Home اسلامیات قرآن کا ایک بھولا ہوا سبق:حالات حاضرہ کے تناظر میں-اسانغنی مشتاق رفیقی

قرآن کا ایک بھولا ہوا سبق:حالات حاضرہ کے تناظر میں-اسانغنی مشتاق رفیقی

by قندیل

قرآن دنیا کی وہ واحد احکامی کتاب ہے جس کے پڑھنے والے بے شمار ہیں لیکن اُس کو سمجھنے والے محدود ، اس کے حفاظ کروڑوں میں مل جائیں گے لیکن اس کے احکامات پر عمل کرنے والے گنے چنے، شاید ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی گھر ہو جہاں اس کا نسخہ موجود نہ ہو پر یہ احکامی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ حصول برکت کی نیت سے ہوگا۔ عجیب بات ہے مسلمان اس بات کو بطور عقیدہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کی ہر بات منجانب اللہ ہے اور یہ دعوٰی بھی کرتے ہیں کہ قرآن بلا تفریق ہر عربی عجمی، مشرقی مغربی، کالے گورے، عالم جاہل ہر انسان  کی ہدایت کے لیے  ہے کہ جو اللہ نے اپنے آخری پیغمبر محمد عربیﷺ پر قیامت تک کے آنے والے انسانوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیا ہے، وہیں کبھی کھلے طور اور کبھی دبے دبے انداز میں اس بات کا اقرار بھی کرتے نظر آتے ہیں کہ قرآن کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے کئی علوم میں مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔ حالانکہ موقع بموقع وہ بڑے زعم سے اور پوری خوش الحانی کے ساتھ قرآن کی وہ آیات بھی پڑھتے جس میں قرآن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے آسان بنا کر اتارا گیا ہے مثلاً،

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ – سورة القمر

اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا

 كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ – سورة ص

یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل کیاہے کہ لوگ اس کی آیتوں پہ غوروفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا – سورة محمد

کیایہ لوگ قرآن میں غورنہیں کرتے ؟

 اس بات کو موجودہ دور کے مسلمانوں کی کم نصیبی کہیں یا بے عقلی کہ وہ اپنے پاس ایک شاندار احکامی کتاب رکھتے ہوئے بھی جس پر عمل پیرا ہو کر ان کے آباؤ اجداد نے کئی صدیوں تک ایک عالم پر زمینی اور روحانی حکمرانی کی اور انسانوں کو فلاح و بہبودی والا راستہ دکھایا، نہ اس کو سمجھنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہ اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ کبھی اپنے بد ترین حالات اور مشکلات میں اس پر غور و خوض کر کے ان سے نکلنے کے لیے  کوئی منطقی راہ ڈھونڈنے کی سعی کرتے ہیں۔ بس زیادہ سے زیادہ خراب اور مشکل حالات میں بطور وظیفہ اس کی تلاوت کو کافی سجھ کر اس کی ورق گردانی کر لیتے ہیں اور پھر اسے چوم کر کسی اونچی جگہ پر حصول برکت کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ آج ہم لوگ جن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے اور رب العزت نے اسے ایک امتحان گاہ بنا کر انسانوں کو یہاں پیدا کرنا شروع کیا تبھی سے حق اور باطل میں کشمکش اس دنیا کے وجود کا اک حصہ بنی ہوئی ہے۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ باطل ایک مدت تک بظاہر طاقتور اور ناقابل تخسیر اور حق پسپا ہوتا نظر آتا ہے لیکن اچانک پانسا پلٹتا ہے اور حق باطل پر غالب آجاتا ہے۔ در حقیقت یہ اس امتحان کا ایک حصہ ہے کہ جس کے نتائج پر انسانوں کے اُخروی فلاح کا تعین ہوگا۔ ایسے حالات میں جب ہر طرف باطل کا بول بالا ہو حق پرستوں کو کیا کرنا چاہئے اس کی صحیح رہنمائی قرآن میں کئی مثالوں کے ساتھ سجھائی گئی ہے۔

