا جہاں میں کہیں پایا جاتا ھے، کہیں بھی نہیں، بالکل بھی نہیں!

چاھے وہ ازبکستان کے تاشقند والے مکتبة الإدارة الدینیة کا میوزیم ہو، یا ترکی کے استنبول والے آیا صوفیہ ٹوپ کاپی کا میوزیم ہو، یا مصر کا صدر مقام قاہرہ کے المشھد الحسینی کا میوزیم ہو، یا برطانیہ کے مشہور شہر برمنگھم کی یونیورسٹی کا میوزیم ہو یا پھر یمن کے معروف شہر صنعاء والی الجامع الکبیر کا تہہ خانہ ہو، ان ساری جگہوں پر جتنے کچھ نسخے اور مخطوطے پائے گئے، ان میں سے کسی بھی مخطوطے کو نہ تو مکمّل قـرآن کہا جا سکتا ھے اور نہ ھی ان میں کا کوئی بھی نسخہ اپنے دوسرے کسی نسخے سے حرفی و لفظی مطابقت رکھتا ھے، ماھرینِ مخطوطات کے مطابق باھم دِگر ان تمام نسخوں میں ھزاروں فروق و اختلافات پائے گئے، مزید برآں، سب سے بڑی بات یہ کہ دنیا بھر میں آج کسی بھی مقام پر کوئی بھی قدیم ترین مخطوط مصحف آٹھویں صدی عیسوی سے پہلے کا نہیں پایا جاتا، ان میں سے سب کے سب مخطوط نسخے آٹھویں نویں بلکہ دسویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں۔

اب دنیا کا کوئی بھی مسلم سکالر یا ماھرِ مخطوطاتِ قرآنیہ اپنے نبی کے زمانے کا مکمّل مخطوط مصحف اگر مجھے دِکھا ڈالے تو مَیں لائیو چیانل پر برملا انداز میں ایمان لے آنے اور اسلام قبول کرنے کو تیار ہوں!!”۔

 

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ چیلنج سوائے دجل کے کچھ نہیں ہے۔ مسلمانوں کا یہ مسلمہ موقف ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں مصحف عثمانی تیار ہونے کے بعد، تمام قدیم قرآنی صحف اور تحریروں کو ایک عظیم تر حکمت کے تحت ضائع کر دیا گیا تھا۔ لہذا اگر حضرت عثمان کے تیارکردہ مصحف کا اوریجنل مخطوطہ دستیاب بھی ہوجائے، تب بھی مرتدین یہی اعتراض کریں گے کہ قرآن حضرت عثمان کا لکھوایا ہوا ہے، اس کا وحی الٰہی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

 

دوسری بات یہ ہے کہ کسی کتاب کی نسبت اس کے مصنف کی طرف ہونے کے لیے یہ کیا ضروری ہے کہ مصنف کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ماسٹر کاپی بھی دنیا میں موجود ہو۔ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں، گزشتہ 50 سال پہلے لکھی ہوئی کتنی کتابوں کی ماسٹر کاپی (یعنی مصنف کا قلمی نسخہ) دنیا میں موجود ہے؟ علمی دنیا اس بات پر متفق ہے کہ ماسٹر کاپی کا وجود اس بات کی دلیل ضرور ہے کہ فلاں کتاب فلاں دور میں لکھی گئی، لیکن اس کا موجود نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ کتاب فلاں دور میں نہیں لکھی گئی۔ بالفاظ دیگر اصل قلمی مخطوط دلیلِ اثبات تو ہے، دلیلِ نفی نہیں ہے، جب کہ دوسرے دلائل اس کے اثبات کے لیے موجود ہوں۔

 

تیسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم ضرور لکھوایا تھا، لیکن یہ لکھوانا قرآن کی حفاظت کا ثانوی ذریعہ تھا۔ قرآن کی حفاظت کا اولین ذریعہ، اتنی بڑی تعداد کا قرآن کو سینے میں محفوظ کر لینا تھا جو عقلی طور پر جھوٹ پر متفق نہیں ہوسکتی۔ اگر ہمارا یہ دعوی ہوتا کہ قرآن کے محفوظ ہونے کی دلیل اس کے قدیم ترین نسخے ہیں، تو ہم سے عہد نبوی کے قرآنی نسخہ کا مطالبہ کسی حد تک درست ہو سکتا تھا۔ ہمارا دعوی تو یہ ہے کہ قرآن کریم ہم تک تواترا پہنچا ہے۔ آج بھی قرآن کے بعض نسخوں میں پرنٹنگ کی غلطی ہوجاتی ہے، لیکن حفاظِ قرآن اس غلطی کو بہت آسانی کے ساتھ پکڑ لیتے ہیں۔

