Home تجزیہ قیادت ہی کا فقدان بھی ہے اور بحران بھی! – ابوالاعلی سید سبحانی

قیادت ہی کا فقدان بھی ہے اور بحران بھی! – ابوالاعلی سید سبحانی

by قندیل

ممبئی کے ایک ملی صحافی جناب محمود دریابادی صاحب کی طرف سے سوال اٹھایا گیا کہ “قیادت کا فقدان یا تسلیم قیادت کا بحران، مسلمانوں کا حقیقی مسئلہ کیا ہے؟”

اور پھر آگے مضمون میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تسلیم قیادت کے بحران کو ثابت کرنے اور پھر موجودہ تمام بحرانی حالات کے لیے خود ملت کو قصوروار ٹھہرانے پر پورا زور صرف کردیا گیا۔

میرا خیال ہے کہ قیادت کی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ رخ اختیار کیا جاتا ہے کہ قیادت کو تسلیم ہی کب کیا گیا ہے! حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قیادت کو بحیثیت مجموعی پوری ملت پہلے بھی تسلیم کرتی تھی اور آج بھی تسلیم کرتی ہے۔ مزعومہ مملکت خداداد والی قیادت کے پیچھے بھی کروڑوں مسلمان تھے اور بھارت میں رہ جانے والی ملی قیادت کے پیچھے بھی کروڑوں مسلمان تھے۔ جمعیت میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اسعد مدنی، مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کو حاصل قیادت کی پوری لیگیسی کے پیچھے بھی کروڑوں مسلمانوں کا ان کو قائد تسلیم کرنا ہے۔

اختلاف، مخالفت یا نازیبا رویوں کے چند ایک واقعات کو عمومی رویہ قرار دے دینا اور یہ بات کہنا کہ مولانا حسین احمد مدنی تک کے ساتھ ایسا اور ایسا رویہ اختیار کیا گیا، بہت ہی غیرمعروضی اور بہت ہی سطحی اندازِ دفاع ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ مسلمانانِ ہند کے یہاں تسلیم قیادت کا یہ مزاج خالص عقیدت سے جڑا ہوا ہے، اور اس عقیدت اور اندھی تسلیم قیادت کا استحصال بھی خوب ہوا ہے اور آج تک ہورہا ہے۔

اس سلسلہ میں اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ اگر عوام قیادت سے متنفر ہیں یا قیادت سے غیر مطمئن ہیں تو اس کے ذمہ دار عوام نہیں ہوتے، بلکہ اس کی ذمہ دار بھی خود قیادت ہوتی ہے۔ عوامی ذہن سازی اور عوامی رجحان سازی پورے طور پر قیادت کا کام ہے۔ سوئے اتفاق کہ قیادت کے سامنے اس سلسلہ میں کوئی واضح پروگرام یا خطوط کار نہ پہلے تھے اور نہ اب ہیں۔

محمود دریابادی صاحب نے ایک بات اور کہی ہے، “ کل سے ایک تحریر گشت کررہی ہے جس کا عنوان ہے ” قیادت نے بہت مایوس کیا ” ……… ٹھیک ہے اگر ایسا ہے تو آسان علاج ہے……… قائد بدل لیجیے ”۔ یہ بات بہت ہی حیرت انگیز ہے۔ نہ جانے وہ کس بے خیالی میں یہ بات لکھ گئے!!! قیادت آپ کے سر پر رکھی ٹوپی نہیں ہے کہ جب جس رنگ اور جس روپ کی چاہو اٹھاکر سر پر رکھ لو۔ قیادت اور عوام کے درمیان کا فلسفہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قیادت، خاص طور پر مذہبی قیادت عوام پر ایک بار سوار ہوجاتی ہے تو اس کو اتارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، وہ عوام کے ذہن ودماغ اور وسائل پر عقیدت کے راستے سے قبضہ کرتی ہے اور ان کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ پھر وہ جس رخ پر چاہے اور جب تک چاہے اس کا استحصال کرتی رہتی ہے۔

یاد رکھیں، سوال کرنے والے اور تنقید کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں، لیکن یہ بہت پریشان کن ہوتے ہیں ایک کمزور قیادت کے لیے اور بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں ایک مضبوط قیادت کے لیے۔ یہ سوال کرنے والے عہد رسالت میں بھی موجود تھے، اس زمانے میں وہ امت کے لیے رحمت اور نعمت تھے، کیونکہ وہاں قیادت بہت مضبوط اور بہت اعلی تھی، وہ قیادت سوال کرنے والوں کو بہت قیمتی سمجھتی تھی، ان کے سوالات کو ایڈریس کرتی تھی اور ان کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھاتی تھی اور اپنے پاس سب کے لیے اطمینان اور بھرپور اطمینان کا سامان رکھتی تھی۔

بہرحال، صورتحال کا تجزیہ بہت ہی ایمانداری اور مکمل معروضیت کے ساتھ ہونا چاہیے، ورنہ بلیم گیم کا ایک لامتناہی سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like