دنیا بھر میں حق اور باطل کی کشمکش آج ایک نئے اور الگ انداز میں سامنے آئی ہے۔ باطل ہر جگہ مال ودولت کے انباروں کے ساتھ  سیاسی اقتدار سے لیس ‘أَنَا رَبُّکمُ الْأَعْلَی’ کی عملی تفسیر بنا ہوا ہے  تو حق مضمحل اور شکست خوردہ نظر آرہا ہے۔ بالکل قوم مصر،فرعون اور بنی اسرائیل کی طرح، جب وہاں کی ایک بڑی اکثریت اپنے حاکم کی اندھ بھگتی میں بنی اسرائیل نامی ایک کمزور اقلیت کے درپے ہو گئی۔ فرعون کوئی عام بادشاہ نہیں تھا وہ ایک نظریہ رکھتا تھا اور اس نظریے کی سر بلندی اس کا مقصد حیات تھا۔ اس کے لئے اس نے اپنی قوم کے جذبات کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کیا اور کس طرح انہیں اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کیا قرآن میں اس تعلق سے واضح آیات موجود ہیں،

وَ نادى‌ فِرْعَوْنُ في‌ قَوْمِهِ قالَ يا قَوْمِ أَ لَيْسَ لي‌ مُلْكُ مِصْرَ وَ هذِهِ الْأَنْهارُ تَجْري مِنْ تَحْتي‌ أَ فَلا تُبْصِرُون‌؛(سورہ زخرف ) اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا: اے میری قوم کیا مصر کی مملکت میری نہیں ہے اور میرے قدموں کے نیچے بہنے والی نہریں کیا میری ملکیت نہیں ہیں ؟! کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ؟!۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یا أَیهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَکم مِّنْ إِلَهٍ غَیرِی (سورۃ القصص) اور فرعون نے کہا: اے درباریو!میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا،

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ وَ جَعَلَ أَهْلَها شِيَعاً يَسْتَضْعِفُ طائِفَةً مِنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْناءَهُمْ وَ يَسْتَحْيي‌ نِساءَهُمْ إِنَّهُ كانَ مِنَ الْمُفْسِدين‌؛ (سورۃ القصص)  فرعون زمین پر سرکش بن گیا اور اس نے اہلِ زمین کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا جن میں سے ایک گروہ کو ضعیف و کمزور کر دیا، ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیا کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا بے شک وہ فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔

إِلى‌ فِرْعَوْنَ وَ مَلاَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَ ما أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشيد ( سورۃ ھود) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، پس انہوں نے فرعون کے امر کی پیروی کی اور فرعون کا امر عقلمندانہ نہیں۔

وَ أَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَ ما هَدى ( سورۃ طہٰ) اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کر دیا اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھا

ان آیات کو ہمارے موجودہ حالات پر چسپاں کر کے دیکھیں، کیادونوں میں حیرت انگیز مماثلت نہیں ہے؟ یہ اور بات ہے ظلم کی شکلیں مختلف ہوگئی ہیں لیکن شر اور فساد پھیلانے میں دونوں کا طریقہ کار ایک ہی ہے۔ اہل زمین کو گروہوں میں تقسیم کرنا اور پھر انہیں آپس میں لڑانا یہ ازل سے باطل کا معمول رہا ہے۔ اس کے علاوہ طاغوت کا یہ بھی معمول رہا ہے کہ وہ حق پرستوں کو شر اور فساد پھیلانے والوں سے تعبیر کر کے ان  کے گمراہ ہونے کا زور و شور سے پروپگنڈا کرتا ہے۔

وَ قالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوني‌ أَقْتُلْ مُوسى‌ وَ لْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخافُ أَنْ يُبَدِّلَ دينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَساد (سورۃ المؤمن) اور فرعون نے کہا:مجھے چھوڑدو تاکہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو بلالے۔بیشک مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فسادظاہر کرے گا۔