 

لہذا اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لیے یا تو مرتدین یہ ثابت کریں کہ تواتر سے علم یقینی حاصل نہیں ہوتا، یا یہ ثابت کریں کہ مسلمانوں کا دعوائے تواتر اس لیے غلط ہے کہ فلاں فلاں نسل نے قرآن کو اگلی نسل تک اُس طرح نہیں پہنچایا جیسا کہ اس نے پچھلی نسل سے لیا تھا۔ یہ دونوں ہی باتیں صبح قیامت تک ثابت نہیں کی جا سکتیں۔

 

البتہ ہم اگر عیسائیوں سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ اپنی مذہبی کتاب کے غیر محرف ہونے کو ثابت کرنے کے لیے قدیم ترین نسخے پیش کریں۔ مثلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کی بائبل کا نسخہ پیش کریں، تو ہمارا یہ مطالبہ درست ہے، اس لیے کہ ان کے مذہبی لٹریچر میں تواتر نام کی کوئی چیز نہیں ملتی ہے۔ زبانی روایت (اورل ٹریڈیشن) کی اصطلاح ضرور ملتی ہے، لیکن اس کے معتبر ہونے کے لیے سند کا وجود ضروری ہے اور مذہبی صحیفوں کی سند ان کے یہاں معدوم ہے۔ اوپر ذکر کردہ اصول (ماسٹر کاپی دلیل اثبات ہے، دلیل نفی نہیں ہے) کی بنا پر ہم یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ بائبل میں موجود بہت سی باتیں، حضرت عیسی علیہ السلام کے دور کی ہیں، لیکن بائبل وغیرہ کا غیر محرف ہونا ایک دعوی ہے جس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور دلیل موجود نہیں ہے۔ قرآن کریم کا غیر محرف ہونا بھی ایک دعوی ہے جس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور دلیل تواتر کی شکل میں موجود ہے۔

 

مرتدین کا مسئلہ یہ ہے کہ کسی چیز کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ پہلے اپنے خانہ زاد اصول پیش کرتے ہیں اور ان اصولوں کو ثابت کیے بغیر مسلمانوں سے جواب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس لیے جواب دینے سے پہلے ہمیشہ ان کے اصولوں کو پرکھیے، ان سے ان کے بنائے ہوئے اصولوں کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل کا مطالبہ کیجیے۔

 

آپ مرتد ‘سچ والا’ کو ہی دیکھ لیجیے۔ ایک طرف اس کا ماننا یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، مسلمانوں نے اس نام سے ایک فرضی کردار گڑھ لیا ہے، دوسری طرف وہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا قرآنی نسخہ دکھلاو۔ جب اس کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی ثابت نہیں ہے، تو آپ کے دور کا قرآنی نسخہ کہاں سے ثابت ہوگا۔ اگر مستقبل میں عہد نبوی کا قرآنی نسخہ کہیں سے دستیاب بھی ہوگیا، تو یہ مرتدین مطالبہ کریں گے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ جبریل علیہ السلام نے یہ کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا تھا۔ ہم جب تک جبریل سے خود بات نہ کرلیں، تب تک یہ تسلیم نہیں کریں گے۔ بالفرض اگر حضرت جبریل سے بات بھی کرلیں، تو کہیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ آج کے دور میں جادو کو نفسیاتی بیماری کہہ دیا جاتا ہے، تو حضرت جبریل سے ملاقات کو اپنی نفسیاتی بیماری قرار دے لیں گے، لیکن حق کبھی قبول نہیں کریں گے، کفار ومشرکین انبیاء علیہم السلام کے معجزات دیکھ کر جادو کا ہی بہانہ تراشتے تھے۔ الّا یہ کہ اللہ تعالی ان کے دلوں کے بند دروازے کھول دے اور ان کو ہدایت کی توفیق دے دے۔