یہ آیت تو کھلے طور پر موجودہ فسطائی طاقتوں کی ذہنی عکاسی کررہی ہے کہ وہ کس طرح حق کو فساد کہہ کر دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنے مذہب کے خطرے میں ہونے کی بات کہہ کر حق کے خلاف ماحول تیار کرتے ہیں۔ ان حالات کے درمیان حق کو کیسے بلند کیا جائے اور باطل کی ریشہ دوانیوں سے خود کو اور اہل حق کو کیسے بچایا جائے اس پر قران مجید صاف الفاظ میں کہتا ہے

فَأْتِياهُ فَقُولا إِنَّا رَسُولا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنا بَني‌ إِسْرائيلَ وَ لا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْناكَ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكَ وَ السَّلامُ عَلى‌ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدى‌؛( سورۃ طہٰ)  پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، اس سے جا کر کہو: ہم تیرے ربّ کے رسول ہیں پس ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو آزاد چھوڑ دے اور ان کو مزید عذاب میں مبتلا مت کر، ہم تیرے ربّ کی جانب سے تیرے پاس نشانی لے کر آئے ہیں اور اس پر سلام ہو جس نے ہدایت کی اتباع کی۔

وَأَوْحَيْنا إِلى‌ مُوسى‌ وَأَخيهِ أَنْ تَبَوَّءا لِقَوْمِكُما بِمِصْرَ بُيُوتاً وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقيمُوا الصَّلاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنين‌؛(سورۃ یونس) اور ہم نے موسی اور ان کے بھائی کی طرف وحی کی کہ  اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور تم لوگ اپنے گھروں کو قبلہ قرار دو اور نماز قائم کرو اور تم مومنین کو بشارت سنا دو۔

ان آیات سے اور ان جیسے دیگر آیات سے جو فرعون اور بنی اسرائیل کو لے کر قران میں موجود ہیں یہ  واضح ہوتا کہ ایسے حالات میں نماز کا قیام یعنی رجوع الی اللہ بے حد ضروری ہے، اس کے بعد وقت کے نبی کی قیادت میں مجتمع ہونا اولین مرحلہ ہے، چونکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ اب ختم ہوچکا ہے اس لیے کسی امیر کی قیادت میں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بے باک ہو اور باطل سے لڑ جانے کا حوصلہ رکھتا ہو اس کے تابع ہوکر، اگر یہ امر محال نظر آئے تو ایک جماعت کی قیادت میں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی مشترکہ قیادت میں کیا تھا اور اپنے حالات کو سنوارنے میں کامیاب ہوئے۔

ماحصل بس یہی ہے کہ کلمہ کی بنیاد پر مجتمع ہوکر قرآن کو مضبوطی سے تھام کر باطل سے ٹکرانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرکےاس پر استقامت کے ساتھ جم جانا ہے۔ چاہے فرعون وقت کا پورا لشکر ہی ہمارے پیچھے کیوں نہ پڑ جائے رب عظیم حالات کے نیل کو چیر کر ہمیں سرخروئی عطا کرے گا۔ اس کے لیے مشترکہ قیادت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون جیسا عظم اور حوصلہ، باطل کو اس کے دنگل میں پہنچ کر للکارنے کی جرات اور قوم میں قیادت کی ہر حال میں اطاعت، چاہے اس کے لیے ذہن و دل کتنا ہی انکار کیوں نہ کرے بے حد ضروری ہے۔ اس بات کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے قرآن کا کوئی بھی ترجمہ پڑھ کر اور غور وفکر کر کے دیکھ لیں، ان شاءاللہ آپ کے ذہن میں عمل کے اتنے  دریچے وا ہوں گے کہ آپ کلام اللہ کی وسعت، گہرائی اور گیرائی  پر حیران رہ جائیں گے۔ ہمارے آباؤ اجداد جن کے کارناموں پر باطل آج بھی لرزاں ہوجاتا ہے ، کی کامیابی کا واحد راز یہی تھا کہ وہ قران کے قاری ہی نہیں اس پر مکمل یقین کے ساتھ عمل کرنے والے بھی تھے اور یہی وہ بات ہے جو آج ہم میں نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم بہت کچھ رکھتے ہوئے بھی ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ اقبال نے بالکل صحیح کہا:

وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر

اور ہم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر

You may also like